بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 3 of 3 hadith
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جبکہ میں رسول اللہﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا اے برخوردار! میں تجھے چند باتیں بتاتا ہوں۔ اول یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کا خیال رکھ، اللہ تعالیٰ تیرا خیال رکھے گا۔ تو اللہ تعالیٰ پر نگاہ رکھ تو اسے اپنے پاس پائے گا۔ جب کوئی چیز مانگنی ہو تو اللہ تعالیٰ سے مانگ۔ اگر مدد مانگنی ہو تو اللہ تعالیٰ سے مانگ اور سمجھ لے کہ اگر سارے لوگ اکٹھے ہو کر تجھے فائدہ پہنچانا چاہیں تو وہ تجھے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے کہ اللہ چاہے اور تیری قسمت میں فائدہ لکھ دے۔ اور اگر وہ تجھے نقصان پہنچانے پر اتفاق کر لیں تو تجھے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ تیری قسمت میں نقصان لکھ دے۔ قلمیں اٹھا کر رکھ دی گئی ہیں اور صحیفہ تقدیر خشک ہو چکا ہے۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ ……… میں نبی ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا۔ آپؐ نے فرمایا اے برخوردار! کیا میں تمہیں چند کلمات نہ سکھاؤں کہ اللہ ان کی وجہ سے تجھے نفع پہنچائے۔ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر نگاہ رکھ۔ تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ تو اللہ تعالیٰ کو خوشحالی میں پہچان اللہ تعالیٰ تجھے تنگ دستی میں پہچانے گا اور سمجھ لے کہ جو تجھ سے چوک گیا اور تجھ تک نہیں پہنچ سکا، وہ تیرے نصیب میں نہیں تھا اور جو تجھ کو مل گیا وہ تجھے ملے بغیر رہ نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ تقدیر کا لکھا یونہی تھا۔ جان لو کہ (اللہ تعالیٰ کی) مدد صبر کرنے کے ساتھ ہے اور خوشی بے چینی کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور ہر تنگی کے بعد یسر اور آسانی کے دن آتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطابؓ شام کی طرف روانہ ہوئے۔ جب آپ سرغ نامی مقام میں پہنچے تو فوجوں کے سردار حضرت ابوعبیدۃؓ بن جراح اور ان کے ساتھی آپؓ کی پیشوائی کے لئے آئے۔ انہوں نے آپؓ کو بتایا کہ شام کے علاقہ میں طاعون کی وباء پھیلی ہوئی ہے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے مجھے فرمایا کہ مہاجرین کو بلائیے۔ چنانچہ حضرت ابن عباس ان کو بلا لائے اور حضرت عمرؓ نے ان سے مشورہ کیا اور انہیں بتایا کہ طاعون کی وبا شام میں پھیلی ہوئی ہے۔ تو انہوں نے اختلاف کیا۔ بعض نے کہا کہ اب آپ ایک کام کے لئے نکل چکے ہیں اور ہم مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ اس سے لوٹ جائیں۔ اور بعض نے کہا آپ کے ساتھ لوگوں اور صحابہ کی ایک خاصی تعداد ہے ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ ان کو لے کر وباء زدہ علاقہ میں جائیں۔ آپ نے ان کا مشورہ سن کر فرمایا آپ جائیے۔ پھر آپ نے فرمایا انصار کو بلاؤ۔ جب وہ آ گئے اور آپ نے مشورہ شروع کیا تو وہ بھی مہاجرین کی طرح مختلف الرائے تھے۔ آپ نے ان کا مشورہ سن کر فرمایا آپ جائیے۔ پھر مجھے فرمایا کہ میرے پاس جو یہاں قریش کے وہ بزرگ جو فتح مکہ سے پہلے کے مہاجر ہیں بلاؤ۔ چنانچہ حضرت ابن عباسؓ ان کو بلا لائے۔ تو ان میں سے دو شخصوں نے بھی آپ کے سامنے اختلاف نہیں کیا۔ وہ کہنے لگے۔ ہم یہ مناسب سمجھتے ہیں کہ آپ لوگوں کو واپس لے جائیں اور اس وبا کے ہوتے ہوئے ان کو نہ لے جائیں۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے ان کے متفقہ فیصلہ کو پسند فرمایا اور یہ اعلان کیا کہ ہم کل صبح صبح روانہ ہوں گے۔ قافلہ والے صبح چلنے کے لئے تیار رہیں۔ حضرت عمرؓ کا یہ فیصلہ سن کر حضرت ابوعبیدۃؓ نے کہا کیا اللہ کی تقدیر سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں؟ حضرت عمرؓ نے جواب دیا ابوعبیدہ یہ بات کسی دوسرے کو کہنی چاہئے تھی (آپ جیسے سمجھدار قائد سے اس کی توقع نہ تھی)۔ ہاں میں اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف فرار ہو رہا ہوں۔ دیکھیں اگر آپ اپنے اونٹ ایک ایسی وادی میں چرنے کے لئے لے آئیں جس کا ایک کنارہ سرسبز و شاداب ہے اور دوسرا بنجر خشک آپ اپنے جانور وادی کے جس کنارہ پر چرائیں گے وہ اللہ کی تقدیر ہی ہو گی آپ کا کوئی فیصلہ اس کی تقدیر کے دائرہ سے باہر نہیں ہو گا۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے کہ اتنے میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ آئے اور وہ کسی اپنے کام کے لئے کہیں گئے ہوئے تھے وہ کہنے لگے مجھے اس کے متعلق ایک بات معلوم ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی آپؐ فرماتے تھے۔ جب تم سنو کہ وبا کسی ملک میں ہے تو وہاں نہ جاؤ اور اگر کسی ملک میں پڑے اور تم وہاں ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نہ نکلو۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے سن کر اللہ کا شکر کیا اور وہیں سے واپس چلے گئے۔