بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 9 hadith
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا یقیناً اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے اور ہر انسان کے لئے وہی ہے جو اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لئے ہے یا عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہے تو اس کی ہجرت اسی کے لئے ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یقیناً لوگوں کا حشر ان کی نیتوں کے مطابق ہو گا۔ (یعنی اپنی اپنی نیت کے مطابق وہ اجر پائیں گے)۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یقیناً اللہ تمہارے جسموں کو نہیں دیکھتا اور نہ تمہاری صورتوں کو بلکہ وہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا یقیناً اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے اور ہر انسان کے لئے وہی ہے جو اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہی ہو گی اور جس نے دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے شادی کرنے کی خاطر ہجرت کی تو اس کی ہجرت اسی کی خاطر ہے جس کے لئے اس نے ہجرت کی۔
حضرت عمر بن خطابؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے ہے۔ اور جس کی ہجرت دنیا کے لئے ہے کہ وہ اُسے حاصل کرے یا کسی عورت کے لئے جس سے وہ شادی کرے تو اس کی ہجرت اسی کے لئے ہے جس کے لئے اس نے ہجرت کی۔
حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اعمال ایک برتن کی طرح ہیں جب اس کا نچلا حصہ اچھا ہو تو اس کا اوپر کا حصہ بھی اچھا ہوتا ہے اور جب اس کا نچلا حصہ گندہ اور خراب ہو تو اوپر کا حصہ بھی گندہ اور خراب ہوتا ہے۔
حضرت ابنِ عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان باتوں میں سے جو آپ ؐ نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے روایت کی ہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور بدیاں لکھ دی ہیں پھر ان کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔ پس جو نیکی کا ارادہ کرے مگر اس پر عمل نہ کرے اللہ اس کو اپنے ہاں پوری نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس کا ارادہ کرے پھر کر (بھی) لے تو اسے اللہ عز و جل اپنے ہاں دس سے لے کر سات سو گنا تک لکھ لیتا ہے بلکہ کئی گنا زیادہ۔ لیکن اگر وہ بدی کا ارادہ کرے مگر اس پر عمل نہ کرے تو اللہ اس کو اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس کا ارادہ کرے اور عمل (بھی) کرے تو پھر اللہ اسے صرف ایک بدی لکھ لیتا ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپؓ مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا یقیناً مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں، تم نے کوئی سفر نہیں کیا اور نہ کوئی وادی پار کی مگر وہ تمہارے ساتھ تھے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اور وہ مدینہ میں ہیں؟ آپؓ نے فرمایا وہ مدینہ میں ہیں انہیں عذر نے روک رکھا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایک آدمی نے کہا کہ آج میں کچھ صدقہ دوں گا۔ وہ اپنا صدقہ لے کر باہر نکلا تو ایک چور کو غریب آدمی سمجھتے ہوئے اس کے ہاتھ پر وہ رکھ دیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگ باتیں کرنے لگے کہ اب تو چور کو بھی صدقہ دیا جانے لگا ہے۔ اس شخص کو جب علم ہوا تو اس نے کہا اے میرے اللہ تو ہی حمد کا مالک ہے۔ میں ضرور صدقہ دوں گا۔ وہ صدقہ لے کر نکلا تو ایک بدکار عورت کو یہ صدقہ دے دیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگ باتیں کرنے لگے کہ رات کو بدکار عورت کو صدقہ دیا گیا ہے۔ جب اس آدمی کو یہ بات پہنچی تو اس نے کہا اے اللہ! تو ہی حمد کا مالک ہے۔ مجھ سے ایک زانیہ کو صدقہ دینے میں غلطی ہوئی۔ میں ضرور صدقہ دوں گا۔ وہ صدقہ لے کر نکلا اور ایک دولت مند کو یہ صدقہ دے دیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگ کہنے لگے اب تو امیر کو صدقہ دیا جانے لگا ہے۔ اس پر اس نے کہا۔ اے میرے اللہ! تو ہی حمد کا مالک ہے میں نے ایک دفعہ چور کو صدقہ دے دیا۔ ایک دفعہ بدکار کو اور ایک دفعہ دولت مند کو۔ وہ اسی سوچ میں تھا کہ اسے آواز آئی تو نے ایک چور کو جو صدقہ دیا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ضرورت پوری ہوتی دیکھ کر چوری سے باز آ جائے۔ اسی طرح بدکار پر جو تو نے خرچ کیا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ یہ رقم پا کر بدکاری چھوڑ دے۔ رہا دولت مند تو اس کو صدقہ دینے کا یہ نتیجہ ہو سکتا ہے کہ اس دولت مند کو عبرت حاصل ہو اور وہ سوچے کہ دوسرے تو خداتعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں لیکن میں اس برکت سے محروم ہوں۔ اس طرح وہ نادم ہو کر اپنے اس مال کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق پائے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو دیا ہے۔