بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 8 hadith
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کہا کرتے تھے اے اللہ! میں تیری فرمانبرداری اختیار کرتا ہوں اور میں تجھ پر ایمان لاتا ہوں۔ اور میں تجھ پر توکل کرتا ہوں۔ اور میں تیری طرف جھکتا ہوں۔ تیری مدد سے ہی میں مقابلہ کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں تیری عظمت کی پناہ میں آتا ہوں ـــ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ــــ کہ وہ مجھے گمراہ قرار دے۔ تو ہی زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں آئے گی جبکہ جن و انس مر جائیں گے۔
حضرت ابودرداءؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ ہے ’’اے اللہ میں تجھ سے تیری اور ہر اس شخص کی محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہے۔ اور ہر وہ عمل جو مجھے تیری محبت تک پہنچائے۔ اے اللہ میرے لئے اپنی محبت کو میری جان و مال، اہل و عیال اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ عزیز کر دے‘‘۔ راوی کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ حضرت داؤدؑ کا ذکر کرتے تو فرماتے کہ وہ بندوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔
حضرت انسؓ نے نبیﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا تین باتیں جس میں ہوں وہ ایمان کا مزا پا لیتا ہے۔ یہ کہ اللہ اور اس کا رسول تمام دوسری چیزوں سے بڑھ کر اس کو پیارے ہوں اور یہ کہ جس انسان سے بھی محبت کرے صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے محبت کرے اور یہ کہ کفر میں لوٹنا ایسا ہی برا سمجھے جس طرح وہ آگ میں پھینکے جانے کو برا سمجھتا ہے۔
حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدوی نے نبی ﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہ! قیامت کب ہو گی؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم نے اس کے لئے تیاری کیا کی ہے؟ بدوی نے جواب دیا میں نے نماز روزہ اور صدقے کے ذریعہ تو قیامت کے لئے کوئی زیادہ تیاری نہیں کی البتہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ محبت رکھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا تجھے اس کا ساتھ نصیب ہو گا جس سے تجھے محبت ہے۔
حضرت اسید بن حضیر انصاریؓ کے بارہ میں روایت ہے کہ ایک دن لوگوں میں بیٹھے ہنسی مذاق کی باتیں کر رہے تھے ــــ آپؓ کی طبیعت میں مزاح پایا جاتا تھا ــــ کہ نبیﷺ نے ان کے پہلو میں اپنی چھڑی چبھوئی۔ اس پر وہ کہنے لگے میں نے تو بدلہ لینا ہے آپؐ نے فرمایا اچھا آؤ اور بدلہ لے لو۔ اس پر وہ کہنے لگے آپؐ نے تو قمیض پہنی ہوئی ہے اور میں تو ننگے بدن ہوں اس پر نبیﷺ نے بدلہ دینے کے لئے اپنی قمیض کو اوپر اٹھایا۔ یہ دیکھ کر حضرت اسید بن حضیرؓ آپﷺ سے لپٹ گئے اور جسد مبارک کے بوسے پر بوسے لینے لگے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! میرا تو یہ مقصد تھا (میں نے تو یہ برکت حاصل کرنے کے لئے دل میں یہ تدبیر سوچی تھی)۔
حضرت اسید بن حضیر انصاریؓ کے بارہ میں روایت ہے کہ ایک دن لوگوں میں بیٹھے ہنسی مذاق کی باتیں کر رہے تھے ــــ آپؓ کی طبیعت میں مزاح پایا جاتا تھا ــــ کہ نبیﷺ نے ان کے پہلو میں اپنی چھڑی چبھوئی۔ اس پر وہ کہنے لگے میں نے تو بدلہ لینا ہے آپؐ نے فرمایا اچھا آؤ اور بدلہ لے لو۔ اس پر وہ کہنے لگے آپؐ نے تو قمیض پہنی ہوئی ہے اور میں تو ننگے بدن ہوں اس پر نبیﷺ نے بدلہ دینے کے لئے اپنی قمیض کو اوپر اٹھایا۔ یہ دیکھ کر اسید بن حضیرؓ آپﷺ سے لپٹ گئے اور جسد مبارک کے بوسے پر بوسے لینے لگے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! میرا تو یہ مقصد تھا۔
حضرت عبدالرحمن بی ابی قرادؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک روز وضو کر رہے تھے کہ آپﷺ کے صحابہ وضو والا پانی اپنے ہاتھوں اور چہروں پر ملنے لگے۔ یہ دیکھ کر نبی ﷺ نے فرمایا ایسا تم کس سبب سے کر رہے ہو؟ صحابہ کرام نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کی وجہ سے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے واقعی محبت کرتے ہو اور چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ بھی تم سے محبت کرے تو اس کے لئے تمہیں یہ کرنا چاہئے کہ ہمیشہ سچ بولو، جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں کبھی خیانت نہ کرو اور اپنے پڑوسی سے ہمیشہ حسن سلوک کرو۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی قراد ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک روز وضو کر رہے تھے کہ آپﷺ کے صحابہ وضو والا پانی اپنے ہاتھوں اور چہروں پر ملنے لگے۔ یہ دیکھ کر نبیﷺ نے فرمایا ایسا تم کس سبب سے کر رہے ہو؟ صحابہ کرام نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت کی وجہ سے۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا اگر تم اللہ اور اس کے رسولﷺ سے واقعی محبت کرتے ہو اور چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کا رسولﷺ بھی تم سے محبت کرے تو اس کے لئے تمہیں یہ کرنا چاہئے کہ جب بات کرے تو سچ بولے، جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں کبھی خیانت نہ کرو اور اپنے پڑوسی سے ہمیشہ حسن سلوک کرو۔