بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 7 of 7 hadith
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ظن سے بچو یقینا بد ظنی سب سے بڑا جھوٹ ہے اور ٹوہ نہ لگاؤ اور تجسس نہ کرو دنیا داری میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش نہ کرو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے بے رخی نہ کرو، اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اپنے بھائی کی آنکھ کا تنکا تو انسان کو نظر آتا ہے لیکن اپنی آنکھ میں پڑا ہوا شہتیر وہ بھول جاتا ہے۔ بدی پر غیر کی ہر دم نظر ہے مگر اپنی بدی سے بے خبر ہے (کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام) (حقیقہ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 551)
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور دھوکہ دینے کے لئے قیمت نہ بڑھاؤ اور نہ ایک دوسرے سے بغض رکھو نہ ہی ایک دوسرے سے بے رُخی کرو اور تم میں سے کوئی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ تو وہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ ہی اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے نہ ہی اس کی تحقیر کرتا ہے۔ اور آپؐ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا تقویٰ یہاں ہے۔ آدمی کے لئے یہی شرّ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے۔ ہر مسلمان کا خون اس کا مال، اور اس کی عزّت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آپس میں حسد نہ کرو ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور تجسّس نہ کرو اور ٹوہ نہ لگاؤ اور دھوکہ دینے کے لئے بولی نہ دو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا بدظنی سے بچو کیونکہ بدظنی سخت قسم کا جھوٹ ہے۔ ایک دوسرے کے عیب کی ٹوہ میں نہ رہو، اپنے بھائی کے خلاف تجسس نہ کرو، اچھی چیز ہتھیانے کی حرص نہ کرو، حسد نہ کرو، دشمنی نہ رکھو، بے رخی نہ برتو۔ جس طرح اس نے حکم دیا ہے اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے ایک مرتبہ منبر پر کھڑے ہو کر بآواز بلند فرمایا کہ اے لوگو! تم میں سے بعض بظاہر مسلمان ہیں لیکن ان کے دلوں میں ابھی ایمان راسخ نہیں ہوا، انہیں میں متنبہ کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کو طعن و تشنیع کے ذریعہ تکلیف نہ دیں اور نہ ان کے عیبوں کا کھوج لگاتے پھریں ورنہ یاد رکھیں کہ جو شخص کسی کے عیب کی جستجو میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اندر چھپے عیوب کو لوگوں پر ظاہر کرکے اس کو ذلیل و رسوا کر دیتا ہے اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔