بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 16 hadith
حضرت قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہﷺ کے صحابہؓ کبھی ہنستے بھی تھے؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہاں ہنستے تھے اور ایمان ان کے دلوں میں پہاڑ سے بھی عظیم تر تھا اور بلالؓ بن سعد بیان کرتے ہیں کہ میں نے انہیں تیر اندازی کی مشق کرتے اور اس دوران ایک دوسرے پر ہنستے بھی دیکھا (یعنی وہ بڑے زندہ دل اور خوش مزاج تھے)۔ لیکن جب رات ہوتی تو وہ خدا تعالی کے ذکر میں اس طرح محو ہوتے گویا وہ تارک الدنیا ہیں۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ نے ایک بار ازراہ مزاح انہیں کہا ’’ اے دو کانوں والے‘‘۔
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہؓ سے کہا کیا آپ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں، بہت کثرت سے ـــــ آپؐ اپنے اس مصلَّی سے جس پر آپؐ صبح کی نماز پڑھا کرتے تھے نہ اٹھتے جب تک سورج طلوع نہ ہو جاتا۔ پھر جب (سورج) طلوع ہو جاتا تو آپؐ کھڑے ہوتے ــــ (اور مجلس میں) لوگ باتیں کرتے، جاہلیت کی باتوں کا تذکرہ کرنے لگ جاتے اور ہنستے اور حضور ﷺ تبسم فرماتے۔
سماک بن حرب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہؓ سے پوچھا کیا آپ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہاں بہت دفعہ۔ جب آپؐ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ سے نہ اٹھتے یہا ں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا اور جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ ﷺ اٹھتے۔ لوگ گفتگو کرتے اور (زمانہ) جاہلیت کی باتیں کیا کرتے اور ہنستے اور آپؐ تبسم فرماتے۔
حضرت جابر بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی ﷺ کی مجلس میں سو سے زیادہ دفعہ بیٹھنے کی سعادت ملی۔ آپ ﷺ کے صحابہؓ ان مجالس میں (بعض اوقات) ایک دوسرے کو شعر بھی سناتے اور جاہلیت کے زمانہ کے واقعات کا ذکر بھی ہوتا۔ آپ ﷺ خاموش (بیٹھے باتیں سنتے) رہتے اور بعض اوقات ان کی خوشی میں شامل ہونے کے لئے تبسم بھی فرماتے۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ غزوئہ تبوک یا غزوئہ حنین سے واپس تشریف لائے اور حضرت عائشہؓ کے کمرہ کی الماری کے سامنے پردہ پڑا ہوا تھا۔ ہوا چلی تو پردہ ہٹا۔ وہاں حضرت عائشہؓ کی کچھ گڑیاں رکھی تھیں۔ حضورﷺ نے پوچھا اے عائشہ! یہ کیا ہے؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا۔ یہ میری گڑیاں ہیں۔ ان گڑیوں میں ایک گھوڑا بھی تھا جس کے کاغذ کے دو پر تھے۔ آپﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا یہ گھوڑا ہے۔ پھر آپﷺ نے اس کے پروں کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا یہ کیا ہے؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا۔ یہ اس کے پر ہیں۔ حضورﷺ نے کچھ حیرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا گھوڑا اور پر۔؟ اس پر حضرت عائشہ نے معصومانہ انداز میں جواب دیا۔ کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمانؑ کے گھوڑوں کے پر تھے؟ حضورﷺ اس پر کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
حضرت عوف بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور چمڑے کے ایک چھوٹے سے خیمہ میں تشریف فرما تھے۔ میں نے حضور کو سلام عرض کیا۔ حضور نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا اندر آ جاؤ۔ میں نے عرض کیا حضور پورے کا پورا اندر آ جاؤں۔ حضور نے فرمایا ہاں پورے کے پورے آ جاؤ۔ اس پر میں خیمہ میں چلا گیا۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا یا رسول اللہ! مجھے سواری کا جانور مہیا فرمائیے۔ نبیﷺ نے فرمایا میں سواری کے لئے تمہیں اونٹنی کا بچہ دوں گا۔ وہ کہنے لگا میں اونٹنی کا بچہ لے کر کیا کروں گا؟ اس پر نبیﷺ نے فرمایا کیا اونٹ اونٹنی کا بچہ نہیں ہوتا؟
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے ایک شخص نے سواری کے لئے جانور مانگا۔ آپؐ نے اس سے فرمایا میں سواری کے لئے تمہیں اونٹنی کا بچہ دوں گا۔ وہ کہنے لگا یا رسول اللہ! میں اونٹنی کا بچہ لے کر کیا کروں گا؟ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا اونٹ اونٹنی کا بچہ نہیں ہوتا؟
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے ایک مرتبہ ایک بوڑھی عورت سے فرمایا کہ بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی۔ وہ عورت قرآن کریم پڑھتی تھی۔ گھبرا کر کہنے لگی۔ حضورﷺ کس وجہ سے نہیں جائیں گی حضورﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو نے قرآن کریم میں نہیں پڑھا ہے۔ إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنشاءً فجعلناهُنَّ أَبْكَارًا کہ ہم نے انہیں (جنت والیوں کو) نو عمر اور کنواریاں بنایا (یعنی بوڑھی عورتیں بھی کنواری اور نو عمر بن کر جنت میں جائیں گی)۔