بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 26 hadith
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اُس کے لئے ہوتا ہے سوائے روزہ کے۔ کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اُس کا بدلہ ہوتا ہوں اور روزے ڈھال ہیں اور جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دِن ہو تو وہ کوئی فحش بات نہ کرے اور نہ شور و غل کرے۔ اور اگر کوئی اُس کو گالی دے یا اُس سے لڑے تو چاہیے کہ وہ یہ کہہ دے: میں روزہ دار شخص ہوں۔ اور اُسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے! یقینا روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بوئے مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے۔ (پہلی خوشی) اُس وقت ہوتی ہے جبکہ وہ افطار کرتا ہے اور (دوسری) جب وہ اپنے ربّ سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزہ کی وجہ سے خوش ہوگا۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سحری کھایا کرو۔ کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔
حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگ بھلائی ہمیشہ میں رہیں گے جب تک کہ وہ افطار میں جلدی کریں گے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب رمضان کا مہینہ آ جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں۔
حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب نیا چاند دیکھتے تو یہ دعا کرتے ’’اے اللہ! یہ چاند امن و امان اور صحت و سلامتی کے ساتھ (ہر روز) نکلے۔ اے چاند! میرا رب اور تیرا رب اللہ تعالیٰ ہے تو خیر و برکت اور رشد و بھلائی کا چاند بن‘‘۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ــــ یا کہا ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا ــــ اُسے دیکھ کر روزہ رکھو اور اُسے دیکھ کر افطار کرو اور اگر اَبر کی وجہ سے تمہیں نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دِن کی گنتی پوری کر لو۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم نیا چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب تم اسے دیکھو تو روزے رکھنے چھوڑ دو۔ اگر بادل وغیرہ کی وجہ سے تمہیں نظر نہ آئے تو تیس دن روزے کرو۔
حضرت عمر بن خطابؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب رات اِدھر سے آجائے اور دن اُدھر سے پیٹھ موڑ کر چلا جائے اور سورج ڈوب جائے تو روزہ دار افطار کر چکا۔