بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 6 of 6 hadith
حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ نبی ﷺ مجلس میں بیٹھے لوگوں سے باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں ایک بدوی آپؐ کے پاس آیا اور اس نے پوچھا: موعودہ گھڑی کب ہوگی؟ رسول اللہ ﷺ اپنی بات میں لگے رہے۔ اس پر لوگوں میں سے کسی نے کہا : جو اس نے کہا آپؐ نے سن لیا ہے مگر آپؐ نے اس کی بات کو برا منایا۔ اور ان میں سے بعض نے کہا نہیں آپ نے سنا نہیں۔ آخر جب آپؐ بات ختم کر چکے تو فرمایا کہ کہاں ہے ؟ (راوی کہتا ہے) میں سمجھتا ہوں۔ (آپؐ نے یوں فرمایا) موعودہ گھڑی کے متعلق پوچھنے والا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں یہ ہوں۔ فرمایا جب امانت ضائع کر دی جائے گی تو اس وقت موعودہ گھڑی کا انتظار کرو۔ اس نے پوچھا : وہ کیوں کر ضائع کی جائے گی؟ فرمایا جب حکومت نااہل لوگوں کے سپرد کر دی جائے گی تو اس وقت اس گھڑی کا انتظار کرو۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ظہور کے اعتبار سے نشانیوں میں سے پہلی سورج کا اپنے مغرب سے طلوع ہونا ہے اور دابۃ کا لوگوں کے سامنے نکلنا چاشت کے وقت۔
حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا وہ زمانہ قریب ہے کہ فرات سونے کا ایک خزانہ نمودار کرے گا سو جو وہاں موجود ہو تو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ کیا میں تم سے وہ حدیث بیان نہ کروں جسے میں نے رسول اللہﷺ سے سُنا ہے اور میرے بعد تم سے اس حدیث کو کوئی بیان نہ کرے گا۔ میں نے آپؐ سے سنا ہے کہ ’’اس گھڑی‘‘ کی نشانیاں یہ ہیں کہ علم اٹھا دیا جائے گا اور جہالت ظاہر ہوگی اور زنا پھیل جائے گا اور شراب پی جائے گی ، مَرد مر جائیں گے اور عورتیں باقی رہیں گی یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا ایک کفیل ہوگا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ دو بڑے بڑے گروہ آپس میں نہ لڑیں۔ ان دونوں کے درمیان بہت ہی بڑی لڑائی ہوگی۔ ان کا دعویٰ ایک ہی ہوگا اور جب تک کہ تیس کے قریب دجال ظاہر نہ ہو جائیں ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور جب تک کہ علم اٹھا نہ لیا جائے اور زلزلے کثرت سے نہ آئیں اور زمانہ جلدی جلدی نہ گزر جائے اور فتنے نہ ہو لیں اور قتل و خونریزی بہت نہ ہو لے اور جب تک کہ مال اس کثرت سے نہ ہو جائے کہ وہ پانی کی طرح بہنے لگ جائے یہاں تک کہ مال والے کو یہ فکر رہے گی کہ کون اس کا صدقہ قبول کرے گا یہاں تک کہ وہ پیش کرے گا اور وہ شخص جس کے سامنے پیش کر رہا ہوگا کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں اور جب تک کہ لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اونچی عمارتیں نہ بنانے لگ جائیں گے اور جب تک کہ نہ ہو لے گا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی قبر پر سے گزرے گا اور وہ کہے گا۔ اے کاش! میں اس جگہ ہوتا اور جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ کرے۔ جب سورج ادھر سے چڑھے گا اور لوگ اس کو دیکھ لیں گے تو وہ سب کے سب ایمان لائیں گے۔ سو یہی وہ وقت ہوگا جب کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لا چکا ہو یا ایمان نہ لا کر نیک کام نہ کئے ہوں۔ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلایا ہوا ہوگا۔ وہ ابھی ایک دوسرے سے خرید و فروخت نہ کر چکے ہوں گے اور اپنے کپڑے کو لپیٹا نہیں ہوگا کہ وہ گھڑی برپا ہوگی۔ ایک شخص اپنی دودھیل اونٹنی کا دودھ لے کر لوٹے گا اور ابھی اس کو پیا نہیں ہوگا کہ وہ گھڑی برپا ہو جائے گی۔ ایک شخص ابھی اپنا حوض لیپ رہا ہوگا اور ابھی اس میں پانی نہ پلایا ہوگا کہ وہ گھڑی پربا ہو جائے گی۔ آدمی اپنا نوالہ اپنے منہ تک اٹھا چکا ہوگا مگر ابھی اسے کھایا نہ ہوگا کہ وہ گھڑی برپا ہو جائے گی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت نہ آئے گی یہاں تک کہ فرات سونے کا ایک پہاڑ ظاہر نہ کر دے۔ جس پر لوگ لڑیں گے اور ہر سو میں سے نناوے مارے جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک کہے گا کاش کہ میں بچ جاؤں۔