بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 9 hadith
حضرت علیؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ الفاظ کے سوا قرآن کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ (اس زمانہ کے لوگوں کی) مسجدیں بظاہر تو آباد نظر آئیں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی ان کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ ان میں سے ہی فتنے اٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے (یعنی تمام خرابیوں کا وہی سرچشمہ ہوں گے)۔
(رسول اللہﷺ نے فرمایا) میری امت میں سخت گھبراہٹ ہو گی لوگ اپنے علماء کے پاس جائیں گے تو کیا دیکھیں گے کہ وہ خنزیر اور بندر بن چکے ہیں۔ (رسول اللہ
حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقیناً بنی اسرائیل اکہتر 71 فرقوں میں تقسیم ہوئے اور میری امت ضرور بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی وہ سب کے سب آگ میں ہیں سوائے ایک کے اور وہ جماعت ہے۔
ابو وائل کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے کوفہ میں لوگوں سے خطاب کیا میں نے اسے سنا چنانچہ آپ ؓ فرما رہے تھے ! اے لوگو ! جو شخص تکلف سے فقر اپنائے وہ فقیر بن ہی جاتا ہے، جسے لمبی عمر دی گئی وہ ابتلاء کا شکار ہوا جو شخص آزمائش کے لئے تیار نہ ہوا تو وہ ابتلاء کے وقت صبر آزما نہیں ہوسکتا جو بادشاہ بنا وہ دولت جمع کرنے میں مشغول ہوا جو شخص مشورہ نہیں لیتا وہ نادم ہوجاتا ہے، اس کے بعد آپ ؓ فرمایا کرتے تھے، عنقریب اسلام کا صرف نام ہی باقی رہے گا اور قرآن کے صرف نقوش ہی باقی رہیں گے اس لئے فرمایا کرتے تھے خبردار ! کوئی شخص بھی علم حاصل کرنے میں حیاء محسوس نہ کرے جس سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے جس کا اسے علم نہیں تو اسے چاہیے کہ وہ کہے’’ لَا اَعْلَمُ‘‘ میں نہیں جانتا ہوں۔ اس وقت تمہاری مساجد کی عمارتیں عالی شان ہوں گی حالانکہ تمہارے دل اور تمہارے اجسام ہدایت سے ویران ہوں گے اس وقت تمہارے فقہاء آسمان تلے بدترین لوگ ہوں گے انہی سے فتنوں کا ظہور ہوگا اور انہی میں (فتنے) لوٹیں گے۔
حضرت ثعلبہ بہرانیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا عنقریب دنیا سے علم چھین لیا جائے گا یہاں تک کہ علم و ہدایت اور عقل و فہم کی کوئی بات انہیں سجھائی نہ دے گی۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! علم کس طرح ختم ہو جائے گا جبکہ اللہ کی کتاب ہم میں موجود ہے اور ہم اسے آگے اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تورات اور انجیل یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس موجود نہیں ہے لیکن اس نے انہیں کیا فائدہ دیا۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ بندوں سے یونہی چھینا جھپٹی کرکے علم نہیں اٹھایا کرتا بلکہ وہ علماء کو اٹھا کر علم اٹھا لیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہیں رہتا تو لوگ ایسے جاہلوں کو سردار بنا لیتے ہیں کہ جن سے اگر (کوئی مسئلہ) پوچھا جائے تو بغیر علم کے فتویٰ دیتے ہیں۔ خود بھی گمراہ ہوتے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میری امت پر بھی وہ حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے جن میں ایسی مطابقت ہو گی جیسے ایک پاؤں کے جوتے کی دوسرے پاؤں کے جوتے سے ہوتی ہے یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی اپنی ماں سے بدکاری کا مرتکب ہوا تو میری امت میں سے بھی کوئی ایسا بدبخت نکل آئے گا۔ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ لیکن ایک فرقے کے سوا باقی سب جہنم میں جائیں گے۔ صحابہؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! یہ ناجی فرقہ کون سا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا وہ فرقہ جو میری اور میرے صحابہؓ کی سنت پر عمل پیرا ہو گا۔
میری امت پر بھی وہ حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے (جن میں ایسی مطابقت ہو گی) جیسے ایک پاؤں کے جوتے کی دوسرے پاؤں کے جوتے سے ہوتی ہے) یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی اپنی ماں سے بدکاری کا مرتکب ہوا تو میری امت میں سے بھی کوئی ایسا بدبخت نکل آئے گا(۔ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ لیکن ایک فرقے کے سوا باقی سب جہنم میں جائیں گے۔( صحابہؓ نے پوچھا یہ ناجی فرقہ کون سا ہے؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا) وہ فرقہ جو میری اور میرے صحابہؓ کی سنت پر عمل پیرا ہو گا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم ضرور ان لوگوں کی چالوں پر چلو گے جو تم سے پہلے تھے بالشت بالشت اور ہاتھ ہاتھ یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گوہ کے سوراخ میں بھی داخل ہوئے ہوں تو تم بھی ان کے پیچھے ہی جاؤ گے۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ ! کیا یہود و نصاریٰ ؟ آپ نے فرمایا اور کون۔