حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! آپ کے بعد ایسا معاملہ سامنے آ جاتا ہے جس کے بارہ میں نہ قرآن کریم میں کوئی تصریح ملتی ہے اور نہ آپ کی کسی سنت کا علم ہوتا ہے ایسے وقت میں کیا کیا جائے آپ نے فرمایا اصحاب علم اور سمجھدار لوگوں کو بلاؤ اور معاملہ ان کے سامنے مشورہ کی غرض سے پیش کرو اکیلے صرف اپنی رائے سے کوئی فیصلہ نہ کرو۔
(اعلام الموقعین عن رب العالمین ، فصل کلام الائمۃ فی الفتیا ، فصل تاویل ما روی عن الصحابہ من الاخذ بالرای ، جُمْلَةٌ مَنْ أَخْذِ الصَّحَابَةِ بِالرَّأْيِ،جلد 2صفحہ 121)
حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ (ایک بار) انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! بعض اوقات ایسا معاملہ سامنے آ جاتا ہے جس کے بارہ میں نہ قرآن کریم میں کوئی تصریح ملتی ہے اور نہ آپ کی کسی سنت کا علم ہوتا ہے ایسے وقت میں کیا کیا جائے آپ نے فرمایا اصحاب علم اور سمجھدار لوگوں کو بلا ؤ اور معاملہ ان کے سامنے مشورہ کی غرض سے پیش کرو اکیلے صرف اپنی رائے سے کوئی فیصلہ نہ کرو۔
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فوت ہوگئے اور حضرت ابوبکرؓ اس وقت سنح میں تھے۔ اسماعیل نے کہا یعنی مضافات میں۔ (یہ خبر سن کر) حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے، کہنے لگے: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ فوت نہیں ہوئے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: حضرت عمرؓ کہا کرتے تھے بخدا میرے دل میں یہی بات آئی تھی۔ اور انہوں نے کہا اللہ آپ کو ضرور ضرور اُٹھائے گا تا بعض آدمیوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دے۔ اتنے میں حضرت ابوبکرؓ آگئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور آپؐ کو بوسہ دیا۔ کہنے لگے میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ آپؐ زندگی میں بھی اور موت کے وقت بھی پاک و صاف ہیں۔ اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ آپؐ کو کبھی دو موتیں نہیں چکھائے گا۔ یہ کہہ کر حضرت ابوبکرؓ باہر چلے گئے اور کہنے لگے: ارے قسم کھانے والے ٹھہر جا۔ جب حضرت ابوبکرؓ بولنے لگے، حضرت عمرؓ بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے حمد و ثناء بیان کی اور کہا دیکھو! جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا، سن لے کہ محمدؐ تو یقیناً فوت ہوگئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اسے یاد رہے کہ اللہ زندہ ہے، کبھی نہیں مرے گا۔ اور حضرت ابوبکرؓ نے یہ آیت پڑھی: تم بھی مرنے والے ہو اور وہ بھی مرنے والے ہیں۔ پھر انہوں نے یہ آیت بھی پڑھی: محمدؐ صرف ایک رسول ہیں۔ آپؐ سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔ تو پھر کیا اگر آپؐ فوت ہوجائیں یا قتل کئے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے تو وہ اللہ کو ہرگز نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور عنقریب اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا۔ سلیمان کہتے تھے یہ سن کر لوگ اتنے روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔ سلیمان کہتے تھے اور انصار بنی ساعدہ کے گھر حضرت سعد بن عبادہؓ کے پاس اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے: ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر بن خطابؓ اور حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ ان کے پاس گئے۔ حضرت عمرؓ بولنے لگے۔ حضرت ابوبکرؓ نے انہیں خاموش کیا۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے اللہ کی قسم! میں نے جو بولنا چاہا تو اس لئے کہ میں نے ایسی تقریر تیار کی تھی جو مجھے بہت پسند آتی تھی۔ مجھے ڈر تھا کہ حضرت ابوبکرؓ اس تک نہ پہنچ سکیں گے یعنی ویسا نہ بول سکیں۔ پھر اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے تقریر کی اور ایسی تقریر کی جو بلاغت میں تمام لوگوں کی تقریروں سے بڑھ کر تھی۔ انہوں نے اپنی تقریر کے اثناء میں کہا ہم امیر ہیں اور تم وزیر ہو۔ حباب بن منذرؓ نے یہ سن کر کہا ہرگز نہیں۔ اللہ کی قسم! ہرگز نہیں۔ بخدا! ہم ایسا نہیں کریں گے۔ ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر آپ میں سے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا نہیں بلکہ امیر ہم ہیں اور تم وزیر ہو کیونکہ یہ قریش لوگ (بلحاظِ نسب) تمام عربوں سے اعلیٰ ہیں اور بلحاظِ حسب وہ قدیمی عرب ہیں۔ اس لئے عمرؓ یا ابوعبیدہؓ کی بیعت کرو۔ حضرت عمرؓ نے کہا نہیں، بلکہ ہم تو آپؓ کی بیعت کریں گے کیونکہ آپؓ ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سے بہتر ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو ہم میں سے زیادہ پیارے ہیں۔ یہ کہہ کر حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کا ہاتھ پکڑا اور اُن سے بیعت کی اور لوگوں نے بھی ان سے بیعت کی۔ ایک کہنے والے نے کہا سعد بن عبادہؓ کو تم نے مار ڈالا ہے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا اللہ نے اسے مارا ہے۔ اور عبداللہ بن سالم نے زبیدی سے نقل کیا کہ عبدالرحمٰن بن قاسم نے کہا قاسم (بن محمد) نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ وفات کے وقت نبی
(بخاری کتاب المغازی باب مرض النبیﷺ ووفاتہ 4452،4453،4454)
حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آنحضرتﷺ کی وفات کی خبر سن کر اپنے مکان سے جو سخ نامی محلہ میں تھا گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور مسجد کے قریب گھوڑے سے اتر کر کسی سے کوئی بات کئے بغیر مسجد میں آئے اور حضرت عائشہؓ کے حجرے میں گئے رسول اللہﷺ کا چہرہ مبارک منقش کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا آپﷺ نے چہرہ مبارک سے کپڑا اٹھایا جھک کر بوسہ دیا اور رو کر کہا میرے ماں باپ آپﷺ پر فدا ہوں خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ آپﷺ کے لئے دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا جسمانی وفات تو ہو چکی لیکن آپﷺ کا لایا ہوا دین کبھی نہیں مٹ سکتا حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں جب حضرت ابو بکرؓ آنحضرتﷺ کے حجرے سے باہر آئے اور مسجد میں گئے تو آپ نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ لوگوں سے باتیں کر رہے ہیں آپ نے کہا اے عمر بیٹھ جائیے لیکن حضرت عمرؓ نہ بیٹھے تا ہم لوگ حضرت عمرؓ کو چھوڑ کر حضرت ابو بکرؓ کی طرف متوجہ ہو گئے آپ نے ان میں تقریر کی اور حمد و ثناء کے بعد کہا کہ جو شخص تم میں سے محمدﷺ کی عبادت کرتا تھا اسے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ تو فوت ہو گئے لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا اسے یقین ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے کبھی نہیں مرے گا اللہ تعالیٰ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ …………… یعنی محمد بھی اللہ کے رسول ہیں اور آپ سے پہلے جتنے رسول ہوئے وہ سب فوت ہو چکے ہیں تو محمدﷺ کے فوت ہونے میں کون سی اچھنبے کی بات ہے یہ پوری آیت آپؓ نے پڑھی راوی کہتے ہیں کہ جب آپ اس آیت کی تلاوت کر رہے تھے تو یوں لگتا تھا جیسے لوگوں کو آج اس آیت کا علم ہوا ہے اس کے بعد ہر شخص کی زبان پر یہ آیت تھی وہ اسے پڑھتا اور روتا گویا وہ یقین کرنے لگا کہ واقعی ان کے آقا سرور دو عالمﷺ فوت ہو گئے ہیں حضرت عمرؓ کہتے ہیں خدا کی قسم! جب میں نے حضرت ابو بکرؓ کو یہ آیت پڑھتے سنا تو میری جان سکتے میں آ گئی، میرے پاؤں مجھے اٹھا نہیں رہے تھے میری ٹانگیں لڑکھڑانے لگیں میں زمین پر بیٹھ گیا اور مجھے یقین آنے لگا کہ واقعی آنحضرتﷺ فوت ہو گئے ہیں۔
(مسند امام اعظم (امام ابی حنیفہ) کتاب الفضائل و الشمائل باب بیان فضائل النبیﷺ(363
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکرؓ نے جب دیکھا کہ رسول اللہﷺ کی طبیعت پہلے کی نسبت کچھ ٹھیک ہے تو آپ نے حضور علیہ السلام سے اپنی بیوی خارجہ کے یہاں جانے کی اجازت طلب کی جو انصار کے احاطہ میں رہتی تھیں۔ حضور نے اجازت دے دی۔ پھر رسول اللہﷺ اسی رات فوت ہو گئے۔ صبح لوگ آپس میں مختلف قسم کی چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ حضرت ابو بکرؓ نے اپنے غلام کو کہا کہ پتہ کرکے آؤ کہ صورت حال کیا ہے۔ غلام نے آ کر بتایا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ حضرت محمدﷺ فوت ہو گئے ہیں۔ ابو بکرؓ پر یہ بات بہت گراں گزری اور کہنے لگے ہائے یہ کیا ہو گیا۔ ابو بکرؓ ابھی مسجد نبوی نہیں پہنچے تھے اور یہ سمجھا گیا کہ وہ نہیں آئیں گے۔ اس وقت منافقین یہ مشہور کر رہے تھے کہ محمد اگر نبی ہوتے تو فوت نہ ہوتے۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ نے کہا کہ اگر میں نے کسی شخص کو یہ کہتے سنا کہ محمدﷺ فوت ہو گئے ہیں تو میں اس شخص کا سر تلوار سے اڑا دوں گا۔ لوگ ڈر کی وجہ سے خاموش ہو گئے اور اس قسم کی باتیں کرنے سے رک گئے۔ جب ابو بکرؓ آئے اس وقت نبی ﷺ پر چادر ڈالی ہوئی تھی۔ ابو بکرؓ نے آپﷺ کے چہرہ مبارک پر سے کپڑا اٹھایا اور پیشانی چوم کر کہا اللہ تعالیٰ آپﷺ کو دو موتوں کا مزہ نہیں چکھائے گا (یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ جسمانی اور روحانی ہر دو لحاظ سے آپﷺ فوت ہو جائیں دین کے لحاظ سے آپﷺ ہمیشہ زندہ رہیں گے) اس کے بعد حجرہ مبارک سے باہر آئے اور لوگوں کو مخاطب کرکے کہا کہ جو شخص محمد(ﷺ) کی عبادت کیا کرتا تھا تو وہ سن لے کہ محمد(ﷺ) فوت ہو گئے ہیں اور جو شخص محمدﷺ کے رب کی عبادت کیا کرتا تھا تو وہ سنے کہ محمدﷺ کا رب زندہ ہے وہ کبھی نہیں مرے گا۔ اس کے بعد آپؓ نے یہ آیت پڑھی وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (آل عمران 145) یعنی محمد بھی ایک رسول ہیں (وہ بھی فوت ہو سکتے ہیں) جیسے اس سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں پس اگر یہ رسول (یعنی محمد) بھی فوت ہو جائے تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے… حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ ابو بکرؓ کی یہ باتیں سن کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے یہ آیت اس سے قبل پڑھی ہی نہیں تھی (یعنی اس آیت کی طرف پہلے میرا دھیان نہیں گیا تھا) بہرحال سب لوگوں کی زبان پر حضرت ابو بکرؓ کی یہ تقریر اور آیت وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ… جاری تھی اور وہ زار و قطار رو رہے تھے۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام اتوار اور پیر کی درمیانی رات فوت ہوئے۔ جنازہ دو رات رکھا رہا اس کے بعد منگل کے پچھلے پہر تدفین عمل میں آئی۔ حضرت علی اور فضل بن عباس نے آپ
(مسلم کتاب فضائل الصحابہ ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق ؓ(4385
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیماری میں مجھ سے فرمایا کہ ابو بکرؓ اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں۔ مجھے ڈر ہے کہ کوئی خواہش کرنے والا خواہش کرے یا کوئی کہنے والا کہے کہ میں زیادہ حق دار ہوں لیکن اللہ اور مومن تو سوائے ابو بکرؓ کے (کسی اور کا) انکار کریں گے۔
(مسند امام اعظم (ابی حنیفہ) کتاب الصلاۃ ،باب بیان صلاۃ المریض 129)
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ مرض الوفات کے دوران ایک موقع ایسا بھی آیا کہ آنحضرتﷺ کو کچھ افاقہ محسوس ہوا نماز کا وقت تھا آپﷺ نے مجھ سے کہا کہ ابو بکر کو نماز پڑھانے کے لئے پیغام بھیج دو میں نے ابو بکرؓ کو کہلا بھیجا کہ رسول اللہﷺ نماز پڑھانے کا ارشاد فرماتے ہیں ابو بکرؓ نے کہلا بھیجا کہ میں بڑی عمر کا بوڑھا ہوں اور کمزور دل والا ہوں جب مصلے پر رسول اللہﷺ کو نہ دیکھ پاؤں گا تو اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکوں گا اس لئے تم اور حفصہ دونوں مل کر حضور سے عمر کے نام پیغام بھجواؤ جب ہم دونوں نے حضورﷺ سے ایسا کہا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا اَنْتُنَّ صوَاحِبُ یُوسُفَ کہ تم تو اسی طرح کی عورتیں ہو جیسی یوسف کے خلاف سازش کرنے والی تھیں ابو بکر کو نماز پڑھانے کے لئے کہو جب حضور نے موذن کی آواز حَيَّ عَلَى الصّلَاةِ سنی تو فرمایا مجھے کھڑا کرو (یعنی اٹھا کر نماز کے لئے لے چلو) اس پر عائشہ نے کہا حضور آپ تو حضرت ابوبکرؓ کو نماز پڑھانے کے لئے فرما چکے ہیں اور آپ تکلیف کی وجہ سے معذور بھی ہیں حضورﷺ نے فرمایا مجھے اٹھاؤ میری دلی تسکین نماز سے ہوتی ہے اس پر دو آدمیوں نے پکڑ کر حضورﷺ کو اٹھایا اور سہارا دے کر نماز کے لئے لے چلے حضور علیہ السلام کے قدم زمین پر گھسٹ رہے تھے جب حضرت ابو بکرؓ نے رسول اللہﷺ کی آمد کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگے رسول اللہﷺ نے اشارہ سے انہیں اپنی جگہ ٹھہرنے کے لئے فرمایا اور خود حضرت ابو بکرؓ کے بائیں طرف بیٹھ گئے اور رسول اللہﷺ کی تکبیر پر حضرت ابو بکرؓ تکبیر کہتے اور مقتدی ابو بکرؓ کی تکبیر کی اقتداء کرتے اس طرح نماز پوری ہوئی یہ لوگوں کی نبیﷺ کے پیچھے آخری نماز تھی اس کے بعد نبیﷺ فوت ہو گئے۔
(بخاری کتاب اصحاب النبیﷺ باب قول النبیﷺلو کنت متخذا خلیلا 3667،3668، 3669،3670)
ﷺ
کی ٹکٹکی بندھ گئی اور آپؐ نے تین بار فرمایا رفیق اعلیٰ کے ساتھ۔ اور پھر انہوں نے یہی واقعہ بیان کیا۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے خطبوں میں سے کوئی بھی ایسا خطبہ نہ تھا کہ جس کے ذریعہ سے اللہ نے فائدہ نہ پہنچایا ہو۔ حضرت عمرؓ نے بھی لوگوں کو ڈرایا جبکہ ان میں نفاق تھا۔ پھر اللہ نے ان کو ان خطبوں کے ذریعہ سے پھر ویسے کا ویسا بنا دیا۔ پھر حضرت ابوبکرؓ نے بھی لوگوں کو سیدھا راستہ دکھلایا اور ان کو وہ سچائی شناخت کرا دی جس پر کہ وہ پہلے تھے اور وہ یہی آیت پڑھتے باہر نکلے تھے اور محمدؐ نہیں ہے مگر ایک رسول۔ یقیناً اس سے پہلے رسول فوت ہو چکے ہیں۔
ﷺ
کو غسل دیا۔ اسامہ بن زیدؓ اور اوس بن خولہؓ نے پانی ڈالا۔