بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 7 of 7 hadith
حضرت عطاء بن ابی مسلم عبداللہ خراسانی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آپس میں مصافحہ کیا کرو اس سے بغض اور کینہ دور ہو جائے گا اور آپس میں تحفے تحائف دیا کرو اس سے ایک دوسرے سے محبت زیادہ ہو گی اور عداوت اور رنجش دور ہو جائے گی۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہماری مثال اُس برے شخص کی سی نہیں جو اپنے ہبہ سے پھرتا ہے، جیسے کتا قے کرکے چاٹتا ہے۔
حضرت کلدہ بن حنبلؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے صفوان بن امیہ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دودھ، ہرن کے بچے کا گوشت اور ککڑیاں دے کر بھیجا۔ نبی ﷺ مکہ کے بالائی حصہ میں تھے۔ میں حضور ﷺ کے پاس بلا اجازت اور بغیر سلام کہے چلا گیا۔ آپ ﷺ نے مجھے فرمایا پہلے باہر واپس جاؤ پھر السلام علیکم کہو (اور پھر اندر آنے کے لئے اجازت مانگو)۔
حضرت کلدہ بن حنبلؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے صفوان بن امیہ نے آنحضرتﷺ کی خدمت میں دودھ، ہرن کے بچے کا گوشت اور ککڑیاں دے کر بھیجا۔ اور نبی ﷺ وادی کے بالائی حصہ میں تھے۔ میں حضورﷺ کے پاس بلا اجازت اور بغیر سلام کہے چلا گیا۔ آپﷺ نے مجھے فرمایا پہلے باہر واپس جاؤ پھر کہو ’’السلام علیکم کیا میں اندر آ سکتا ہوں ؟‘‘
حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد رسول اللہ ﷺ کے پاس ان کو لائے اور کہا میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح دیا ہے جیسے اس کو؟ انہوں نے کہا نہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا اس کو واپس لے لو۔
حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے اپنا کچھ مال مجھے عطا کیا۔ …….. رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سب بچوں کے ساتھ ایسا ہی کیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنی اولاد سے عدل کا سلوک کرو۔ میرے والد واپس آئے اور وہ عطیہ واپس لے لیا۔
شعبی سے روایت ہے کہ حضرت نعمان بن بشیرؓ نے مجھے بتایا کہ ان کی والدہ بنت رواحہؓ نے ان کے والد سے خواہش کی کہ وہ اپنے مال میں سے کچھ اس کے بیٹے کو ہبہ کر دیں۔ انہوں نے ایک سال تک تو اسے ملتوی رکھا پھر ان کی رائے ہو گئی (کہ ہبہ کر دیں)۔ اس پر وہ کہنے لگیں میں راضی نہ ہوں گی جب تک تم رسول اللہ ﷺ کو اس ہبہ پر گواہ نہ ٹھہراؤ جو تم نے میرے بیٹے کے نام کیا ہے۔ اس پر میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں اس وقت لڑکا تھا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اس کی ماں بنت رواحہؓ نے چاہا ہے کہ میں آپؐ کو اس ہبہ پر گواہ ٹھہراؤں جو میں نے اس کے بیٹے کو دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بشیر! کیا اس کے علاوہ بھی تمہاری کوئی اولاد ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم نے ان سب کو اس کی طرح ہبہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا پھر مجھے گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہی نہیں دیتا۔