بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 3 of 13 hadith
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی حدوں پر قائم ہوا اور وہ شخص جس نے ان حدوں سے تجاوز کیا ان کی مثال ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ایک کشتی میں قرعہ ڈال کر جگہ بانٹ لی۔ ان میں سے بعض کو اوپر کا درجہ ملا اور بعض کو نیچے کا۔ تو وہ لوگ جو اس کشتی کے نچلے درجہ میں تھے جب پانی لینا چاہتے ان لوگوں کے پاس سے گزرتے جو اُوپر کے درجہ میں تھے۔ پھر انہوں نے کہا اگر ہم اپنے ہی درجہ میں ایک سوراخ کر لیں اور جو اوپر کے درجہ میں ہیں اُن کو تکلیف نہ دیں (تو بہتر ہوگا)۔ اب اگر اُوپر کے درجہ والے انہیں وہ بات جس کا انہوں نے ارادہ کیا ہے، کرنے دیں تو سب کے سب ہلاک ہو جائیں گے اور اگر ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو وہ بھی نجات پا جائیں اور دوسرے بھی سب نجات پا جائیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بھیجا اور فرمایا تم اہل کتاب کی ایک قوم کی طرف جا رہے ہو، ان کو اس شہادت کی طرف بلاؤ کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسولﷺ ہوں۔ اگر وہ یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ یہ بھی تسلیم کر لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے امیروں سے لیا جائے گا اور ان کے غرباء کو دیا جائے گا۔ اگر وہ یہ بات تسلیم کر لیں تو ان کے عمدہ اموال لینے سے بچنا اور مظلوم کی بددعا سے ڈر کر رہنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی روک نہیں ہے۔
شقیق بن ابی وائل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت عبداللہؓ ہمیں ہر جمعرات کے دن نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ ایک شخص نے انہیں کہا اے ابو عبدالرحمن! ہمیں آپ کی باتیں اچھی لگتی ہیں اور ہمیں پسند آتی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہر روز وعظ کیا کریں۔ اس پر حضرت عبداللہؓ نے فرمایا مجھے صرف تمہاری اکتاہٹ کا ڈر اس بات سے روکے ہوئے ہے کہ تمہارے سامنے وعظ کروں۔ رسول اللہ ﷺ بھی ہماری اکتاہٹ کے ڈر سے دنوں وعظ کے سلسلہ میں ہمارا خیال رکھتے تھے۔