بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 11 hadith
حضرت عبیداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس شخص نے دلی اطمینان اور جسمانی صحت کے ساتھ صبح کی اور اس کے پاس ایک دن کی خوراک ہے اس نے گویا ساری دنیا جیت لی اور اس کی ساری نعمتیں اسے مل گئیں۔
حضرت جابرؓ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قناعت ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے۔
ابو عبد الرحمان حُبُلی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر و بن العاصؓ کو کہتے ہوئے سنا جب ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ کیا ہم درویش مہاجرین میں سے نہیں ہیں؟ تو حضرت عبد اللہؓ نے اس سے کہا کیا تمہاری بیوی ہے جس کے پاس تم رہتے ہو؟ اس نے کہا ہاں۔ انہوں نے کہا کیا تمہارا گھر ہے جس میں تم رہ سکو؟ اس نے کہا ہاں۔ انہوں نے کہا پھر تو تم اغنیاء میں سے ہو۔ اس نے کہا میرا تو خادم بھی ہے۔ انہوں نے کہا پھر تو تم بادشاہوں میں سے ہو۔
حضرت علیؓ نے بیان فرمایا کہ حضرت فاطمہؓ نے چکی چلانے سے اپنے ہاتھ میں تکلیف کی شکایت کی اور نبیﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے تھے تو وہ (حضورؐ کی طرف) گئیں اور آپؐ کو نہ پایا۔ آپؓ حضرت عائشہؓ سے ملیں اور (ان کو) بتایا۔ جب نبیؐ تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے حضرت فاطمہؓ کے اپنے ہاں آنے کا بتایا۔ (حضرت علیؓ کہتے ہیں) تو نبیؐ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے۔ ہم کھڑے ہونے لگے تو آپؐ نے فرمایا کہ اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو۔ پھر آپؐ ہمارے درمیان بیٹھ گئے یہاں تک کہ میں نے آپؐ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینہ پر محسوس کی۔ آپؐ نے فرمایا کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر بات نہ بتاؤں جو تم نے مانگا ہے وہ یہ ہے کہ جب تم دونوں اپنے بستروں پر لیٹو تو چونتیس 34 مرتبہ اللہ اکبر کہو، تنتیس 33 دفعہ سبحان اللہ کہو اور تنتیس 33 دفعہ الحمدللہ کہو۔ یہ تم دونوں کے لئے خادم سے زیادہ بہتر ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے رسول اللہ ﷺ مجھے وظیفہ دیتے تو میں کہتا آپؐ اُن کو دیجئے جو مجھ سے زیادہ اِس کے محتاج ہوں تو آپؐ فرماتے اس مال میں سے جب کچھ تمہارے پاس آئے تو اُسے ایسی حالت میں لے لو جبکہ تم نہ خواہشمند ہو اور نہ سائل اور جو نہ ملے تو اپنے نفس کو اُس کے پیچھے مت لگاؤ۔
سالم بن عبد اللہ بن عمرؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حضرت عمرؓ کو کچھ عطا فرماتے تو حضرت عمرؓ آپؐ سے عرض کرتے یا رسولؐ اللہ! اسے اس شخص کو عطا فرما دیں جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورتمند ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا یہ لے لو اور اس سے مالی فائدہ اٹھاؤ یا اس کو صدقہ کر دو اور وہ مال جو تمہیں بغیر حرص کے اور بن مانگے ملے وہ لے لو ورنہ اس کے پیچھے مت پڑو۔ سالم کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ اسی وجہ سے کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے اور جو چیز آپؓ کو دی جاتی اسے ردّ نہیں کرتے تھے۔
حضرت عمرو بنت تغلبؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال یا کوئی چیز لائی گئی۔ آپؐ نے وہ بانٹ دی۔ آپؐ نے بعض آدمیوں کو دیا اور بعض کو نہ دیا۔ پھر آپؐ کو یہ خبر پہنچی کہ جن لوگوں کو آپؐ نے چھوڑ دیا تھا۔ وہ کچھ ناراض ہیں۔ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور اس کی تعریف کی۔ پھر فرمایا اما بعد، اللہ کی قسم! میں ایک شخص کو دیتا ہوں (اور ایک شخص کو چھوڑ دیتا ہوں) اور حالانکہ جسے چھوڑ تا ہوں۔ وہ مجھ کو زیادہ پیارا ہوتا ہے بہ نسبت اس کے جسے میں دیتا ہوں۔ لیکن میں بعض لوگوں کو اس لئے دیتا ہوں کہ ان کے دلوں میں بے چینی اور بے صبری دیکھتا ہوں اور بعض لوگوں کو اس سیر چشمی اور بھلائی کے حوالہ کر دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں پیدا کی ہوتی ہے۔ انہی لوگوں میں عمرو بن تغلبؓ بھی ہیں (یہ کہتے تھے) بخدا! میں ہرگز پسند نہیں کرتا کہ رسول اللہ ﷺ کی اس بات کے مقابل میں مجھے سرخ اونٹ ملتے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ نے قریش اور عرب کے قبائل میں وہ تمام مال غنیمت تقسیم فرما دیا جو فتح ہوا زن و حنین میں ہاتھ لگا تھا اور انصار کو کچھ نہ ملا تو انصار کے کچھ لوگوں نے اپنے دلوں میں انقباض محسوس کیا۔ یہاں تک کہ اس بارہ میں چہ میگوئیاں بڑھ گئیں۔ اور کسی کہنے والے نے یہ بھی کہہ دیا کہ اب کیا ہے اب تو رسول اللہﷺ اپنی قوم سے آ ملے ہیں (اب ہماری ضرورت نہیں رہی) انصار میں سے سعد بن عبادہؓ نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ حضورﷺ آپ کی اس تقسیم کی وجہ سے کچھ انصار کے دل میں شکوک پیدا ہو گئے ہیں کہ آپﷺ نے اپنی قوم کو مال غنیمت میں سے اتنے بڑے بڑے عطیات مرحمت فرمائے ہیں اور انصار کو کچھ نہیں ملا۔ حضور نے فرمایا اے سعد! تم کہاں تھے لوگوں کو سمجھانا تھا۔ سعد نے عرض کیا حضور! میں بھی تو اس قوم کا ایک فرد ہوں۔ میری کون سنتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا سعد اپنی قوم اس چوپال میں جمع کرو میں ان سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ سعدؓ انصار کو چوپال میں جمع کرنے لگے۔ مہاجرین میں سے بھی چند لوگوں کو اندر جانے کی اجازت دی اور باقی مہاجرین کو لوٹا دیا۔ جب تمام انصار اکٹھے ہو گئے تو آپؐ کو اطلاع دی کہ لوگ اکٹھے ہو گئے ہیں۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ پھر آپؐ تشریف لائے اور حمد و ثناء کے بعد فرمایا اے انصار! تم نے جو گلے شکوے کئے ہیں وہ مجھ تک پہنچے ہیں۔ اے انصار سوچو تو میں تمہارے پاس اس وقت آیا تھا جب تم بھٹکے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تمہیں ہدایت دی۔ تم تنگ دست تھے اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تمہیں دولت مند بنایا۔ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں بھائی بھائی بنا دیا۔ کیا یہ سب سچ نہیں۔ انصار نے عرض کیا کیوں نہیں، خدا اور اس کے رسول کا یہ بڑا فضل و احسان ہے۔ حضور نے فرمایا اے انصار! تم میری ان باتوں کا جواب کیوں نہیں دیتے؟ انصار نے عرض کیا۔ ہم کیا جواب دیں۔ ہم تو اللہ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہیں۔ آپؐ نے فرمایا تم اگر چاہو تو یہ جواب دے سکتے ہو اور یہ جواب صحیح ہو گا کہ آپ ہمارے پاس اس حالت میں آئے جب آپﷺ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا اور تکذیب کی اور ہم نے اس وقت آپﷺ کی تصدیق کی۔ آپ پریشان حال ہمارے پاس آئے ہم نے آپ کی مدد کی۔ آپ ہمارے پاس بے گھر ہو کر آئے ہم نے آپ کو پناہ دی۔ آپ محتاج اور بے سروسامان ہو کر آئے ہم نے آپﷺ کی محتاجی دور کی اور آپﷺ کا سہارا بنے۔ اے انصار! کیا تم ان دنیاوی چمک دمک کے سامانوں کی وجہ سے اپنے دلوں میں انقباض محسوس کرتے ہو جو میں نے قریش اور قبائل عرب کے نو مسلموں کو ان کی دلجوئی اور تالیف قلب کے طور پر دئیے ہیں۔ اے انصار کیا تم اس بات سے خوش نہیں کہ لوگ تو اپنے گھر بکریاں اور اونٹ لے کر جائیں اور تم اپنے ساتھ اللہ کے رسول کو لے جا ؤ۔ خدا کی قسم! جس کے قبضے اور اختیار میں محمدﷺ کی جان ہے اگر ہجرت نہ ہوتی میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا۔ اگر تمام لوگ ایک وادی اور ایک راہ پر چلیں اور انصار کوئی اور راہ اختیار کریں تو میں انصار کے ساتھ چلوں گا۔ اے اللہ! تو انصار پر رحم فرما۔ انصار کی اولاد پر رحم فرما۔ انصار کی اولاد کی اولاد پر رحم فرما۔ حضور کی اس تقریر کو سن کر انصار زار و زار روئے یہاں تک کہ ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں اور عرض کیا حضور! ہم آپ
راوی کہتے ہیں کہ انصار نے جواب دیا احسان اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے اور فضل ہم پر اور ہمارے غیر پر ہے۔ آپؐ نے فرمایا یہ کیا بات ہے جو مجھے تمہاری طرف سے پہنچی ہے؟ وہ خاموش رہے۔ آپؐ نے فرمایا یہ کیا بات ہے جو مجھے تمہاری طرف سے پہنچی ہے؟ انصار کے سمجھدار لوگوں نے کہا ہمارے سرداروں نے تو کوئی بات نہیں کی لیکن ہمارے نوجوانوں نے کہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہﷺ کی مغفرت فرمائے، وہ قریش کو دیتے ہیں اور ہمیں نظرانداز کرتے ہیں حالانکہ ہماری تلواروں سے ان کے خون ٹپک رہے ہیں۔
ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہ بن یمانؓ مدائن میں تھے۔ انہوں نے پانی مانگا تو ایک کسان ان کے پاس چاندی کا پیالہ لایا۔ آپ نے وہ پیالہ اس پر پھینک دیا اور کہنے لگے۔ میں نے اسے نہیں پھینکا مگر اس لئے کہ میں نے اس کو روکا ہے اور وہ رکا نہیں اور نبی ﷺ نے ریشمی کپڑوں اور دیباج اور سونے چاندی کے برتن میں پینے سے ہمیں روکا اور فرمایا یہ چیزیں دنیا میں ان کے لئے ہیں اور وہ آخرت میں تمہارے لئے ہوں گی۔