بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 2 of 2 hadith
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نجد کی طرف ایک غزوہ میں گئے۔ جب رسول اللہ ﷺ لَوٹے تو وہ بھی ان کے ساتھ لَوٹے۔ آپؐ کو اتفاق سے دوپہر کا وقت ایسی وادی میں آیا جہاں کانٹے دار درخت بہت تھے۔ رسول اللہ ﷺ اُتر پڑے اور لوگ ان درختوں میں اِدھر اُدھر بکھر گئے تاکہ سایہ میں بیٹھیں اور رسول اللہ ﷺ نے کیکر کے درخت کے نیچے ڈیرا کیا۔ آپؐ نے اس سے اپنی تلوار لٹکا دی۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے کچھ ہم سوئے۔ پھر کیا سنتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں بلا رہے ہیں۔ ہم آپؐ کے پاس آئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ آپؐ کے پاس ایک بدوی بیٹھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس شخص نے میری تلوار سونت لی اور میں سویا ہوا تھا، میں جو بیدار ہوا تو وہ تلوار اس کے ہاتھ میں سونتی ہوئی تھی۔ اس نے مجھ سے پوچھا کون تمہیں مجھ سے بچائے گا؟ میں نے کہا اللہ۔ تو یہ دیکھو وہ بیٹھا ہوا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو سزا نہ دی۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ غزوۂ ذات الرقاع میں تھے کہ اتنے میں ہم ایک گھنے سایہ دار درخت کے پاس پہنچے، ہم نے نبی ﷺ کے لئے وہ چھوڑ دیا، اتنے میں مشرکوں میں سے ایک شخص آیا اور نبی ﷺ کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی۔ اس نے اس کو سونت لیا اور آپؐ سے کہنے لگا مجھ سے ڈرتے ہو؟ آپؐ نے اس سے فرمایا نہیں۔ کہنے لگا پھر کون مجھ سے تمہیں بچائے گا؟ آپؐ نے فرمایا اللہ۔ نبی ﷺ کے ساتھیوں نے اس کو دھمکایا۔ اور نماز کی تکبیر ہوئی تو آپؐ نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر وہ پیچھے ہٹ گئے اور آپؐ نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں۔ نبی ﷺ کی چار رکعتیں ہوئیں اور لوگوں کی دو۔