بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 9 hadith
حضرت زیاد اپنے چچا قطبہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: اے میرے اللہ! میں برے اخلاق اور برے اعمال سے اور بری خواہشات سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ نبی
حضرت عبد اللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے اور کھلانے والے پر لعنت کی ہے۔
حضرت نواس بن سمعانؓ انصاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا۔ آپؐ نے فرمایا نیکی حسنِ خلق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینہ میں کھٹکے اور تو ناپسند کرے کہ لوگوں کو اس کا پتہ لگے۔
حضرت نواس بن سمعانؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارہ میں پوچھا۔ نبیﷺ نے فرمایا نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھے ناپسند ہو کہ لوگوں کو اس کا پتہ چلے اور تیری اس کمزوری سے وہ واقف ہوں۔
حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا تین باتیں ہر گناہ کی جڑ ہیں ان سے بچنا چاہئے۔ تکبر سے بچو کیونکہ تکبر نے ہی شیطان کو اس بات پر اکسایا کہ وہ آدم کو سجدہ نہ کرے۔ دوسرے حرص سے بچو کیونکہ حرص نے ہی آدم کو درخت کھانے پر اکسایا۔ تیسرے حسد سے بچو کیونکہ حسد کی وجہ سے ہی آدم کے دو بیٹوں میں سے ایک نے اپنے دوسرے بھائی کو قتل کر دیا تھا۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ (صحابہؓ نے) عرض کیا یا رسول اللہ! کیا کوئی اپنے والدین کو گالی دیتا ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا ہاں، وہ کسی شخص کے باپ کو گالی دیتا ہے اور وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔
حضرت سمرہ بن جندبؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ ؓ سے اکثر یہ پوچھا کرتے تھے۔ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا؟ حضرت سمرہؓ کہتے تھے۔ تو پھر وہ لوگ جن کے متعلق اللہ چاہتا کہ بیان کریں آپ سے بیان کرتے اور ایک دن صبح کے وقت آپ نے فرمایا آج رات دو آنے والے میرے پاس آئے۔ انہوں نے مجھے اٹھایا اور مجھ سے کہنے لگے۔ چلو۔ میں ان کے ساتھ چل پڑا اور ہم ایک شخص کے پاس آئے جو لیٹا ہوا تھا اور اتنے میں دیکھا کہ ایک دوسرا شخص ہے جو پتھر لئے اس کے پاس کھڑا ہے اور وہ جھک کر پتھر اس کے سر پر مارتا ہے اور سر کو پھوڑ دیتا ہے اور پھر وہ پتھر ادھر ڈھلک جاتا اور وہ پتھر کے پیچھے جاتا اور اس کو لیتا اور ابھی اس کے پاس لوٹ کر نہ آتا کہ اس کا سر ویسے ہی درست ہو جاتا جیسے پہلے تھا۔ پھر وہ اس کے پاس آتا اور اس سے وہی کرتا جو پہلی دفعہ کیا۔ آپ فرماتے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا۔ سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں؟ آپ فرماتے تھے۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا۔ چلے چلو۔ فرماتے تھے۔ ہم چل پڑے اور ایک شخص کے پاس آئے جو اپنی گدی کے بل چت لیٹا ہوا تھا اور ایک اور شخص ہے جو اس کے پاس لوہے کا کانٹا لئے کھڑا ہے اور وہ ان کے منہ کے ایک طرف جا کر اس کی باچھ اس کی گدی تک چیر ڈالتا اور اس کا نتھنا بھی گدی تک اور اس کی آنکھ بھی گدی تک چیر ڈالتا اور عوف اعرابی کہتے تھے اور کبھی ابورجاء نے بجائے یُشَرشِرُ کے یَشُقُّ کہا۔ آپ فرماتے تھے اس کے بعد وہاں سے ہٹ کر دوسرے رخسار کی طرف جاتا اور اس سے وہی کرتا جو اس نے اس کے منہ کے پہلے رخسار سے کیا تھا۔ اس طرف سے ابھی فارغ نہ ہوتا کہ وہ پہلی طرف ویسی اچھی بھلی ہو جاتی جیسی پہلی تھی۔ پھر اس کے پاس آتا اور ویسے ہی کرتا جو اس نے پہلی بار کیا تھا فرماتے تھے۔ میں نے کہا۔ سبحان اللہ یہ کون ہیں؟ فرماتے تھے۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا۔ چلے چلو۔ ہم چل پڑے۔ پھر ایک ایسے گڑھے پر پہنچے جو تنور کی طرح تھا۔ حضرت سمرہؓ بن جندب کہتے تھے میں سمجھتا ہوں کہ آپ یہ فرمایا کرتے تھے۔ تو کیا سنتا ہوں کہ اس گڑھے میں شور و غل ہے۔ فرماتے تھے۔ ہم نے اس میں جھانکا تو کیا دیکھا کہ اس میں مرد اور عورتیں ہیں جو ننگے ہیں اور کیا دیکھتے ہیں کہ وہ نیچے سے شعلے اٹھ کر ان پر لپک رہے ہیں۔ جب وہ شعلے ان پر لپکتے وہ چیختے چلاتے فرماتے تھے۔ میں نے ان دونوں سے پوچھا۔ یہ کون ہیں؟ انہوں نے مجھ سے کہا۔ چلے چلو۔ فرماتے تھے۔ ہم چل پڑے اور ایک ندی پر پہنچے۔ حضرت سمرہؓ کہتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں آپ فرمایا کرتے تھے جو خون کی طرح لال تھی اور کیا دیکھتے ہیں کہ اس ندی میں ایک تیراک شخص تیر رہا ہے اور کیا دیکھا کہ اس ندی کے کنارے پر ایک شخص ہے جس نے اپنے پاس بہت سے پتھر اکٹھے کر رکھے ہیں اور تیراک تیرتا رہتا ہے جتنی دیر تیرتا ہے پھر وہ اس شخص کی طرف منہ کرتا ہے جس نے اپنے پاس پتھر اکٹھے کر رکھے ہیں اور اس کے سامنے اپنا منہ کھول دیتا ہے تو وہ اس کے منہ میں وہ پتھر ڈال دیتا ہے اور پھر وہ جا کر تیرنے لگتا ہے۔ پھر کچھ تھوڑی دیر بعد وہ اس کے پاس لوٹ آتا ہے۔ جب کبھی وہ اس کے پاس لوٹ کر آتا ہے اپنا منہ اس کے سامنے کھول دیتا ہے اور وہ اس کے منہ میں پتھر رکھ دیتے۔ آپ فرماتے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا۔ یہ دونوں کون ہیں؟ فرماتے تھے۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا۔ چلے چلو۔ فرماتے تھے۔ ہم چل پڑے اور ہم ایسے شخص کے پاس آئے جو بدصورت تھا بہت ہی بدصورت ایسا کہ تم نے کبھی کسی شخص کو دیکھا ہو کیا دیکھتے ہیں کہ اس کے پاس آگ ہے جس سے وہ سلگا رہا ہے اور اس کے گردا گرد دوڑ رہا ہے۔ آپ فرماتے تھے میں نے ان سے کہا۔ یہ کون ہے؟ فرماتے تھے۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا۔ چلے چلو۔ ہم چل پڑے اور سرسبز باغیچہ کے پاس پہنچے جس میں موسم بہار کے ہر قسم کے غنچے تھے اور اس باغیچہ کے درمیان ایک لمبا شخص ہے اتنا لمبا کہ اونچائی کی وجہ سے میں اس کا سر بھی نہ دیکھ سکتا تھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ اس شخص کے گردا گرد اس کی کثرت سے کہ جو میں نے کبھی دیکھے فرماتے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا۔ یہ کون ہے اور یہ کون ہیں؟ فرماتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا۔ چلے چلو۔ آپ فرماتے تھے ہم چل پڑے اور ایک بہت ہی بڑے باغ پر پہنچے۔ میں نے کبھی اس سے بڑا اور نہ اس سے بڑھ کر خوبصورت کبھی کوئی باغ دیکھتا۔ فرماتے تھے انہوں نے مجھ سے کہا اس درخت پر چڑھ جاؤ۔ فرماتے تھے ہم اس پر چڑھ گئے اور ایک ایسے شہر پر پہنچے جو سونے کی اینٹوں اور چاندی کی اینٹوں سے بنا تھا اور ہم شہر کے دروازے پر آئے اور ہم نے (اسے) کھولنا چاہا۔ وہ ہمارے لئے کھول دیا گیا۔ ہم اس کے اندر گئے تو ہم کو ایسے آدمی ملے کہ جن کا آدھا دھڑ نہایت ہی خوبصورت ایسا کہ جو تم نے کبھی دیکھا ہو اور آدھا دھڑ نہایت ہی بدصورت ایسا کہ جو تم نے کبھی دیکھا ہو۔ فرماتے تھے۔ ان دونوں نے ان لوگوں سے کہا۔ چلے جاؤ اور اس ندی میں داخل ہو جاؤ۔ آپ فرماتے تھے اور کیا دیکھتے ہیں کہ ایک ندی ہے جو سامنے بہہ رہی ہے اس کا پانی ایسا صاف جیسا سفیدی میں خالص دودھ ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ لوگ گئے اور اس میں کود پڑے۔ پھر وہ ہمارے پاس لوٹ کر آئے وہ بدصورتی ان سے جاتی رہی اور وہ نہایت ہی خوبصورت ہوگئے۔ آپ فرماتے تھے ان دونوں نے مجھ سے کہا۔ یہ جنت عدن ہے اور وہ تمہارے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ آپ فرماتے تھے۔ میری نگاہ جو اوپر اٹھی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک محل ہے جو سفید ابر کی مانند ہے اور فرماتے تھے ان دونوں نے مجھ سے کہا۔ یہی تمہارے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ فرماتے تھے میں نے ان سے کہا۔ تم دونوں کو اللہ برکت دے مجھے اجازت دو کہ میں اس کے اندر جاؤں۔ ان دونوں نے کہا ابھی تو نہیں اور تم اس میں داخل ہوگے۔ فرماتے تھے میں نے ان سے کہا کہ آج جو میں نے عجیب باتیں دیکھیں ہیں تو وہ کیا ہے جو میں نے دیکھا ہے فرماتے تھے۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا۔ سنو ہم تمہیں اصل حقیقت بتلائے دیتے ہیں۔ وہ پہلا شخص جس کے پاس تم آئے تھے۔ اس کا سر پتھر سے پھوڑا جا رہا تھا تو وہ شخص ہے جو قرآن سیکھتا ہے اور پھر اس کو چھوڑ دیتا ہے اور فرض نماز کو چھوڑ کر سو رہتا ہے اور وہ شخص جس کے پاس تم آئے تھے جس کا جبڑا گدی تک اور اس کا نتھنا بھی گدی تک اور اس کی آنکھ بھی گدی تک چیری جا رہی تھی تو وہ شخص ہے جو اپنے گھر سے صبح نکلتا ہے اور ایک جھوٹی بات بناتا ہے جو چاروں طرف پہنچ جاتی ہے اور وہ ننگے مرد اور عورتیں جو تم نے ایسے گڑھے میں دیکھے جو تنور کی طرح بنا ہوا تھا وہ زنا کرنے والے اور زنا کرنے والیاں اور وہ شخص جس کے پاس تم آئے جو نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر دئیے جاتے تھے تو وہ سود خور ہے اور وہ بدصورت شخص جو آگ کے پاس تھا اس کو سلگا رہا تھا اور اس کے گردا گرد دوڑ رہا تھا تو وہ مالک فرشتہ ہے جو جہنم کا داروغہ ہے اور وہ شخص جو باغیچہ میں تھا تو وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں اور وہ بچے جو ان کے گردا گرد تھے وہ تمہارے بچے ہیں جو فطرت پر مر گئے۔ حضرت سمرہؓ کہتے تھے یہ سن کر بعض مسلمانوں نے کہا۔ یا رسول اللہ ! اور مشرکوں کے بچے (جو مر جاتے ہیں)؟ تو رسول اللہ
حضرت سمرہ بن جندبؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا (آج رات تم میں سے کس نے خواب دیکھا؟ (حضرت سمرہؓ) کہتے تھے: اگر کسی نے دیکھا ہوتا تو وہ بیان کرتا۔ پھر جو اللہ چاہتا، آپ تعبیر فرماتے۔ ایک دن آپ نے ہم سے پوچھا، فرمایا کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ ہم نے کہا نہیں)۔ میں نے تو آج رات دو شخص دیکھے کہ وہ میرے پاس آئے ہیں۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ارضِ مقدسہ کی طرف لے گئے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص بیٹھا اور ایک شخص کھڑا ہے۔ اس کے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا ہے۔ ہمارے بعض ساتھیوں نے موسیٰ (بن اسماعیل) سے یوں نقل کیا لوہے کا آنکڑا ہے، جو وہ اس کے گلپھڑے میں گھسیڑتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کی گدی تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر دوسرے گلپھڑے میں بھی اسی طرح کرتا ہے اور پہلا گلپھڑا جڑ جاتا ہے اور وہ بار بار اسی طرح کرتا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا: یہ کیا؟ ان دونوں نے کہا آگے چلیں۔ ہم چل پڑے۔ یہاں تک کہ ہم ایک ایسے شخص کے پاس آئے جو اپنی گدی کے بل لیٹا ہوا تھا اور ایک آدمی اس کے سر پر سل بٹہ یا کہا پتھر لئے کھڑا ہے اور اس سے اس کا سر پھوڑ رہا ہے۔ جب اسے مارتا ہے تو پتھر لڑھک جاتا ہے۔ پھر وہ اس کو لینے جاتا ہے۔ ابھی اس کی طرف نہیں لوٹتا کہ اس کا سر جڑ جاتا ہے اور پھر ویسے ہی ہوجاتا ہے جیسے پہلے تھا۔ پھر وہ اس کی طرف دوبارہ لپکتا ہے اور اسے مارتا ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ ان دونوں نے کہا آگے چلیں۔ تو ہم ایک گڑھے کی طرف گئے جو تنور کی طرح تھا۔ اوپر سے تنگ تھا اور نیچے سے کشادہ۔ اس کے اندر آگ سلگ رہی تھی۔ جب آگ کی لپٹ کنارے تک آتی تو وہ لوگ بھی اوپر اُٹھ آتے، یہاں تک کہ وہ نکلنے کے قریب ہوتے۔ جب دھیمی ہوتی تو وہ بھی اس میں لوٹ جاتے اور اس میں کئی عورتیں اور مرد ننگے تھے۔ میں نے پوچھا: یہ کون؟ دونوں نے کہا آگے چلیں۔ ہم چل پڑے۔ یہاں تک کہ ہم ایک خون کی ندی پر آئے، اس میں ایک آدمی کھڑا تھا اور وہ ندی کے درمیان میں تھا۔ اور ایک (اور) آدمی تھا جس کے سامنے پتھر تھے۔ یزید (بن ہارون) اور وہب بن جریر نے جریر بن حازم سے یوں روایت کی: کیا دیکھتے ہیں کہ ندی کے کنارے پر ایک شخص ہے۔ (جس کے سامنے پتھر ہیں۔) اتنے میں وہ شخص جو ندی کے اندر تھا، آگے کو بڑھا۔ جب اس نے نکلنے کا ارادہ کیا تو دوسرے آدمی نے اس کے منہ پر پتھر مارا اور اسے وہیں لوٹا دیا، جہاں تھا۔ پھر ایسا ہی کرتا ہے جب کبھی وہ نکلنے کے لئے آتا تو ا س کے منہ پر پتھر مارتا اور وہ جہاں ہوتا وہاں لوٹ جاتا۔ میں نے کہا یہ کیا؟ دونوں نے کہا آگے چلیں۔ ہم چل پڑے۔ یہاں تک کہ ایک سرسبز باغ میں آئے، جس میں ایک بہت ہی بڑا درخت تھا۔ اس کی جڑ کے پاس ایک بوڑھا اور کچھ بچے تھے اور دیکھا کہ ایک شخص درخت کے قریب ہے۔ اس کے سامنے آگ ہے، جسے وہ جلا رہا ہے۔ وہ دونوں مجھے لے کر درخت پر چڑھ گئے اور مجھے ایسے گھر میں لے گئے کہ میں نے اس سے اچھا (اور اس سے بہتر) گھر کبھی نہیں دیکھا۔ اس میں بوڑھے، جوان، عورتیں اور بچے ہیں۔ پھر انہوں نے مجھے وہاں سے نکالا اور درخت پر چڑھا لے گئے اور مجھے ایک ایسے گھر کے اندر لے گئے جو پہلے گھر سے بھی زیادہ خوبصورت اور بہتر تھا۔ اس میں بوڑھے اور جوان ہیں۔ میں نے کہا تم نے مجھے آج رات خوب گھمایا ہے جو میں نے دیکھا ہے اس کے متعلق مجھے بتلاؤ تو سہی۔ ان دونوں نے کہا اچھا وہ جو تم نے دیکھا تھا کہ اس کا گلپھڑا چیرا جا رہا ہے، وہ بڑا جھوٹا شخص ہے جو جھوٹی بات بیان کرتا۔ لوگ اسے سن کر اِدھر اُدھر لے جاتے، یہاں تک کہ چاروں طرف وہ بات پہنچ جاتی۔ اس لئے اس کے ساتھ بھی قیامت کے دن یہی معاملہ ہوتا رہے گا جو تم نے دیکھا اور جسے تم نے دیکھا کہ اس کا سر پھوڑا جا رہا ہے، وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن سکھایا تھا تو وہ رات کو تو اس سے غافل سو تا رہا اور دن کو اس پر عمل نہ کیا۔ اس کے ساتھ بھی قیامت کے دن تک یہی ہوتا رہے گا اور وہ لوگ جو تم نے گڑھے میں دیکھے تو وہ زانی ہیں اور جس کو تم نے نہر میں دیکھا، اس سے مراد سود خور ہیں اور وہ بوڑھا شخص جو تم نے درخت کی جڑ میں دیکھا تھا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں اور بچے جو اُن کے ارد گرد تھے تو وہ لوگوں کے بچے ہیں اور وہ جو آگ جلا رہا ہے تو وہ مالک فرشتہ ہے جو دوزخ کا داروغہ ہے اور وہ پہلا گھر جس کے اندر تم گئے تھے وہ عام مومنوں کا گھر ہے اور یہ جو دوسرا گھر ہے تو وہ شہیدوں کا گھر ہے اور میں جبریل ہوں اور یہ میکائیل ہے۔ اپنا سر اٹھاؤ۔ میں نے اپنا سر اُٹھایا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرے اوپر اَبر کی طرح کوئی چیز ہے۔ ان دونوں نے کہا وہ تمہارا مقام ہے۔ میں نے کہا مجھے چھوڑو کہ میں اپنے مقام میں جاؤں تو ان دونوں نے کہا ابھی تمہاری عمر باقی ہے جو تم نے پوری نہیں کی۔ اگر تم پوری کرچکے ہوتے تو تم اپنے مقام میں پہنچ جاتے۔