بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 11 hadith
حضرت سفیان بن عبداللہ الثقفیؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مجھے اسلام کے بارہ میں کوئی ایسا ارشاد فرمائیں کہ مجھے آپؐ کے بعد کسی سے اس بارہ میں پوچھنے کی ضرورت نہ ہو۔ ابو اسامہ کی روایت میں آپؐ کے (’’بعد‘‘ کے بجائے) علاوہ کے الفاظ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہو ’’میں اللہ پر ایمان لایا‘‘ پھر اس پر قائم رہو۔
حضرت خباب بن ارتؓ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے شکوہ کیا اور آپؐ اس وقت کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ ہم نے آپؐ سے کہا کیا آپؐ ہمارے لئے نصرت کی دعا نہیں کریں گے؟ کیا آپؐ اللہ سے ہمارے لئے دعا نہیں کریں گے؟ آپؐ نے فرمایا تم میں سے جو پہلے لوگ تھے، ان میں کوئی شخص ایسا بھی ہوتا جس کے لئے زمین میں گڑھا کھودا جاتا۔ پھر وہ اس میں گاڑ دیا جاتا اور آرا لا کر اس کے سر پر رکھا جاتا اور وہ دو ٹکڑے کر دیا جاتا اور یہ بات اس کو اس کے دین سے نہ روکتی اور لوہے کی کنگھیاں چلا کر اس کا گوشت ہڈیوں یا پٹھوں سے نوچتے اور یہ بات اس کو اس کے دین سے نہ روکتی۔ اللہ کی قسم! اس سلسلہ (کی کامیابی) کو (پروردگار) ضرور مکمل کرے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک سفر کرے گا۔ کسی سے نہیں ڈرے گا، سوا اللہ کے، یا اپنی بکریوں کی بابت بھڑئیے سے۔ مگر بات یہ ہے کہ تم (کامیابی) جلدی چاہتے ہو۔
حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) نے بیان کیا کہ گویا میں نبی ﷺ کو اَب بھی دیکھ رہا ہوں کہ نبیوں میں سے ایک نبی کا حال آپ سنا رہے ہیں جس کو اس کی قوم نے مار مار کر لہو لہان کر دیا تھا اور وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہے تھے اور کہتے جاتے تھے: اے اللہ! میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ نہیں جانتے۔
حضرت صہیبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے اس کا معاملہ سراسر خیر ہے اور یہ مومن کے علاوہ کسی کے لئے نہیں۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لئے خیر ہے اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے یہ (بھی) اس کے لئے خیر ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان کو کوئی ایسی تکلیف نہیں پہنچتی اور بیماری اور غم اور نہ رنج اور نہ کوئی دکھ اور نہ کوئی گھبراہٹ یہاں تک کہ وہ کانٹا بھی جو اسے چبھ جاتا ہے مگر ضرور ہے کہ اللہ اس کی وجہ سے اس کی غلطیوں کو دور کر دیتا ہے۔
حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں یقیناً اللہ عزوجل کی کتاب میں وہ آیت جانتی ہوں جو سب سے زیادہ شدید ہے۔ آپؐ نے فرمایا اے عائشہ! کونسی آیت؟ آپ نے کہا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ (النساء:124) جو بھى بُرا عمل کرے گا اسے اس کى جزا دى جائے گى۔ آپ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتیں اے عائشہ! کہ جب کسی مومن کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کانٹا تو وہ اس کے سب سے برے اعمال کا بدلہ ہوجاتا ہے اور جس سے حساب لیا گیا اسے عذاب دیا جائے گا۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا تو ىقىناً اُس کا آسان حساب لىا جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا وہ تو صرف پیشی ہے اے عائشہ! جس سے خوب کرید کر حساب لیا گیا اسے عذاب دیا جائے گا۔
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات میرے ہاں بچہ کی ولادت ہوئی۔ میں نے اس کا نام اپنے باپ ابراہیم کے نام پر رکھا ہے۔ پھر آپ ؐ نے اسے ایک لوہار ابو سیف کی بیوی امّ سیف کے پاس بھیج دیا۔ حضور ﷺ اس کے پاس جانے کے لئے چلے اور میں بھی آپ ؐ کے ساتھ گیا۔ ہم ابو سیف کے پاس پہنچے اور وہ بھٹی دھونک رہا تھا۔ اس کا گھر دھوئیں سے بھر گیا تھا۔ تو میں تیزی سے رسول اللہ ﷺ کے آگے چلا۔ میں نے کہا اے ابو سیف! رُک جاؤ، رسول اللہ ﷺ تشریف لارہے ہیں۔ وہ رُک گیا۔ پھر نبی ﷺ نے بچہ کو بلوایا اور اسے اپنے ساتھ چمٹایا پھر جو اللہ نے چاہا آپ ؐ نے فرمایا حضرت انس ؓ کہتے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ وہ (بچہ) رسول اللہ ﷺ کے سامنے آخری سانس لے رہا تھا اور رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ پھر آپ ؐ نے فرمایا آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے مگر ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے سوائے اس کے جس میں ہمارے رب کی رضا ہے۔ خدا کی قسم اے ابراہیم ؓ !یقینا ہم تیری وجہ سے غمگین ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ حضرت سعد بن عبادہؓ کو کسی بیماری کی شکایت ہوئی تو رسول اللہ ﷺ ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو اپنے ساتھ لے کر ان کی بیمار پرسی کے لئے گئے۔ جب ان کے پاس پہنچے تو آپ نے ان کو گھر والوں کے جمگھٹ میں پایا۔ آپ نے فرمایا کیا فوت ہوگئے ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں یا رسولؐ اللہ۔ نبی ﷺ رو پڑے۔ لوگوں نے نبی ﷺ کو روتے دیکھا تو وہ بھی روئے۔ آپ نے فرمایا سنتے نہیں۔ دیکھو اللہ آنکھ کے آنسو نکلنے سے عذاب نہیں دیتا اور نہ دل کے غمگین ہونے پر۔ بلکہ اس کی وجہ سے سزا دے گا یا رحم کرے گا اور آپ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آنحضرتﷺ کے سامنے ابوبکرؓ کو برا بھلا کہہ رہا تھا اور حضرت ابو بکرؓ چپ تھے حضورﷺ بیٹھے مسکراتے رہے اور تعجب کرتے رہے جب اس شخص نے گالیاں دینے میں حد کر دی تو ابو بکرؓ نے بھی جواباً کچھ الفاظ کہے۔ اس پر نبی ﷺ ناراضگی کے انداز میں کھڑے ہو گئے اور چل پڑے۔ حضرت ابوبکرؓ نے جا کر حضورﷺ سے عرض کیا کہ حضور جب تک وہ مجھے گالیاں دیتا رہا آپ سنتے رہے اور بیٹھے رہے لیکن جب میں نے اس کا جواب دیا تو آپ ناراض ہو کر اٹھ آئے اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا اے ابو بکر جب تک تم خاموش تھے فرشتے تمہاری طرف سے اسے جواب دے رہے تھے لیکن جب تم نے خود جواب دینا شروع کیا تو فرشتے چلے گئے اور شیطان آ گیا۔ میں شیطان کے ساتھ کس طرح بیٹھ سکتا تھا۔ پھر فرمایا اے ابو بکر تین باتیں بر حق ہیں۔ اول یہ کہ اگر کسی انسان سے زیادتی ہو اور وہ اللہ کی خاطر درگزر سے کام لے تو اللہ تعالیٰ اسے عزت کا مقام عطاء کرتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے۔ دوسری یہ کہ جس شخص نے بخشش کا دروازہ کھولا اور اس کا مقصد صرف صلہ رحمی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے مال کو زیادہ کرے گا اور اسے بہت دے گا۔ تیسری یہ کہ جس شخص نے اس غرض سے مانگنا شروع کیا ہے کہ اس کا مال زیادہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے مال کو بڑھانے کی بجائے کم کر دے گا۔ یعنی تنگ دستی اس کا پیچھا کرے گی۔
حضرت سلیمان بن صُرَدؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک کا چہرہ سرخ ہوگیا اور اس کی گردن کی رگیں پھول گئیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا میں ایک کلمہ جانتا ہوں کہ اگر وہ اسے کہے تو جو غصہ اس کو ہے وہ جاتا رہے گا۔ اگر وہ یہ کہے میں شیطان سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں تو جو غصہ اس کو ہے وہ جاتا رہے گا۔ لوگوں نے اس سے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے: تم شیطان سے (بچنے کے لیے) اللہ کی پناہ مانگو۔