بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 25 hadith
ضحاک بن مزاحم سے روایت ہے کہ وہ اور حسن بن ابی الحسن اور مکحول شامی اور عمرو بن دینار مکّی اور طاؤس یمانی مسجد خیف میں اکٹھے ہوئے۔ تقدیر کے بارہ میں ان کی آوازیں بلند ہوئیں۔ طاؤس نے کہا ـــ اور وہ ان کے پسندیدہ تھے ـــ خاموش ہو جاؤ۔ میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں جو میں نے حضرت ابو درداء سے سنا۔ انہوں (حضرت ابو درداءؓ) نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تم پر کچھ فرائض عائد کئے ہیں تم انہیں ضائع نہ کرنا اور کچھ حدود مقرر کی ہیں تم ان سے تجاوز نہ کرنا۔ اس نے بعض چیزوں سے تم کو روکا ہے۔ تم ان کے مرتکب نہ ہونا اور بغیر کسی نسیان یا بھول کے کچھ اشیاء کے بارہ میں وہ خاموش رہا ہے ان کا ذکر نہیں کیا سو تم بلا وجہ تکلف سے کام لے کر ان کے پیچھے نہ پڑنا کیونکہ اپنی رحمت اور اپنے فضل کی وجہ سے اس نے ان کا ذکر نہیں کیا تاکہ تم پر زیادہ بوجھ نہ پڑے پس خدا کی اس رعایت کو تم خوش دلی سے قبول کرو اور اس کی رحمت کی قدر کرو۔ (راوی کہتے ہیں کہ) ہم انہی باتوں کے قائل ہیں جنہیں ہمارے رب اور ہمارے نبی ﷺ نے بیان کیا ہے۔ اس پر کسی زیادتی کی ضرورت نہیں سمجھتے کیونکہ تمام اختیارات ہمارے رب کے ہاتھ میں ہیں وہیں سے احکام آتے ہیں اور ان کے مال کا مالک بھی وہی ہے۔ انسانوں کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنی مرضی چلائیں یا اپنی خواہشات کی پیروی کریں۔
حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ نے فرمایا حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہ والی کچھ باتیں ہیں۔ اکثر لوگ انہیں نہیں جانتے۔ پس جو اِن مشتبہ باتوں سے بچا ، اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو محفوظ رکھنے کے لئے پوری احتیاط سے کام لیا اور جو اِن مشتبہ امور میں جا پڑا تو وہ اس چرواہے کی مانند ہے جو اپنا ریوڑ رَکھ کے آس پاس چرا رہا ہے۔ قریب ہے کہ اس میں ریوڑ جا پڑے۔ دیکھو ہر بادشاہ کی ایک رَکھ ہوتی ہے۔ خیال رکھنا کہ اللہ کی رَکھ اس کی زمین میں اس کی حرام کی ہوئی باتیں ہیں۔ خبردار! اور جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے۔ اگر وہ ٹھیک ہے تو سارا جسم ٹھیک رہتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے اور سنو! کہ وہ دل ہے۔
حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے اور نعمانؓ اپنی دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں تک لے گئے اور کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ حلال (بھی) واضح ہے اور حرام (بھی) واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ باتیں ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے۔ پس جو شخص شبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں داخل ہو گیا۔ اس چرواہے کی طرح جو کسی محفوظ علاقہ کے گرد (جانور) چراتا ہے بعید نہیں کہ وہ (جانور) اس (چراگاہ) کے اندر چرنے لگ جائے۔ خبردار ہر بادشاہ کا ایک ممنوعہ علاقہ ہوتا ہے اور سنو! اللہ کا ممنوعہ علاقہ اس کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں۔ سنو! جسم میں ایک لوتھڑا ہے اگر وہ صحیح ہو تو سارا جسم صحیح ہوگا۔ اگر وہ خراب ہو تو سارا جسم خراب ہوگا اور سنو وہ دل ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے صحابہؓ نے دریافت کیا کہ حضور کچھ لوگ جو کفر سے نئے نئے نکلے ہیں ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں اور ہمیں علم نہیں کہ انہوں نے جانور کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھی بھی یا نہیں۔ کیا ہم گوشت کھا سکتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا تم خود اس پر بسم اللہ پڑھ لو اور (بخوشی) کھاؤ۔
حضرت عروہ بن زبیرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ گاؤں والے ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں ہمیں معلوم نہیں کہ جانور کو ذبح کرتے وقت انہوں نے اللہ تعالیٰ کا نام لیا تھا یا نہیں تو (ایسے گوشت کو) ہم کیا کریں؟ حضورﷺ نے فرمایا اس پر بسم اللہ پڑھ لو پھر اس گوشت کو کھا لو۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک جنگ میں نبی ﷺ کے سامنے پنیر لایا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہاں کا تیار شدہ ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا۔ فارس کا (یعنی مجوسیوں کا بنایا ہوا ہے) اور ہمارا خیال ہے کہ اس میں مردار ملایا جاتا ہے۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا (زیادہ کرید کی ضرورت نہیں) بسم اللہ پڑھو اور کھاؤ۔
امام ابو دا ؤدؒ نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ غزوہ تبوک کے سفر میں نبی ﷺ کی خدمت میں عیسائیوں کا بنایا ہوا پنیر پیش کیا گیا۔ اس کے متعلق یہ بھی خیال تھا کہ یہ مجوسیوں کا بنایا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے (کسی چھان بین کے بغیر) چھری منگوائی اور بسم اللہ پڑھ کر اسے کاٹا اور استعمال فرمایا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ فتح مکہ کے موقعہ پر پنیر پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا۔ اہل عجم اس کو تیار کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا چھری سے کاٹ کر اسے استعمال کر سکتے ہو (یعنی کسی چھان بین کی ضرورت نہیں)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ سنتے ہیں کہ اس کے بنانے میں مردار کی چربی استعمال ہوتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا زیادہ چھان بین کی ضرورت نہیں چھری سے کاٹو اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کھا لو۔
جوخ جس کے بارہ میں مشہور ہے کہ اس کو سور کی چربی کے ساتھ بنایا جاتا ہے اور شام کا بنا ہوا پنیر، کہ اس کے بارہ میں مشہور تھا کہ وہ سور کی چربی کے ساتھ بنایا جاتا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کے پاس ان کی طرف سے پنیر آیا۔ آپؐ نے اس میں سے کھایا اور اس کے بارہ میں (کسی سے نہ) پوچھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں کوئی شخص کھانا کھانے لگے تو پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لے یعنی بسم اللہ پڑھے۔ اگر شروع میں بھول جائے تو یاد آنے پر بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَ آخِرِهِ پڑھ لے۔
حضرت عمر بن ابی سلمہؓ جو رسول اللہ ﷺ کے ربیب تھے، بیان کرتے ہیں کہ بچپن میں میں رسول اللہ ﷺ کے گھر رہتا تھا۔ (کھانا کھاتے وقت) میرا ہاتھ تھالی میں ادھر ادھر گھومتا تھا۔ (یعنی بے صبری سے جلد جلد کھاتا اور اپنے آگے کا بھی خیال نہ کرتا)۔ رسول اللہ ﷺ نے (میری اس عادت کو دیکھ کر) فرمایا او لڑکے! کھانا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھو اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے آگے سے کھاؤ۔ حضور ﷺ کی یہ نصیحت میں ہمیشہ یاد رکھتا ہوں اور اس کے مطابق کھانا کھاتا ہوں۔