(بخاری کتاب الزکاۃ باب قول اللہ تعالیٰ فاما من اعطی و اتقیٰ و صدق…1442)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی دن بھی ایسا نہیں کہ جس میں دو فرشتے جبکہ بندے صبح کو اُٹھتے ہیں نازل نہ ہوتے ہوں۔ ان میں سے ایک کہتا ہے اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بدل عطا کر اور دوسرا کہتا ہے: بخیل کا مال رائیگاں جائے۔
(ترمذی کتاب فضائل الجھاد باب ما جاء فی فضل النفقۃ فی سبیل اللہ 1625)
حضرت خریم بن فاتکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں کچھ خرچ کرتا ہے۔ اسے اس کے بدلہ میں سات سو گنا زیادہ ثواب ملتا ہے۔
نے فرمایا تو جب کبھی بھی کوئی ایسا خرچ کرے گا کہ جس سے تو اللہ کی رضا مندی چاہتا ہوگا تو ضرور ہے کہ اس کا بدلہ تجھے دیا جائے۔ یہاں تک کہ اس (لقمہ) پر بھی جو تو اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے۔
(بخاری کتاب تفسیر القرآن باب لَنْ تَنَالُوا البِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ 4554)
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہؓ انصاری مدینہ کے انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھے۔ ان کے کھجوروں کے باغات تھے جن میں سے سب سے زیادہ عمدہ باغ بیرحاء نامی تھا جو حضرت طلحہؓ کو بہت پسند تھا اور مسجد (نبویﷺ) کے سامنے بالکل قریب تھا۔ رسول اللہﷺ بالعموم اس باغ میں جاتے اور اس کا میٹھا اور عمدہ پانی پیتے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی لَنْ تَنَالُوا البِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (جب تک تم اپنے پسندیدہ مال میں سے خرچ نہیں کرتے نیکی کو نہیں پا سکتے)۔ تو حضرت ابو طلحہؓ آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ! آپﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے لَنْ تَنَالُوا البِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ اور میری سب سے پیاری جائیداد بیرحاء کا باغ ہے۔ میں اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری اس نیکی کو قبول کرے گا اور میرے آخرت کے ذخیرہ میں شامل کرے گا۔ یا رسول اللہ! آپؐ اپنی مرضی کے مطابق اس کو اپنے مصرف میں لائیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا واہ واہ! بہت ہی اعلیٰ اور عمدہ مال ہے، بڑا نفع مند ہے اور جو تو نے کہا ہے وہ بھی میں نے سن لیا ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ تم یہ باغ اپنے رشتہ داروں کو دے دو۔ ابو طلحہؓ نے کہا میں نے دے دیا یا رسول اللہ! چنانچہ حضرت ابو طلحہؓ نے وہ باغ اپنے قریبی رشتہ داروں اور چچیرے بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: رشک نہیں کرنا چاہیے مگر دو (آدمیوں) پر۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور پھر اس کو بر محل خرچ کرنے کی توفیق دے اور وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے صحیح علم دیا ہو اور وہ خود بھی اس پر عمل کرتا ہے اور لوگوں کو بھی سکھاتا ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا سخی اللہ کے قریب ہوتا ہے لوگوں سے قریب ہوتا ہے اور جنت کے قریب ہوتا ہے اور دوزخ سے دور ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بخیل اللہ تعالیٰ سے دور ہوتا ہے، لوگوں سے دور ہوتا ہے، جنت سے دور ہوتا ہے لیکن دوزخ کے قریب ہوتا ہے۔ ان پڑھ سخی، بخیل عابد سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے۔
(ترمذی کتاب البر و الصلۃ باب ما جاء فی السخاء 1961)
حضرت ابو ھریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا سخی اللہ کے قریب ہوتا ہے لوگوں سے قریب ہوتا ہے اور جنت کے قریب ہوتا ہے اور دوزخ سے دور ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بخیل اللہ سے دور ہوتا ہے، لوگوں سے دور ہوتا ہے، جنت سے دور ہوتا ہے لیکن دوزخ کے قریب ہوتا ہے۔ ان پڑھ سخی، بخیل عابد سے اللہ عزوجل کو زیادہ محبوب ہے۔
(بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب ما ذکر عن بنی اسرائیل 3464)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے، ایک کوڑھی اور ایک گنجا اور ایک اندھا۔ اللہ نے ان کو آزمانا چاہا۔ ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جو کوڑھی کے پاس آیا اور پوچھا: تجھے کونسی شئے زیادہ پیاری ہے؟ اس نے کہا اچھا رنگ اور اچھا جسم۔ لوگ مجھ سے بہت کراہت کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا فرشتے نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا اور وہ کوڑھ اس سے جاتا رہا اور اسے اچھا رنگ اور اچھا جسم دیا گیا۔ پھر فرشتہ نے پوچھا: تمہیں کونسا مال زیادہ پیارا ہے؟ اس نے کہا اونٹ یا کہا گائے بیل۔ اسحاق (راوی) نے اس کے متعلق شک کیا کہ کوڑھی اور گنجے ان دونوں میں سے ایک نے اونٹ کہے اور دوسرے نے گائے بیل۔ چنانچہ اسے دس مہینے کی گابھن اونٹنی دی گئی اور کہا تیرے لئے اس میں برکت دی جائے گی اور وہ گنجے کے پاس آیا۔ اس نے پوچھا: تجھے کونسی چیز زیادہ پیاری ہے؟ اس نے کہا اچھے بال اور یہ گنج پن مجھ سے جاتا رہے۔ لوگ مجھ سے بہت ہی نفرت کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا فرشتہ نے اس پر ہاتھ پھیرا اور گنج پن جاتا رہا اور اسے اچھے بال دئیے گئے۔ فرشتہ نے کہا تجھے کونسا مال زیادہ پیارا ہے؟ کہا گائے بیل۔ فرشتہ نے اسے ایک گابھن گائے دی اور کہا تجھے اس میں برکت دی جائے گی اور اندھے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا: تجھے کونسی چیز زیادہ پیاری ہے؟ اس نے کہا اللہ میری بینائی مجھے واپس دیدے۔ جس سے میں لوگوں کو دیکھوں۔ آپؐ نے فرمایا فرشتہ نے اس پر ہاتھ پھیرا اور اللہ نے اس کی بینائی اس کو پھر دے دی۔ فرشتہ نے پوچھا: کونسا مال تجھے زیادہ پیارا ہے؟ اس نے کہا بکریاں۔ اس نے اس کو ایک جننے والی بکری دی۔ چنانچہ ان دونوں نے بچے دئیے اور اس نے بھی بچے دئیے۔ چنانچہ کوڑھی کے پاس اونٹوں کا اور گائے والے کے پاس گائے بیلوں کا گلہ اور اندھے کے پاس بکریوں کے دَل کے دَل ہوگئے۔ پھر وہ فرشتہ کوڑھی کے پاس ہوبہو اسی صورت شکل میں آیا اور کہنے لگا: ایک مسکین آدمی ہوں میرے سفر میں سارے وسیلے کٹ گئے ہیں، اس لئے سوائے اللہ کے اور پھر تمہارے بن آج میں اپنے ٹھکانے نہیں پہنچ سکتا۔ میں تم کو اسی ذات کا واسطہ دیتے ہوئے جس نے کہ تم کو یہ اچھا رنگ دیا اور یہ اچھا بدن دیا اور یہ اونٹ دئیے تم سے ایک اونٹ مانگتا ہوں تا کہ میں اپنے سفر میں اس پر سوار ہو کر اپنے ٹھکانے پہنچوں۔ اس نے جواب دیا: حق بہت سے ہیں (جنہیں میں نے ادا کرنا ہے۔) وہ فرشتہ اسے کہنے لگا: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں تمہیں پہچانتا ہوں۔ کیا تو کوڑھی نہ تھا؟ لوگ تجھ سے کراہت کرتے تھے، محتاج تھا۔ اللہ نے تجھے دیا۔ اس نے کہا میں تو خود بڑا ہوں اور بڑوں سے وراثت ملتی چلی آئی ہے۔ فرشتہ نے کہا تم جھوٹے ہو۔ اللہ تمہیں اسی حالت میں لوٹا دے جس میں تم تھے اور وہ گنجے کے پاس اسی کی شکل و صورت میں آیا اور اس کو بھی ویسا ہی کہا (جیسا اس کوڑھی سے کہا تھا) اس نے بھی اس کو وہی جواب دیا جو اس کوڑھی نے اس کو دیا تھا۔ فرشتہ نے کہا تم جھوٹے ہو۔ اللہ تمہیں اسی حالت میں لوٹا دے جس میں تم تھے پھر وہ اندھے کے پاس اسی صورت شکل میں آیا اور کہنے لگا: میں ایک مسکین شخص ہوں، مسافر ہوں۔ سفر میں میرے سارے وسیلے کٹ گئے ہیں۔ آج سوائے اللہ کے اور تمہارے بغیر ٹھکانے پہنچنے کی کوئی صورت نہیں۔ میں اسی کے وسیلے سے جس نے تمہاری بینائی تم کو واپس دی ایک بکری مانگتا ہوں تاکہ میں اپنے سفر میں اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے ٹھکانے پہنچ جاؤں۔ اس نے کہا ہاں میں اندھا تھا اور اللہ نے میری بینائی لوٹا دی اور محتاج تھا اور اس نے مجھے مالدار کردیا، اس لیے جو تم چاہو لے لو، اللہ کی قسم! میں تم سے آج کسی بات میں تنگی نہیں کرنے کا۔ جو تو لے لے، اللہ کے لئے لے گا۔ فرشتہ نے یہ سن کر کہا تم اپنا مال اپنے پاس ہی رکھو کیونکہ تم کو تو صرف آزمایا گیا ہے۔ اللہ تم سے خوش ہوگیا ہے اور تمہارے دونوں ساتھیوں پر ناراض۔
(مسلم کتاب الزھد و الرقائق باب الدنیا سجن المومن وجنۃ الکافر(5251
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے ایک مبروص تھا ایک گنجا اور ایک نابینا۔ اللہ نے ارادہ کیا کہ ان کی آزمائش کرے۔ اس نے ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا وہ مبروص کے پاس آیا اور پوچھا کہ تجھے کیا چیز سب سے زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا کہ خوبصورت رنگ، خوبصورت جلد اور یہ مجھ سے دور ہوجائے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے کراہت کرتے ہیں۔ فرمایا اس (فرشتہ) نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس سے وہ بیماری جاتی رہی اور اسے خوبصورت رنگ اور خوبصورت جلد عطا کی گئی۔ اس (فرشتہ) نے کہا کہ کونسا مال تجھے پسند ہے؟ اس نے کہا اونٹ یا کہا گائے۔ راوی اسحاق کو اس بارہ میں شک ہے کہ مبروص یا گنجے میں سے کسی ایک نے اونٹ کہا تھا اور دوسرے نے گائے۔ فرمایا اسے دس ماہ کی گابھن اونٹنی دی گئی اور کہا کہ اللہ تجھے اس میں برکت دے۔ فرمایا پھر وہ گنجے کے پاس آیا اور کہا تجھے سب سے زیادہ کیا اچھا لگتا ہے؟ اس نے کہا خوبصورت بال اور یہ مجھ سے دور ہوجائے جس کی وجہ سے لوگوں کو مجھ سے کراہت آتی ہے۔ فرمایا اس (فرشتہ) نے اس پر ہاتھ پھیرا اور اس سے وہ (بیماری) جاتی رہی اور اسے خوبصورت بال عطا کئے گئے۔ اس (فرشتہ) نے کہا کہ کونسا مال تجھے پسند ہے؟ اس نے کہا گائیاں۔ چنانچہ اسے حاملہ گائے دی گئی اور کہا اللہ تجھے اس میں برکت دے۔ فرمایا وہ نابینا کے پاس آیا اور کہا کہ تجھے سب سے زیادہ کیا پسند ہے؟ اس نے کہا یہ کہ اللہ مجھے میری نظر لوٹا دے جس سے میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ فرمایا پھر اس نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اللہ نے اسے اس کی نظر لوٹا دی۔ اس نے پوچھا کہ تجھے کون سا مال زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا بکریاں پس اسے زیادہ بچے دینے والی بکری عطا کی گئی سو ان دونوں نے بھی بچے دئے اور اس نے بھی بچے دئے۔ فرمایا کہ اس کے لئے اونٹوں کی وادی ہوگئی اور اس کے لئے گائیوں کی وادی اور اس کے لئے بکریوں کی وادی۔ فرمایا کہ پھر وہ (فرشتہ) مبروص کے پاس اس کی (پرانی) صورت اور ہیئت میں گیا اور کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں اور سفر میں میرے سب اسباب جاتے رہے۔ پس آج اللہ اور پھر تمہارے بغیر میرا پہنچنا ممکن نہیں۔ میں تم سے اس کے نام پر سوال کرتا ہوں جس نے تمہیں خوبصورت رنگ اور خوبصورت جلد اور مال عطا کیا ہے ایک اونٹ مانگتا ہوں جو میرے سفر میں میرا کام بنا دے اس نے کہا ذمہ داریاں بہت ہیں۔ اس پر اس نے کہا میرا خیال ہے کہ میں تمہیں پہچانتا ہوں کیا تم مبروص نہیں تھے جس سے لوگ کراہت کرتے تھے؟ (کیا تم) وہ فقیر (نہیں تھے) جسے اللہ نے عطا کیا ہے۔ اس نے کہا کہ میں تو اس مال کا نسل در نسل وارث ہوں۔ اس نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تمہیں تمہاری پہلی حالت کی طرف لوٹا دے گا۔ فرمایا وہ (فرشتہ) گنجے کے پاس اس کی (پرانی) صورت میں آیا اور اسے بھی وہی کہا جو پہلے کو کہا تھا اور اس نے وہی جواب دیا جو پہلے نے جواب دیا تھا اس پر اس نے کہا اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تجھے ویسا ہی کر دے جیسے تو تھا فرمایا پھر وہ اندھے کے پاس اس کی شکل و صورت میں آیا اور کہا کہ میں ایک مسکین شخص مسافر ہوں میرے سفر کے سب ذرائع کٹ چکے ہیں۔ آج اللہ اور پھر تمہارے بغیر میرا (منزل تک) پہنچنا ناممکن ہے۔ میں تم سے اس کے واسطہ سے جس نے تمہاری نظر تمہیں لوٹائی ہے ایک بکری مانگتا ہوں جو میرے سفر میں مجھے کفایت کر جائے۔ اس پر اس نے کہا کہ میں اندھا تھا اللہ نے مجھے میری نظر لوٹائی۔ پس جو تو چاہے لے لے اور جو تو چاہے چھوڑ دے اللہ کی قسم آج کے دن میں تجھ پر اس بارہ میں جو تو نے اللہ کی خاطر لیا میں تمہیں کوئی روک ٹوک نہیں کروں گا۔ اس پر اس نے کہا کہ اپنا مال اپنے پاس ہی رکھو۔ (تم تینوں کی) آزمائش کی گئی تھی اللہ تجھ سے راضی ہوگیا اور تیرے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوا۔