(مسند احمد بن حنبل ، اول مسند البصریین ، حدیث ابی بکرہ نفیع بن الحارث بن کلدہ 20718)
حضرت عبدالرحمن بن ابو بکرۃؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے باپ کے ساتھ حضرت معاویہؓ بن ابوسفیان سے ملنے گیا جب ہم ان کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے میرے والد سے کہا اے ابو بکرۃ! مجھے ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اللہﷺ سے سنی ہو اس پر ابو بکرۃؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ کو اچھے خواب بہت پسند تھے اور آپﷺ ان کے بارہ میں پوچھا کرتے تھے ایک دن رسول اللہﷺ نے لوگوں سے پوچھا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے تو حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک ترازو آسمان سے لٹکایا گیا ہے آپﷺ کا وزن ابو بکرؓ سے کیا گیا آپﷺ کا پلڑا جھک گیا پھر ابو بکرؓ کا وزن عمرؓ سے کیا گیا تو ابو بکرؓ کا پلڑا جھک گیا پھر عمرؓ کا وزن عثمانؓ سے کیا گیا تو عمرؓ کا پلڑا جھک گیا پھر ترازو اٹھا لیا گیا رسول اللہﷺ نے اس خواب کی یہ تعبیر فرمائی کہ خلافت نبوت کی طرف اشارہ ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا حکومت دے گا۔
(مسند احمد بن حنبل ، مسند الشمیین ، حدیث العرباض بن ساریہ عن النبی ﷺ 17272)
حضرت عبدالرحمن بن عمرو سلمیؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرباض بن ساریہؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک بار رسول اللہﷺ نے ایک ایسا پر اثر وعظ کیا کہ جس کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے دل ڈر گئے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! یہ تو ایسی نصیحت ہے جیسے ایک الوداع کہنے والا وصیت کرتا ہے، ہمیں کوئی ایسی ہدایت فرمائیے کہ ہم صراط مستقیم پر قائم رہیں آپﷺ نے فرمایا میں تمہیں ایک روشن اور چمکدار راستے پر چھوڑے جا رہا ہوں اس کی رات بھی اس کے دن کی طرح ہے سوائے بدبخت کے اس سے کوئی بھٹک نہیں سکتا اور تم میں سے جو شخص رہا وہ بڑا اختلاف دیکھے گا ایسے حالات میں تمہیں میری جانی پہچانی سنت پر چلنا چاہئے اور خلفائے راشدین مہدیین کی سنت پر چلنا چاہئے تم اطاعت کو اپنا شعار بنا ؤ خواہ حبشی غلام ہی تمہارا امیر مقرر کر دیا جائے اس دین کو تم مضبوطی سے پکڑو مومن کی مثال نکیل والے اونٹ کی سی ہے جدھر اسے لے جا ؤ وہ ادھر چل پڑتا ہے اور اطاعت کا عادی ہوتا ہے۔
عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم عرباض بن ساریہؓ کے پاس آئے، وہ ان میں سے تھے جن کے بارے میں نازل ہوا وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ (التوبہ:93) (اور نہ ان لوگوں پر کوئى حرف ہے کہ جب وہ تیرے پاس آتے ہیں تاکہ تُو انہیں (جہاد کے لئے ساتھ) کسی سواری پر بٹھا لے تو تُو انہیں جواب دیتا ہے میں تو کچھ نہیں پاتا جس پر تمہیں سوار کر سکوں) تو ہم نے سلام کیا اور ہم نے کہا ہم آپ کے پاس آئے ہیں زیارت کرتے ہوئے، عیادت کرتے ہوئے اور علم حاصل کرتے ہوئے۔ اس پر حضرت عرباضؓ نے کہا ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں بہت مؤثر وعظ فرمایا جس سے آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے اور جس سے دل ڈر گئے۔ پھر ایک کہنے والے نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یہ گویا کسی الوداع کرنے والے کا وعظ ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں اللہ کا تقوی (اختیار کرنے) اور سننے اور اطاعت کرنے کی نصیحت کرتا ہوں، اگرچہ وہ حبشی غلام ہی ہو، کیونکہ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا تو وہ بہت اختلاف دیکھے گا۔ تم میری سنت اور اللہ تعالیٰ سے ہدایت پانے والے خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑے رہنا اور اس کو خوب مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور نئے نئے امور سے اجتناب کرنا۔ یقیناً ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
(مسلم کتاب الامارۃ باب الامر بلزوم الجماعۃ عند ظھور الفتن… (3427
نافع سے روایت ہے کہ یزید بن معاویہ کے زمانہ میں جب حرّہ کا واقعہ ہوا تو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ، عبد اللہ بن مطیع کے پاس آئے انہوں (عبداللہ بن مطیع) نے کہا ابو عبد الرحمان کے لئے تکیہ لگاؤ انہوں (حضرت ابن عمرؓ) نے کہا کہ …………………. میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپؐ فرما رہے تھے جس نے اطاعت سے ہاتھ کھینچا وہ قیامت کے دن اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اور جو اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
نے فرمایا جو شخص اپنے سردار اور امیر میں کوئی ایسی بات دیکھے جو اسے پسند نہ ہو تو صبر سے کام لے کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی دور ہوتا ہے وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص تمہارے پاس آئے۔ تم ایک شخص پر متفق ہو اور وہ تمہارا عصا توڑنا چاہے یا تمہاری جماعت میں تفرقہ پیدا کرنا چاہے تو اسے قتل کردو۔
حضرت سفینہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے خلافت تیس سال رہے گی اس کے بعد ملوکیت کا دور ہو گا۔ سفینہ نے کہا اب گن لو ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت دو سال، عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت دس سال، عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت بارہ سال اور علی رضی اللہ عنہ کی خلافت چھ سال (یہ کل تیس سال بنے)۔