بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 5 of 5 hadith
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ رات کو اٹھ کر نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاؤں متورم ہو کر پھٹ جاتے۔ ایک دفعہ میں نے آپ ﷺ سے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کیوں اتنی تکلیف اٹھاتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے اگلے پچھلے سب قصور معاف فرما دئیے ہیں۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں یہ نہ چاہوں کہ اپنے رب کے فضل و احسان پر اس کا شکر گزار بندہ بنوں۔ جب آپؐ کی عمر زیادہ ہو گئی۔ آپؐ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔ جب آپؐ رکوع کا ارادہ فرماتے تو کھڑے ہو جاتے، قراء ت کرتے پھر رکوع کرتے۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں جب رسول اللہﷺ نماز پڑھتے تو (اتنا لمبا) قیام فرماتے کہ آپؐ کے پاؤں متورم ہو جاتے۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ (یہ) کرتے ہیں؟ جب کہ اللہ نے آپؐ کو اگلے پچھلے گناہوں سے منزّہ کیا ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اے عائشہؓ! کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟
ابو سلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیعہ بنؓ کعب اسلمی نے مجھے بتایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رات بسر کرتا تھا تو میں آپؐ کے پاس (ایک رات) آپؐ کے وضو کا پانی اور آپؐ کی ضرورت کی چیز لے کر آیا تو آپؐ نے مجھ سے فرمایا ،،مانگ لو،، تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں جنت میں آپؐ کی رفاقت مانگتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا یا کچھ اور؟ میں نے کہا کہ بس یہی۔ آپؐ نے فرمایا تو پھر اپنے لئے کثرتِ سجود سے میری مدد کرو۔
حضرت انس بن مالکؓ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتا ہے جب میرا بندہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں۔ اور جب وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں۔ جب وہ میرے پاس چلتے ہوئے آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑتے ہوئے جاتا ہوں۔
حضرت ابو ذرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے جو ایک نیکی کرے گا تو اس کے لئے اس کا دس گنا اجر ہے بلکہ میں اور بڑھاؤں گا اور جو بدی کرے گا تو اسے اس کے برابر ہی جزا دی جائے گی یا میں بخش دوں گا اور جو ایک بالشت میرے قریب آتا ہے تو میں گز بھر اس کے قریب ہو جاتا ہوں۔ اگر وہ ایک گز میرے قریب آتا ہے تو میں دو گز اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جو میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر جاتا ہوں اور جو زمین بھر خطاؤں کے ساتھ بھی میرے پاس آئے گا بشرطیکہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، میں اس کے برابر مغفرت کے ساتھ اس سے ملوں گا۔