بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim CommunityMuslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmadas of Qadian
Sayings of the Holy Prophetﷺ
16,900+ Ahadith
Showing 5 of 15 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا ایک بار ایک شخص ایک ویرانہ میں تھا۔ اس نے ایک بدلی میں سے آواز سنی کہ فلاں کے باغ کو سیراب کر۔ وہ بادل ایک طرف ہوگیا اور اپنا پانی ایک پتھریلی زمین پر برسایا ان نالیوں میں سے ایک نالی نے سارا پانی سمیٹ لیا وہ پانی کے پیچھے پیچھے چلنے لگا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص اپنے باغ میں کھڑا اپنی کسّی سے پانی کا رخ بدل رہا ہے۔ اس نے اسے کہا اے اللہ کے بندے! تیرا کیا نام ہے؟ اس نے بتا یا فلاں، تو وہ وہی نام تھا جو اس نے بدلی میں سنا تھا پھر اس نے کہا اے اللہ کے بندے! تو میرا نام کیوں پوچھتا ہے؟ اس نے کہا میں نے اس بادل سے جس کا یہ پانی ہے ایک آواز سنی تھی جو تیرا نام لے کر کہہ رہی تھی کہ فلاں کے باغ کو سیراب کر۔ تو اس میں کیا کرتا ہے؟ اس نے کہا کیونکہ تم نے پوچھا ہے تو بات یوں ہے کہ جو اس میں سے پیدا وار ہوتی ہے۔ میں اس کا جائزہ لیتا ہوں اور ایک تہائی صدقہ کردیتا ہوں اور ایک تہائی میں اور میرے اہل و عیال کھاتے ہیں اور ایک تہائی اس (باغ) میں لوٹا دیتا ہوں۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کروائی۔ نبیﷺ نے دریافت فرمایا کس قدر گوشت بچ گیا۔ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا صرف دستی بچی ہے۔ حضورؐ نے فرمایا سارا بچ گیا ہے سوائے اس دستی کے۔
حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے کچھ مانگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے پاس (اس وقت) تو کچھ نہیں ہے تم میرے نام سے (ضرورت کی چیز) خرید لو، جب میرے پاس کچھ آئے گا تو میں ادا کر دوں گا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے عرض کی۔ یا رسول اللہ! آپؐ اُسے (پہلے) دے چکے ہیں اور جو آپؐ کی استطاعت میں نہیں اس کا اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو مکلف نہیں ٹھہرایا۔ نبیﷺ نے حضرت عمر ؓ کی بات ناپسند فرمائی تو انصارؓ میں سے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! آپؐ خرچ کریں اور خدائے ذوالعرش کی طرف سے فقر سے نہ ڈریں۔ انصاریؓ کی اس بات پر رسول اللہﷺ نے تبسم فرمایا اور خوشی آپؐ کے چہرہ سے ظاہر ہونے لگی۔ پھر فرمایا اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک سفر میں ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک شخص اپنی اونٹنی پر سوار آیا۔ راوی کہتے ہیں اس نے دائیں بائیں دیکھنا شروع کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کے پاس زائد سواری ہے وہ اسے دے دے جس کے پاس سواری نہیں ہے اور جس کے پاس زائد کھانا ہے، وہ اسے دے دے جس کے پاس کھانا نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے اموال کی بہت سی اقسام کا ذکر فرمایا یہانتک کہ ہم نے خیال کیا کہ ہم میں سے کسی کا زائد مال پر کوئی حق نہیں ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کروائی (اور اس کا گوشت غرباء میں تقسیم کیا اور کچھ گھر میں بھی کھانے کے لئے رکھ لیا) اس پر نبیﷺ نے دریافت فرمایا کس قدر گوشت بچ گیا حضرت عائشہؓ نے جواب دیا دستی بچی ہے۔ (یہ سن کر) حضورﷺ نے فرمایا سارا بچ گیا ہے سوائے اس دستی کے (یعنی جس قدر تقسیم کیا گیا وہ ثواب ملنے کی وجہ سے بچ گیا ہے اور جو بچا کر خود کھانے کے لئے رکھا ہے چونکہ اس کا ثواب نہیں ملے گا۔ اس لئے حقیقتاً وہ نہیں بچا)۔