بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 11 hadith
محمود بن لبید سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفانؓ نے مسجد (نبویؐ) کی توسیع کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے اسے برا سمجھا اور پسند کیا کہ اسے اس کی اصل شکل پر رہنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے اللہ کی خاطر مسجد بنائی اس کے لئے اللہ اس جیسا گھر جنت میں بنائے گا۔
حضرت ابو سعیدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم کسی شخص کو مسجد میں عبادت کے لیے آتے جاتے دیکھو تو تم اس کے مومن ہونے کی گواہی دو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اللہ کی مساجد کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں‘‘۔
حضرت فاطمہؓ بنت رسول اللہﷺ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ جب مسجد میں داخل ہوتے تو کہتے ’’اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ اللہ کے رسول پر سلامتی ہو۔ اے میرے اللہ! میرے گناہ بخش اور اپنی رحمت کے دروازے میرے لیے کھول دے‘‘۔ اور جب آپؐ (مسجد سے) باہر نکلتے تو یہ کہتے ’’اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ، اور اللہ تعالیٰ کے رسول پر سلامتی ہو۔ اے میرے اللہ! میرے گناہ بخش اور میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے‘‘۔
حضرت انس بن مالکؓ ـــ جو اسحاق کے چچا ہیں ـــ نے بیان کیا کہ ہم مسجد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ ایک اعرابی آیا اور مسجد میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے لگا رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ کہنے لگے رک جاؤ رک جاؤ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کا پیشاب مت روکو، اسے چھوڑ دو۔ چنانچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا یہانتک کہ وہ پیشاب سے فارغ ہو گیا تو پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور اس سے فرمایا یہ مساجد پیشاب اور گندگی وغیرہ کے لئے نہیں ہوتیں۔ یہ تو صرف اللہ عزّوجل کے ذکر، نماز اور قرآن پڑھنے کے لئے ہیں۔
حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پیاز اور گندنا کے کھانے سے منع فرمایا جب اس کی ضرورت ہم پر غالب آگئی اور ہم نے اس میں سے کھالیا تو آپؐ نے فرمایا جو اس بدبودار پودہ میں سے کھائے تو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں اس سے فرشتے بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔
حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے میری اُمّت کے اچھے اور بُرے اعمال پیش کئے گئے تو میں نے اس کے خوبصورت اعمال میں سے تکلیف دہ چیز کا راستہ سے ہٹا دینا پایا اور اس کے بُرے کاموں میں وہ بلغم پائی جو مسجد میں ہو اور اسے دفن نہ کیا جائے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی آدمی کو گمشدہ چیز کے بارہ میں مسجد میں اعلان کرتے ہوئے سنے تو اسے چاہئے کہ وہ کہے کہ ’’اللہ اس چیز کو تیری طرف نہ لوٹائے‘‘ کیونکہ مساجد اس غرض کے لئے نہیں بنائی گئیں۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں خرید و فروخت سے منع فرمایا اور یہ کہ اس میں گم شدہ چیز کا اعلان کیا جائے اور اس میں شعر گائے جائیں اور نماز سے پہلے جمعہ کے دن حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت عمرو بن شعیبؓ اپنے باپ اور وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مسجد میں (مشاعرہ کے رنگ میں) اشعار پڑھے جائیں یا اس میں (بیٹھ کر) خرید و فروخت کی جائے یا جمعہ کے دن نماز سے پہلے لوگ حلقے بنا کر بیٹھے باتیں کریں۔
حضرت زید بن ثابتؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مسجد میں چٹائی کا ایک حجرہ بنا لیا اور رسول اللہ ﷺ نے چند رات نماز پڑھی یہاں تک کہ کچھ لوگ آپ کے پاس اکٹھے ہوگئے۔ پھر انہوں نے ایک رات آپ کی آہٹ نہ پائی تو وہ سمجھے کہ آپ سو گئے ہیں یہ خیال کر کے ان میں سے بعض کھانسی کرنے لگے تا کہ آپ ان کے پاس باہر آئیں تو آپؐ نے فرمایا یہ تمہارا کام جو میں نے دیکھا ہے کہ تم برابر کر رہے ہو اس سے میں ڈر گیا کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ کر دی جائے اور اگر تم پر فرض کر دی گئی تو تم کبھی اس کو بجا نہ لا سکو اس لئے لوگو تم اپنے گھروں میں ہی نماز پڑھو کیونکہ آدمی کی افضل نماز وہی ہے جو وہ اپنے گھر میں پڑھے سوائے فرض نماز کے۔