(مسلم کتاب صلاۃ المسافرین باب الترغیب فی قیام الرمضان وھو التراویح 1258)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ اللہ کی رضا کی امید رکھتے ہوئے عبادت کی تو اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
(ترمذی کتاب الصوم باب ما جاء فی الصوم ثلاثۃ ایام من کل شہر 761)
حضرت ابو ذرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ
(بخاری کتاب الاعتکاف باب الاعتکاف فی عشر الاواخرو الاعتکاف فی المساجد 2026)
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو وفات دی۔ پھر آپؐ کے بعد آپؐ کی ازواج معتکف ہوتی تھیں۔
(بخاری کتاب فضل لیلۃ القدر باب التماس لیلۃ القدر فی سبع الاواخر 2015)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے صحابہؓ میں سے کئی لوگوں کو آخری سات راتوں میں لیلۃ القدر خواب میں دِکھائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تمہاری خوابیں آخری سات راتوں کے متعلق ایک دوسرے سے متفق ہیں۔ پس جس کو اس کی تلاش ہو تو چاہیے کہ وہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔
حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسولؐ! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کونسی رات لیلة القدر ہے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا تم یوں دعا کرنا : اے میرے اللہ تو بخشنے والا ہے ، (عزت دینے والا ہے) بخشش کو پسند کرتا ہے ، مجھے بخش دے۔
نے تین باتوں کی تاکید فرمائی۔ جب تک میں زندہ رہوں گا انہیں کبھی ترک نہیں کروں گا۔ ہر ماہ تین دن روزے رکھنا اور چاشت کی نماز پڑھنے کی اور یہ کہ میں اس وقت تک نہ سوؤں جب تک وتر نہ پڑھ لوں۔