بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 8 hadith
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپ فرماتے تھے۔ اگر تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو تو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور چاہیے کہ وہ اس کی وجہ سے اللہ کا شکریہ کرے اور اس خواب کو بیان کرے اور اگر اس کے سوا کوئی ایسی خواب دیکھے جس کو ناپسند کرتا ہو تو وہ شیطان ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ چاہیے کہ اس کے شر سے پناہ مانگے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے تو اس کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی سر زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جس میں کھجور کے درخت ہیں۔ میرا خیال گیا کہ یہ یمامہ یا ہجر ہے۔ مگر اس کی تعبیر مدینہ یثرب تھی اور میں نے اپنے اس خواب میں دیکھا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی ہے تو اس کا اگلا حصہ ٹوٹ گیا ہے۔ تو ٹوٹنے کی تعبیر وہ مومن ہیں جو جنگ اُحد کے دن شہید ہوئے۔ پھر میں نے اس کو دوبارہ ہلایا تو پھر وہ ویسی اچھی ہو گئی جیسی کہ وہ پہلے تھی۔ تو اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا فتح دینا اور مومنوں کا پھر سے اکٹھا ہونا تھا اور میں نے اس خواب میں کچھ گائیں دیکھیں اور اللّٰہُ خَیْرٌ کے الفاظ سنے تو معلوم ہوا کہ گائیوں سے مراد وہ مومن تھے جو جنگ اُحد کے دن شہید ہوئے، اور خَیْر سے مراد وہی خیر اور سچائی کا بدلہ تھا جو اللہ نے ہمیں جنگ بدر کے بعد دیا۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جس میں کھجور کے درخت ہیں تو میں نے خیال کیا کہ وہ یمامہ یا ھجر ہے لیکن وہ مدینہ یثرب نکلا اور میں نے اس رؤیا میں دیکھا کہ میں نے ایک تلوار لہرائی تو اس تلوار کا اوپر کا حصہ ٹوٹ گیا ہے یہ وہ تکلیف ہے جو اُحد کے دن مسلمانوں کو اٹھانی پڑی۔ میں نے اسے پھر دوسری دفعہ لہرایا تو وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گئی یہ وہ فتح ہے اور مؤمنوں کا اکٹھے ہونا ہے جو اللہ نے عطا فرمایا اور میں نے اس خواب میں گائیں بھی دیکھیں۔ اللہ (سراسر) خیر ہے تو یہ مؤمنوں میں سے وہ لوگ ہیں جو اُحد میں (شہید ہوئے) اور خیر تو وہ خیر ہے جو اللہ نے اس کے بعد عطا فرمائی اور سچائی کا بہترین بدلہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بدر کے بعد عطا فرمایا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا معراج کے موقع پر میری ملاقات حضرت موسیٰؑ سے ہوئی جن کے بال لمبے اور بکھرے ہوئے تھے۔ میں نے ان کی شکل کا جائزہ لیا تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے شنوء ہ کے قبیلہ کا کوئی فرد ہو۔ اسی طرح میری ملاقات حضرت عیسیٰؑ سے بھی ہوئی میں نے ان کی شکل کا جائزہ لیا وہ درمیانہ قد سرخی مائل رنگ۔ یوں لگتا جیسے ابھی ابھی حمام سے نکلے ہوں۔ میں نے حضرت ابرہیمؑ کو بھی دیکھا میری شکل و صورت ان سے بے حد ملتی تھی۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے دو برتن لائے گئے۔ ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی اور مجھ سے کہا گیا کہ جو پسند ہے وہ لے لیں۔ میں نے دودھ لیا اور اسے پی لیا۔ اس پر مجھے بتایا گیا کہ تمہاری صحیح فطرت کی طرف رہنمائی ہوئی ہے اگر آپﷺ شراب پسند کرتے تو (عیسائیوں کی طرح) آپ کی امت بھی گمراہ ہو جاتی اور بھٹکتی پھرتی۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ام حرام بنت ملحان کے پاس جایا کرتے تھے اور وہ عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ ان کے ہاں گئے اور اس نے آپ کو کھانا کھلایا اور آپ کے سر کے بال دیکھنے لگیں۔ اتنے میں رسول اللہﷺ سو گئے۔ پھر وہ جاگے تو آپ ہنس رہے تھے۔ ام حرام کہتی تھیں کہ میں نے کہا۔ یا رسول اللہ! آپ کو کیا بات ہنسا رہی ہے؟ آپ نے فرمایا میری امت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ کی راہ میں غازی ہیں اس سمندر کے درمیان سوار ہو رہے ہیں۔ ایسے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر سوار ہوتے ہیں ــــ راوی اسحاق کو شک ہے کہ آپ نے مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ فرمایا یا مِثْلَ الملُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ فرمایا ــــ ام حرام کہتی تھیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرماویں کہ مجھے بھی انہیں میں سے کرے اور رسول اللہﷺ نے ان کے لئے دعا کی۔ پھر آپ سر رکھ کر سو گئے۔ پھر جاگ پڑے اور آپ ہنس رہے تھے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! آپ کو کیا بات ہنسا رہی ہے؟ آپؐ نے فرمایا میری امت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ کی راہ میں نمازی ہیں۔ پھر آپؐ نے وہی بات فرمائی جو پہلے فرمائی تھی۔ ام حرام کہتی تھیں میں نے کہا یا رسول اللہ! دعا فرماویں کہ اللہ مجھے بھی انہیں میں سے کرے۔ آپ نے فرمایا تم پہلوں میں سے ہو۔ چنانچہ ام حرام معاویہ بن ابی سفیان کے زمانہ میں سمندر میں کشتی پر سوار ہوئیں اور پھر جب سمندر سے باہر آئیں تو اپنے جانور سے گر کر مر گئیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ عنقریب مجھے بیداری میں بھی دیکھے گا یا (فرمایا) گویا کہ اس نے مجھے بیداری میں دیکھا۔ شیطان میرا تمثل اختیار نہیں کر سکتا۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اپنا یہ خواب بیان کیا کہ میں نے ایک بادل کا ٹکڑا دیکھا اس میں سے گھی اور شہد برس رہا ہے اور لوگوں کو دیکھا کہ وہ ہاتھوں میں بھر رہے ہیں کوئی زیادہ لے رہا ہے اور کوئی کم، پھر میں نے دیکھا کہ آسمان سے زمین تک ایک رسی نما سیڑھی ہے اور حضور اس پر اوپر کی طرف چڑھ گئے ہیں پھر ایک اور شخص نے اس کو پکڑ لیا ہے اور وہ بھی اوپر چڑھ گیا ہے اس کے بعد ایک اور شخص نے اس کو پکڑا ہے اور اوپر چڑھ گیا ہے پھر تیسرے شخص نے اسے پکڑا لیکن وہ ٹوٹ گئی پھر رسی جڑ گئی اور وہ شخص بھی اوپر چڑھ گیا۔ حضرت ابو بکرؓ نے عرض کیا کہ حضورﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں۔ حضورﷺ نے فرمایا اچھا بتاؤ۔ ابو بکرؓ نے کہا کہ بادل سے مراد اسلام ہے۔ سمن اور عسل سے مراد قرآن کریم اور اس کی تلاوت ہے اور مستکثر سے مراد وہ ہے جو قرآن کریم کثرت سے پڑھتا ہے اور مستقل سے مراد وہ ہے جو کم پڑھتا ہے اور کم فائدہ اٹھاتا ہے اور وہ سیڑھی جو آسمان سے زمین کو ملاتی ہے وہ حق و صداقت کی سیڑھی ہے جس پر آپ ہیں پھر اللہ تعالیٰ آپﷺ کو اس کے ذریعہ بلند کرے گا اور آپ کی وفات کے بعد ایک اور شخص کے ذریعہ یہ سلسلہ ترقی کرے گا۔ پھر ایک اور شخص اس رسی کو پکڑ کر اوپر چڑھ جائے گا اس کے بعد ایک اور شخص اس کو پکڑے گا تو رسی ٹوٹ جائے گی لیکن پھر جڑ جائے گی اور وہ بھی اوپر جانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ پھر پوچھا حضور کیا میں نے صحیح تعبیر کی ہے؟ آپﷺ نے فرمایا تعبیر کا ایک حصہ درست ہے اور ایک غلط ہے۔ حضرت ابو بکرؓ نے حضورﷺ کو قسم دیتے ہوئے عرض کیا کہ غلط کون سا حصہ ہے۔ آپ نے فرمایا قسم نہ دو۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے تو وہ تین دفعہ اپنے بائیں تھوکے اور تین بار شیطان (کے شر) سے اللہ کی پناہ طلب کرے اور جس پہلو پر وہ ہو اس کو بدل دے۔