بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 1 of 1 hadith
ام المومنین حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ وحی میں سے سب سے پہلی چیز جو رسول اللہ ﷺ کو ملی وہ سچی خوابیں تھیں۔ جو خواب بھی آتی وہ صبح کی طرح روشن اور صحیح نکلتی۔ پھر آپؐ کو خلوت پسند آگئی اور آپؐ غار حرا میں جا کر عبادت کرتے تھے۔ آپ کچھ سامان اپنے ہمراہ لے جاتے جب ختم ہو جاتا تو دوبارہ گھر آ کر کھانے پینے کا سامان لے جاتے۔ اسی اثناء میں آپؐ کے پاس ایک فرشتہ آیا اور کہا پڑھو۔ آپ ﷺ نے کہا میں نہیں پڑھ سکتا۔ فرشتے نے آپؐ کو سختی سے دبایا پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔ آپؐ نے کہا میں نہیں پڑھ سکتا۔ فرشتہ نے دوسری مرتبہ دبایا، پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔ آپؐ نے کہا میں نہیں پڑھ سکتا۔ تیسری دفعہ فرشتے نے پھر دبایا اور چھوڑ دیا۔ اور کہا اپنے اس پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے انسان کو پیدا کیا۔ پڑھو درآنحالیکہ تیرا رب عزت والا اور کرم والا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ گھر واپس آئے آپؐ کا دل لرز رہا تھا۔ اپنی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہ ؓ کے پاس آ کر کہا مجھے کمبل اوڑھا دو چنانچہ انہوں نے کمبل اوڑھا دیا۔ جب آپؐ سے یہ گھبراہٹ جاتی رہی تو حضرت خدیجہ ؓ کو سارا واقعہ بتایا اور اس خیال کا اظہار کیا کہ میں اپنے متعلق ڈرتا ہوں۔ اس پر حضرت خدیجہ ؓ نے کہا کہ خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں ہونے دے گا۔ آپؐ صلہ رحمی کرتے ہیں، کمزوروں کو اٹھاتے ہیں، جو خوبیاں معدوم ہو چکی ہیں ان کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مہمان نواز ہیں، ضروریات حقہ میں امداد کرتے ہیں۔ پھر حضرت خدیجہ ؓ ان کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ یہ حضرت خدیجہ ؓ کے چچا زاد بھائی تھے۔ اور زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے۔ عبرانی جانتے تھے اور عبرانی اناجیل لکھ پڑھ سکتے تھے وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے بینائی بھی جاتی رہی تھی۔ حضرت خدیجہ ؓ نے ورقہ ؓ سے کہا اپنے بھتیجے کی بات سنو۔ چنانچہ ورقہ نے کہا میرے بھتیجے تم نے کیا دیکھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے سارا واقعہ بیان فرمایا اس پر ورقہ نے کہا یہ وہی روح القدس ہے جو حضرت موسیٰ ؑ پر نازل ہوا۔ کاش، جس وقت تیری قوم تجھے نکالے گی۔ اس وقت میں مضبوط جوان ہوتا یا زندہ رہتا تو میں پوری طاقت سے آپؐ کی مدد کرتا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے حیران ہو کر پوچھا کیا یہ مجھے نکال دیں گے؟ انہوں نے کہا جس آدمی کو بھی یہ مقام ملا ہے جو آپؐ کو دیا گیا۔ اس سے ضرور دشمنی کی گئی۔ اگر مجھے وہ دن دیکھنا نصیب ہوا تو میں پوری مستعدی سے آپ ﷺ کی مدد کروں گا، لیکن افسوس کہ ورقہ اس کے بعد جلد ہی فوت ہو گئے۔