بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
حضرت معاذؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب انہیں یمن میں حاکم بنا کر بھیجنے لگے تو فرمایا تم کس طرح فیصلے کیا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا قرآن کریم کے احکامات کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اگر (ایسا معاملہ آ جائے جس کے بارہ میں) قرآن کریم میں کوئی واضح حکم موجود نہ ہو تو (پھر کس طرح کرو گے)؟ انہوں نے عرض کیا حضورﷺ کی سنت کی روشنی میں فیصلہ کروں گا۔ حضورﷺ فرمانے لگے اگر میری سنت میں بھی (کوئی ایسی مثال) نہ ملے (تو پھر کس طرح کرو گے)؟ انہوں نے عرض کیا پھر میں اجتہاد اور غور و فکر کروں گا اور پھر جو رائے بنے اس کے مطابق فیصلہ کروں گا اس پر آپؐ نے خوش ہو کر فرمایا تمام تعریفوں کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے رسول اللہ کے ایلچی کو اس فراست اور صحیح سوچ کی ہدایت دی۔
حضرت عمروؓ بن عاص بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب کوئی حاکم سوچ سمجھ کر اور پوری تحقیق کے بعد فیصلہ کرے اگر اس کا فیصلہ صحیح ہے تو اسے دو ثواب ملیں گے اور اگر باوجود کوشش کے اس سے غلط فیصلہ ہو گیا تو اسے ایک ثواب اپنی کوشش اور نیک نیتی کا بہرحال ملے گا۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ کسی امیر کے متعلق خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اُس کا صادق وزیر مقرر فرمادیتا ہے۔ اگر وہ بھول جائے تو وہ اُسے یاد دلاتا ہے اور اگر وہ یاد رکھے تو اس کی مدد کرتا ہے اور جب اللہ اس کے ساتھ کچھ اور ارادہ کرتا ہے تو اُس کا بُرا وزیر مقرر کرتا ہے۔ اگر وہ بھول جائے تو اُسے یاد نہیں دلاتا اور اگر وہ یاد رکھے تو اُس کی مدد نہیں کرتا۔