حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایسی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور ایسے مردوں پر بھی لعنت بھیجی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں (یعنی عورتیں مردانہ اور مرد زنانہ لباس اور انداز بودو باش اختیار نہ کریں)۔
(ترمذی کتاب اللباس باب ما یقول اذا لبس ثوبا جدیدا1767)
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام لیتے مثلاً عمامہ، قمیص، چادر۔ پھر آپ ﷺ دعا کرتے کہ اے میرے اللہ! تو ہی تعریف کا مستحق ہے، تو نے مجھے یہ کپڑا پہنایا، میں تجھ سے اس کپڑے کے فائدے مانگتا ہوں اور اس کی خیر چاہتا ہوں اور اس کی بھی جس کے لئے یہ بنایا گیا اور میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس کپڑے کے نقصان اور اس مقصد کے شر سے جس کے لئے یہ بنایا گیا ہے۔
نے حضرت زبیرؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کو ریشم پہننے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی کیونکہ ان دونوں کو خارش کی شکایت تھی (اور یہ لباس اس مرض کے لئے مفید ہے)۔
(ابوداؤد کتاب اللباس باب فیما تبدی المراۃ من زینتھا 4104)
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ اسماء بنت ابی بکرؓ رسول اللہﷺ کے پاس اس حالت میں آئیں کہ وہ باریک کپڑا پہنے ہوئے تھیں رسول اللہﷺ نے ان سے اعراض کیا اور فرمایا اے اسماء جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے لئے مناسب نہیں ہے کہ منہ اور ہاتھوں کے سوا اس کے بدن کا کوئی اور حصہ نظر آئے۔