بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 8 hadith
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا ‘ نہ کبھی انسان کے دل پر اس کا خیال گزرا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ کوئی نفس نہیں جانتا کہ اس کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کیا سامان پوشیدہ رکھا گیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آگ نفسانی خواہشوں سے ڈھکی ہوئی ہے اور جنت ان باتوں سے ڈھکی ہوئی ہے جو نفس کو بری معلوم ہوتی ہیں۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت ناپسندیدہ باتوں سے گھری ہوئی ہے اور جہنم(نفسانی) خواہشات سے گھری ہوئی ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جنتیوں سے فرمائے گا اے جنت والو! وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم حاضر ہیں اور یہ ہماری خوش بختی ہے اور خیر تیرے ہاتھ میں ہے۔ وہ کہے گا کیا تم راضی ہو؟ وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم کیوں نہ راضی ہوں جبکہ تو نے ہمیں وہ دیا ہے جو اپنی مخلوق میں سے تو نے کسی کو نہیں دیا۔ اس پر وہ فرمائے گا کیا میں تمہیں اس سے افضل چیز نہ دوں وہ کہیں گے اے ہمارے رب! اس سے افضل چیز کونسی ہے؟ وہ فرمائے گا میں تم پر اپنی رضامندی نازل کرتا ہوں اور اس کے بعد میں کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔
حضرت عمر بن خطابؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے۔ ان قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کا پستان دودھ سے اس وجہ سے پھوٹ پڑا کہ وہ کسی بچے کو دودھ پلایا کرتی تھی جب بھی وہ ان قیدیوں میں کسی بچے کو دیکھتی تو اس کو لیتی اور اپنے پیٹ سے اسے لگا لیتی اور اس کو دودھ پلانے لگتی۔ نبی ﷺ نے (یہ دیکھ کر) ہم سے فرمایا کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی۔ ہم نے کہا ہرگز نہیں جب تک اس کو آگ میں نہ ڈالنے کی طاقت رکھے گی تو آپ نے فرمایا اللہ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی یہ عورت اپنے بچے پر۔
حضرت معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے ایک گدھے پر جس کا نام عُفَیْر تھا بیٹھا ہوا تھا۔ آپؐ نے فرمایا اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں اور بندوں کا اللہ عزوجل پر یہ حق ہے کہ جو اس کا کسی کو شریک نہ بنائے وہ اس کو عذاب نہ دے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو یہ بشارت نہ دوں؟ آپؐ نے فرمایا ان کو یہ نہ بتانا ورنہ وہ اس پر تکیہ کر بیٹھیں گے۔
حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آخری شخص جنت میں داخل ہوگا وہ کبھی سیدھا چلے گا۔ کبھی اوندھے منہ گرے گا اور کبھی آگ اسے جھُلسائے گی۔ جب وہ اسے عبور کرے گا تو اس کی طرف متوجہ ہو گا اور کہے گا بہت ہی برکت والی ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دی۔ یقینا اللہ نے مجھے وہ چیز عطاء فرمائی ہے جو اس نے اولین و اٰخرین میں سے کسی کو نہیں دی۔ پھر اس کے لئے ایک درخت بلند کیا جائے گا۔ وہ شخص کہے گا اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سایہ سے فائدہ اٹھاؤں اور اس کا پانی پیؤں۔ تب اللہ عزوجل فرمائے گا اے ابنِ آدم! ہو سکتا ہے کہ اگر میں نے تجھے یہ دے دیا تو تُو مجھ سے اس کے علاوہ کچھ اور مانگے۔ تب وہ کہے گا نہیں اے میرے رب! پھر وہ اس سے عہد و پیمان کرے گا کہ اس کے علاوہ وہ اس سے اور کچھ نہیں مانگے گا اور اس کا رب اس کو معذور جانے گا کیونکہ اس نے وُہ دیکھ لیا ہے جس کے بغیر وہ رہ نہیں سکتا۔ تو وہ اسے اس کے قریب کر دے گا۔ پس وہ اس کے سایہ سے فائدہ اٹھائے گا اور اس کے پانی میں سے پئے گا۔ پھر اس کے لئے ایک درخت بلند کیا جائے گا جو پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگا۔ تب وہ کہے گا اے میرے رب! مجھے اس (درخت) کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا پانی پیوں اور اس کے سایہ سے فائدہ اٹھاؤں۔ اس کے علاوہ میں تجھ سے اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ تب وہ فرمائے گا اے ابنِ آدم! کیا تو نے مجھ سے عہد نہیں کیا تھا کہ اس کے علاوہ مجھ سے کوئی سوال نہ کرے گا۔ اور فرمائے گا کہ ممکن ہے کہ اگر میں نے تجھے اس کے قریب کر دیا تو تُو مجھ سے اس کے علاوہ اور مانگے۔ تب وہ اس سے پھر عہد کرے گا کہ اس کے علاوہ اس سے کچھ نہیں مانگے گا۔ اور اس کا رب اس کو معذور جانے گا کیونکہ وہ اُسے دیکھ رہا ہے جس کے بغیر وہ رہ نہیں سکتا۔ پس وہ اسے اس درخت کے قریب کر دے گا۔ پھر وہ اس کے سایہ سے فائدہ اٹھائے گا اور اس کے پانی میں سے پئے گا۔ پھر اس کے لئے جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت بلند کیا جائے گا جو پہلے دونوں (درختوں) سے زیادہ حسین ہوگا۔ پھر وہ عرض کرے گا۔ اے میرے رب! مجھے اس کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سایہ سے فائدہ اٹھاؤں اور اس کا پانی پیوں۔ اس کے علاوہ میں تجھ سے اور کچھ نہ مانگوں گا۔ تب (اللہ) فرمائے گا اے ابنِ آدم! کیا تو نے مجھ سے عہد نہیں کیا تھا کہ اس کے علاوہ مجھ سے کچھ نہیں مانگے گا۔ وہ کہے گا کیوں نہیں اے میرے رب! بس یہی۔ اس کے علاوہ میں تجھ سے کچھ سوال نہیں کروں گا اور اس کا رب اس کو معذور جانے گا کیونکہ وہ اسے دیکھ رہا ہے جس کے بغیر وہ رہ نہیں سکتا۔ پس وہ اسے اس کے قریب کر دے گا۔ پھر جب وہ اسے اس کے قریب کر دے گا اور اہلِ جنت کی آوازیں سنے گا تو عرض کرے گا اے میرے رب! مجھے اس میں داخل فرما دے۔ تب وہ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا۔ اے ابنِ آدم! مجھے تجھ سے کون بچائے؟ کیا تو اس بات پر راضی ہوگا کہ میں تجھے دنیا اور اس کے ساتھ اس جیسی اور (دنیا) دے دوں۔ اس پر وہ کہے گا اے میرے رب! کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے حالانکہ تو رب العالمین ہے۔ اس پر حضرت ابنِ مسعودؓ ہنس پڑے اور کہا کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہوں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اسی طرح رسول اللہ ﷺ ہنسے تھے۔ اس پر صحابہؓ نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ! آپؐ کس بات پر ہنس رہے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا رب العالمین کے ہنسنے پر۔ جب اس شخص نے عرض کیا کیا مجھ سے مذاق کرتا ہے؟ اور تو رب العالمین ہے۔ تب وہ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا یقینا میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا لیکن میں جو چاہوں اس پر قادر ہوں۔
حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت حذیفہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا اور مؤمن کھڑے ہوں گے یہان تک کہ جنت ان کے قریب کر دی جائے گی۔ ………… پس وہ محمد ﷺ کے پاس جائیں گے۔ چنانچہ آپؐ کھڑے ہوں گے۔ آپ ﷺ کو اجازت دی جائے گی اور امانت اور رحم بھیجا جائے گا۔ وہ (پلِ) صراط کے دائیں بائیں کھڑے ہو جائیں گے۔ تم میں سے پہلے بجلی کی طرح گزر جائیں گے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا میرے ماں باپ آپؐ پر فدا ہوں کون سی چیز بجلی کے گزرنے کی طرح ہے؟ آپؐ نے فرمایا تم نے بجلی کو نہیں دیکھا کہ وہ کیسے گزرتی ہے اور پلک جھپکنے میں لوٹتی ہے۔ پھر دوسرے ہوا کے چلنے کی طرح۔ پھر تیسرے پرندہ کے گزرنے کی طرح اور آدمیوں کے دوڑنے کی طرح۔ ان کے اعمال ان کو تیزی سے لے کر چلیں گے۔ اور تمہارا نبیﷺ پلِ صراط پر کھڑا ہوگا۔ وہ کہے گا اے میرے رب! سلامتی نازل فرما، سلامتی نازل فرما یہان تک کہ بندوں کے اعمال تھک کر رہ جائیں گے یہان تک کہ ایسا آدمی آئے گا جو چل نہ سکے گا مگر گھسٹ کر۔ فرمایا (پلِ) صراط کے دونوں جانب آنکڑے لٹک رہے ہوں گے جس کے متعلق حکم ہوگا اس کو پکڑنے پر مامور ہوں گے۔ خراشیں لگنے والے (بھی) ناجی ہیں وہ نجات پا جائیں گے۔ بعض الٹ کر جہنم میں جا گریں گے اور اس کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہؓ کی جان ہے جہنم کی گہرائی ستر برس کی ہے۔