بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 44 hadith
حضرت عمران بن حصینؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر لڑتا رہے گا جو ان کی مخالفت رکھے گا وہ ان پر غالب آئیں گے یہاں تک کہ ان کے آخری مسیح الدجال سے لڑیں گے۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہاد تم پر واجب ہے، ہر امیر کے ساتھ شامل ہو کر، چاہے وہ نیک ہو یا بد۔ اور نماز تم پر فرض ہے ہر مسلمان کے پیچھے، نیک ہو یا بد، اگرچہ وہ گناہ کبیرہ کرے۔ اور نماز ِ (جنازہ) تم پر فرض ہے ہر مسلمان کی چاہے وہ نیک ہو یا بد اور اگرچہ اس نے گناہ ِ کبیرہ کیا ہو۔
حضرت عمر بن خطابؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے (ہمیں ایک جنگی ضرورت کے لئے خدا کی راہ میں) مال خرچ کرنے کی تحریک فرمائی۔ ان دنوں میرے پاس کافی مال تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا اگر میں ابوبکرؓ سے آگے بڑھ سکتا ہوں تو آج موقعہ ہے۔ میں اپنا مال لے کر آیا۔ رسول اللہﷺ نے دریافت فرمایا (عمر! کتنا مال لائے ہو اور) کس قدر بال بچوں کے لئے چھوڑ آئے ہو، میں نے عرض کیا حضور! آدھا مال لایا ہوں اور آدھا چھوڑ آیا ہوں۔ اور حضرت ابوبکرؓ جو کچھ ان کے پاس تھا وہ سب لے کر آ گئے۔ حضور علیہ السلام نے ابوبکرؓ سے دریافت فرمایا ابوبکرؓ! اپنے گھر کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے؟ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا (حضور! جو کچھ میرے پاس تھا وہ سب لے آیا ہوں اور) بال بچوں کے لئے اللہ اور اس کا رسول چھوڑ آیا ہوں۔ (یعنی خداتعالیٰ پر توکل ہے)۔ (حضرت عمرؓ کہنے لگے یہ سن کر) میں نے (اپنے آپ سے کہا) کہ میں ابوبکرؓ سے کبھی بھی نہیں بڑھ سکتا۔
حضرت عقبہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعہ تین آدمیوں کو جنت میں داخل کریگا۔ اس کا بنانے والا جس کی اس کے بنانے میں نیکی کی نیت ہو اور اسے چلانے والا اور پکڑانے والا۔ پس تیر چلاؤ اور گھڑ سواری کرو۔ اور اگر تم تیر اندازی کرو تو یہ تمہاری گھڑ سواری سے مجھے زیادہ پسند ہے۔ مشغلے تین ہی ہیں، اپنے گھوڑے کو سکھانا اور اپنی بیوی سے کھیلنا اور اپنے کمان سے اور تیر سے تیر اندازی کرنا۔ اور جس نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے چھوڑ دی تو یہ ایک نعمت ہے جسے اُس نے چھوڑا ہے یا فرمایا اس نے اس کی نا شکری کی ہے۔
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کی راہ میں کسی غازی کو سازو سامان سے تیار کیا تو گویا خود ہی جنگ کے لئے نکلا اور جس شخص نے اللہ کی راہ میں کسی غازی کی اچھی جانشینی کی تو گویا وہ خود بھی جنگ کے لئے نکلا۔
حضرت معاذؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا غزوہ اور جہاد میں دو طرح کے انسان شامل ہوتے ہیں۔ ایک وہ شخص جو خدا کی رضا کے لئے جہاد کرتا ہے امام کی اطاعت کرتا ہے اپنا عمدہ مال خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ اپنے ساتھی کے ساتھ نرم سلوک کرتا ہے اور فتنہ و فساد سے بچا رہتا ہے ایسے شخص کو سونے اور جاگنے سب حالات میں ثواب ملتا ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جو فخر اور نام و نمود کے لئے جہاد میں شامل ہوتا ہے۔ امام کی نافرمانی کرتا اور زمین میں فتنہ و فساد پھیلاتا ہے۔ ایسا شخص بے نصیب اور نامراد ہے کچھ بھی حاصل نہ کر پائے گا۔
حضرت معاذؓ بن جبل بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا غزوہ اور جہاد میں دو طرح کے انسان شامل ہوتے ہیں۔ ایک وہ شخص جو خدا کی رضا کے لئے جہاد کرتا ہے امام کی اطاعت کرتا ہے اپنا عمدہ مال خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ اپنے ساتھی کے ساتھ نرم سلوک کرتا ہے اور فتنہ و فساد سے بچا رہتا ہے ایسے شخص کو سونے اور جاگنے سب حالات میں ثواب ملتا ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جو فخر اور نام و نمود کے لئے جہاد میں شامل ہوتا ہے۔ امام کی نافرمانی کرتا اور زمین میں فتنہ و فساد پھیلاتا ہے۔ ایسا شخص بے نصیب اور نامراد ہے کچھ بھی حاصل نہ کر پائے گا۔
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غزوہ دو قسم کے ہوتے ہیں، جو اللہ کی رضا چاہے اور امام کی اطاعت کرے اور اپنا اچھا مال خرچ کرے اور اپنے ساتھی کو آسانی پہنچائے اور فساد سے بچے تو اس کی نیند اور اس کا جاگنا سب (باعث) ثواب ہے اور جو کوئی فخر اور ریا اور شہرت کیلئے غزوہ کرے اور امام کی نافرمانی کرے اور زمین میں فساد تو وہ (کام کے) برابر (ثواب) لے کر بھی نہ لوٹا تھا۔
ابو نضر نے بنی اسلم کے ایک شخص، جو نبی ﷺ کے صحابہؓ میں سے تھے جنہیں حضرت عبد اللہؓ بن ابی اوفیٰ کہا جاتا تھا، کے خط کے بارہ میں بیان کیا کہ انہوں نے عمر بن عبیداللہ کو خط لکھا جب وہ حروریہ کے مقابلہ میں روانہ ہوئے کہ رسول اللہ ﷺ جس دن دشمن سے برسر پیکار ہوتے تو آپؐ انتظار فرماتے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جاتا تو آپؐ ان میں کھڑے ہوتے اور فرماتے اے لوگو! دشمن سے مُڈھ بھیڑ کی تمنا نہ کرو اور جب تمہاری مُڈھ بھیڑ ہو تو صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد رسول اللہ ﷺ پھر کھڑے ہوئے اور فرمایا اے اللہ! کتاب کو نازل فرمانے والے اور بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے! انہیں شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔