بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 10 hadith
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! مجھے سیاحت کی اجازت دیجئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا میری امت کی سیاحت اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد ہے۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تین سفر میں نکلیں تو چاہئے کہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنا لیں۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے تھے کم ہی ایسا ہوتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کسی سفر میں جمعرات کے سوا اَور کسی دِن نکلیں۔
عبد الرحمن بن کعب بن مالک نے اپنے باپ (حضرت کعب بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ غزوئہ تبوک کے لئے جمعرات کے دن نکلے اور آپؐ جمعرات کے دن سفر پسند کرتے تھے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کہا اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ
حضرت کعب بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ (جب آنحضرتﷺ) سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور وہاں دو رکعت نفل نماز پڑھتے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں سفر پر جانا چاہتا ہوں۔ آپؐ مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔ آپﷺ نے فرمایا اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ جب بھی بلندی پر چڑھو تکبیر کہو۔ جب وہ آدمی واپس ہوا تو آپﷺ نے دعا کی۔ اے اللہ! اس کی دوری کو لپیٹ دے (یعنی اس کا سفر جلد طے ہو) اور اس کا سفر آسان کر دے۔
حضرت صخر الغامدیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اے میرے خدا! میری امت کو صبح جلدی کام شروع کرنے میں برکت دے اور جب کوئی مہم یا لشکر بھجوانا ہوتا تو دن کے پہلے حصہ میں اسے روانہ کرتے۔ (اس حدیث کے راوی) حضرت صخرؓ تاجر تھے، وہ (حضورﷺ کے اس ارشاد کی تعمیل میں) اپنا تجارتی مال دن کے پہلے حصہ میں روانہ کرتے۔ آپ کو ہمیشہ خوب فائدہ ہوتا اور بہت نفع ملتا۔
حضرت ابن عمرؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر پر نکلتے ہوئے اپنے اونٹ پر بیٹھتے تو تین دفعہ اللہ اکبر کہتے۔ پھر کہتے پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لئے مسخر کیا اور ہم اس کو زیرِ نگیں کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ (الزخرف: 14، 15) اے اللہ! ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ اور ایسے عمل کی توفیق چاہتے ہیں جس سے تو راضی ہو جائے۔ اے اللہ! ہم پر ہمارا یہ سفر آسان کر دے اور اس کے فاصلہ کو (بسہولت) طے کرا دے۔ اے اللہ! سفر میں بھی تو ہی ساتھی ہے اور گھر میں بھی تو ہی جانشین۔ اے اللہ! میں سفر کی مشقت، کسی اندوہناک منظر اور مال اور گھر کے لحاظ سے بُری واپسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب واپس تشریف لاتے تو یہی الفاظ کہتے اور ان میں یہ اضافہ فرماتے ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت خولہ بنت حکیم سُلَمِی سے سنا وہ کہتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو کسی جگہ پر قیام کرے پھر یہ کہے کہ أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں اللہ کے کامل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی تو کوئی چیز اسے نقصان نہیں دے گی یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے چلا جائے۔