بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 2 of 2 hadith
سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کو (یہ دعا) سکھایا کرتے تھے جب وہ قبرستان جائیں اور ان میں سے کہنے والا ـــ ابو بکر کی روایت کے مطابق ـــ کہتا تھا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ گھر والوں پر سلام ہو۔ اور زہیر کی روایت میں ہے السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ تم پر سلام اے گھر والو! مومنوں اور مسلمانوں میں سے اور ہم انشاء اللہ ضرور ملنے والے ہیں۔ میں اللہ سے اپنے لئے اور تمہارے لئے عافیت مانگتا ہوں۔
محمد بن قیس نے ایک دن کہا کیا میں تمہیں اپنے اور اپنی ماں کے بارہ میں حدیث نہ سناؤں۔ لوگ سمجھے ان کی مراد اپنی ماں سے ہے جو اُن کی حقیقی والدہ تھیں۔ انہوں نے کہا حضرت عائشہؓ نے فرمایا کیا میں تمہیں اپنے اور رسول اللہﷺ کے بارہ میں بات نہ سناؤں؟ ہم نے کہا کیوں نہیں۔ راوی کہتے ہیں حضرت عائشہؓ نے فرمایا ایک دفعہ اس رات میں جس میں نبیﷺ میرے ہاں تھے۔ آپؐ گھر لوٹے، اپنی چادر رکھ دی اور اپنے جوتے اتارے اور اپنے پاؤں کے قریب رکھ دیئے۔ اور اپنے ازار کا ایک پہلو بستر پر بچھایا اور لیٹ گئے۔ اور آپ اتنا وقت ٹھہرے کہ آپ نے خیال فرمایا کہ میں سو گئی ہوں تو آپؐ نے آہستہ سے اپنی چادر لی۔ آہستہ سے اپنے جوتے پہنے اور دروازہ کھولا اور باہر چلے گئے۔ پھر اُسے آرام سے بند کر دیا۔ میں نے اپنی قمیص سر پر سے پہنی اور اپنی اوڑھنی لی اور ازار پہنا اور آپؐ کے پیچھے چل پڑی یہانتک کہ آپؐ بقیع پہنچ گئے۔ آپؐ کھڑے ہوئے اور لمبا قیام فرمایا پھر آپؐ نے تین مرتبہ دونوں ہاتھ اٹھائے۔ پھر آپؐ واپس مڑے اور میں بھی مڑی۔ آپؐ تیز چلنے لگے، میں بھی تیز چلنے لگی۔ آپؐ نے رفتار اور تیز کی تو میں نے بھی کر لی۔ آپؐ تیز دوڑنے لگے میں بھی تیز دوڑنے لگی پھر آپؐ گھر آگئے اور میں آپؐ سے پہلے اندر داخل ہوئی۔ پس میں لیٹی ہی تھی کہ آپؐ اندر آگئے اور فرمایا اے عائش! تمہیں کیا ہوا؟ تمہارا سانس کیوں پھولا ہوا ہے؟ وہ کہتی ہیں میں نے کہا کوئی بات نہیں۔ آپؐ نے فرمایا تم ضرور مجھے بتاؤ گی ورنہ لطیف و خبیر (خدا) مجھے بتا دے گا۔ وہ کہتی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں۔ پھر میں نے آپؐ کو ساری بات بتا دی۔ آپؐ نے فرمایا (اچھا) تو تم وہ سایہ تھیں جسے میں نے اپنے آگے دیکھا تھا؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا جو مجھے محسوس ہوا۔ پھر فرمایا کیا تم نے گمان کیا تھا کہ اللہ اور اس کا رسولﷺ تمہاری حق تلفی کریں گے؟ حضرت عائشہؓ نے کہا جو کچھ بھی لوگ چھپاتے ہیں اللہ اسے جانتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا ہاں جبرائیل میرے پاس آئے جب تم نے دیکھا اور انہوں نے مجھے بلایا اور تم سے انہوں نے مخفی رکھا۔ میں نے ان کی بات قبول کی اور اسے تم سے مخفی رکھا۔ جب تم اپنے کپڑے رکھ چکی تو اس نے تمہارے پاس نہیں آنا تھا مجھے خیال تھا کہ تم سو چکی ہو اور میں نے ناپسند کیا کہ تمہیں جگاؤں اور مجھے اندیشہ ہوا کہ تم تنہائی محسوس کروگی۔ انہوں (جبرائیل) نے کہا کہ آپؐ کا رب آپؐ کو ارشاد فرماتا ہے کہ آپؐ بقیع والوں کے پاس جائیں اور ان کے لئے بخشش مانگیں۔ وہ کہتی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ! میں ان کے لئے کیسے دعا کروں؟ آپؐ نے فرمایا تم کہو، مومنوں اور مسلمانوں میں سے گھر والوں پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ ہم میں سے آگے جانے والوں اور بعد میں جانے والوں پر رحم فرمائے اور اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۔ دِرْعٌ سے مراد چھوٹی قمیص ہوتی ہے جو صدری کی طرح ہوتی ہے۔