بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 4 of 4 hadith
حضرت عبد اللہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ (آنحضرتﷺ نے) فرمایا سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف اور انسان سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صدیق لکھا جاتا ہے اور جھوٹ گناہ اور فسق و فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فسق و فجور جہنم کی طرف اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کذاب لکھا جاتا ہے۔
حسان بن ابی سنان نے کہا میں نے پرہیزگاری سے زیادہ آسان کوئی بات نہیں دیکھی۔ چھوڑ دو وہ بات جو تمہیں کھٹکتی ہے اور اِختیار کرو وہ بات جس کی نسبت تمہیں کوئی خدشہ نہیں۔
حضرت حسن بن علیؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہﷺ کا یہ فرمان اچھی طرح یاد ہے کہ شک میں ڈالنے والی باتوں کو چھوڑ دو شک سے مبرا یقین کو اختیار کرو۔ کیونکہ یقین بخش سچائی اطمینان کا باعث ہے اور جھوٹ اضطراب اور پریشانی کا موجب ہوتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ ان لوگوں میں سے جو تم سے پہلے تھے، تین آدمی کسی سفر میں نکلے، یہاں تک کہ ایک غار میں رات بسر کرنے کے لئے داخل ہوگئے۔ اُوپر سے ایک پہاڑ کا بڑا پتھر گرا اور انہیں غار میں بند کردیا۔ اس پر وہ کہنے لگے اس پتھر سے ہمیں کوئی نجات نہیں دے گا ہاں تم اللہ سے اپنے نیک اعمال کا واسطہ دے کر دعا کرو (تو یہ مشکل حل ہوسکتی ہے)۔ تب ان میں سے ایک شخص نے کہا اے میرے اللہ! میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے اور میں اُن سے پہلے کسی اور کو دودھ نہ پلاتا تھا، نہ بال بچوں کو نہ نوکروں کو۔ ایک دن میں کسی چیز کی تلاش میں دور نکل گیا اور شام کو اُس وقت واپس آیا کہ وہ سو گئے تھے۔ میں نے ان کے لئے ان کے شام کے پینے کا دودھ دوہا مگر انہیں سویا ہوا پایا، اور میں نے پسند نہ کیا کہ اُن سے پہلے بال بچوں یا لونڈی غلام کو دودھ پلا ؤں۔ میں ٹھہر گیا۔ پیالہ میرے ہاتھ میں تھا، اُن کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا، یہاں تک کہ جب خوب صبح ہوگئی اور وہ دونوں جاگ اٹھے تو انہوں نے دودھ پیا۔ اے میرے اللہ! اگر میں نے یہ عمل تیری خوشنودی کے لئے کیا تھا تو اس پتھر کی وجہ سے جس مصیبت میں ہم ہیں، وہ ہم سے دور کر۔ اس پر وہ پتھر کچھ سرک گیا مگر وہ غار سے نکل نہیں سکتے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا دوسرے نے کہا اے میرے اللہ! میری ایک چچا کی بیٹی تھی جو مجھے بہت ہی پیاری تھی۔ میں نے اسے پھسلانا چاہا، وہ مجھ سے بچتی رہی یہاں تک کہ قحط سالی میں مبتلا ہوئی اور وہ میرے پاس آئی۔ میں نے اسے ایک سو بیس اشرفیاں دیں، اس شرط پر کہ وہ مجھے خلوت میں ملے۔ اس نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ جب وہ پوری طرح میرے قابو میں آگئی تو وہ کہنے لگی: میں تیرے لئے یہ جائز نہیں قرار دیتی کہ تو اس مہر کو بغیر اس کے جائز حق کے توڑے۔ اس پر میں نے اس سے مباشرت کرنا گناہ سمجھا اور اس سے الگ ہوگیا جبکہ وہ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب تھی اور وہ اشرفیاں بھی مَیں نے اُسی کے پاس رہنے دیں جو میں نے اُسے دی تھیں۔ اے میرے اللہ! اگر میں نے یہ کام تیری خوشنودی کے لئے کیا تھا تو جس مصیبت میں ہم ہیں، وہ ہم سے دُور کردے۔ اس پر وہ پتھر کچھ اور سرک گیا مگر پھر بھی وہ غار سے باہر نکلنے کے قابل نہ تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا تیسرے نے کہا اے میرے اللہ! میں نے کچھ مزدور لگائے اور میں نے اُن کی مزدوری اُن کو دے دی، سوائے ایک شخص کے جو اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اُس کی مزدوری کو کام پر لگا دیا، یہاں تک کہ اس ذریعہ سے بہت مال ہوگیا۔ پھر وہ ایک عرصہ کے بعد میرے پاس آیا اور اُس نے کہا اے اللہ کے بندے! میری مزدوری مجھے دے۔ میں نے اُسے کہا یہ سب اُونٹ، گائیاں، بکریاں اور غلام لونڈی جو تو دیکھ رہا ہے تیری مزدوری ہی ہے۔ اس نے کہا اے اللہ کے بندے! مجھ سے ہنسی نہ کر۔ میں نے کہا میں تم سے ہنسی نہیں کررہا۔ تب اس نے ساری چیزیں لے لیں اور انہیں ہانک کر لے گیا اور اس نے اس میں سے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ اے میرے اللہ! اگر میں نے تیری رضا کے لئے یہ کام کیا تھا تو جس مصیبت میں ہم ہیں، وہ ہم سے دور کر۔ اس پر وہ پتھر (ان سے اور بھی) ہٹ گیا، یہاں تک کہ وہ نکل کر چلے گئے۔