بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim CommunityMuslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmadas of Qadian
Sayings of the Holy Prophetﷺ
16,900+ Ahadith
Showing 10 of 22 hadith
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جنازہ جلدی لے جایا کرو۔ اگر نیک (روح) ہوئی تو تم اچھی چیز آگے لے جا رہے ہو اور اگر نیک نہ ہوئی تو وہ بری ہوگی۔ جسے تم اپنی گردنوں سے اتار دو گے۔
حصین بن وَحْوَحْ سے روایت ہے کہ حضرت طلحہؓ بن براء بیمار ہوگئے۔ نبیﷺ ان کے پاس ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ آپؐ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ اس کی وفات ہونے والی ہے۔ مجھے اس کی اطلاع کردینا اور جلدی کرنا کیونکہ ایک مسلمان کی میت کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اس کے اہل کے درمیان روک رکھی جائے۔
حضرت علیؓ بن ابو طالب نے فرمایا کہ آپؐ نے فرمایا کفن میں غلو نہیں چاہیے میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کفن میں غلو نہ کرو۔ کیونکہ وہ اس سے جلد ہی چھین لیا جاتا ہے۔
حضرت امام مالکؒ بیان کرتے ہیں کہ مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات سوموار کے روز ہوئی اور دفن بروز منگل ہوئے اور حضور ﷺ کا جنازہ لوگوں نے الگ الگ گروہوں کی شکل میں پڑھا کسی نے امامت نہیں کرائی کچھ لوگوں کی رائے تھی کہ منبر کے قریب آپ کو دفن کیا جائے اور کچھ لوگوں کی رائے تھی کہ جنت البقیع میں آپ کو دفن کیا جائے حضرت ابو بکرؓ نے آ کر بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اسی جگہ دفن ہوتا ہے جہاں اس کی وفات ہوئی ہو اس وجہ سے حضور کے لئے اسی کمرے میں قبر تیار کی گئی حضور علیہ السلام کے غسل دینے کے وقت کپڑے اتارنے کا ارادہ کیا گیا تو ایک غیبی آواز آئی کپڑے نہ اتارو اس لئے کپڑوں میں ہی حضور ﷺ کو غسل دیا گیا۔ نوٹ :۔ غالباً یہاں حضور ﷺ کی ذات اقدس یا مستقل شریعت لانے والا نبی مراد ہے ورنہ تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کی نعشیں مصر سے ارض فلسطین میں لا کر دفن کی گئی تھیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے گھروں کو قبریں اور میری قبر کو عید مت بنانا، مجھ پر درود بھیجنا، تم جہاں بھی ہو گے وہیں سے تمہارا درود مجھ تک پہنچا دیا جائے گا۔
حضرت عائشہؓ نے بیان فرمایا اگر مجھے اس بات کا پہلے علم ہوتا جس کا مجھے بعد میں علم ہوا تو نبی ﷺ کو آپؐ کی ازواجؓ کے علاوہ اور کوئی غسل نہ دیتا۔
مفضل بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو عبداللہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ حضرت فاطمہ علیہا السلام کو کس نے غسل دیا تھا تو انہوں نے فرمایا امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے غسل دیا تھا مجھے ان کی بات بہت عجیب لگی اس پر آپ فرمانے لگے معلوم ہوتا ہے کہ میری بات سے تمہیں تعجب ہوا ہے میں نے کہا کچھ ایسا ہی معاملہ ہے فرمانے لگے حیران ہونے کی کوئی بات نہیں کیونکہ حضرت فاطمہ صدیقہ تھیں اور انہیں صدیق کے علاوہ کوئی اور غسل نہیں دے سکتا تھا کیا تجھے معلوم نہیں کہ حضرت مریم علیہا السلام کو (ان کے بیٹے) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے غسل دیا تھا۔
حضرت امّ عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی کو غسل دینے سے متعلق فرمایا اس کی داہنی طرفوں اور اس کے وضو کرنے کی جگہوں سے شروع کرو۔
حضرت عبداللہ بن ابو بکرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکرؓ فوت ہوئے تو ان کی بیوی اسماء بنت عمیسؓ نے ان کو غسل دینے کے بعد، مہاجرین صحابہ جو وہاں پر موجود تھے، سے دریافت کیا کہ میں روزے سے ہوں اور آج سردی شدت کی ہے تو کیا غسل دینے کی وجہ سے مجھے بھی غسل کرنا ضروری ہے؟ صحابہؓ نے کہا نہیں یعنی غسل ضروری نہیں۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی بھی میّت نہیں جس پر مسلمانوں کی ایک جماعت نمازِ جنازہ پڑھے جو سو تک پہنچے اور وہ سب اس کی شفاعت کریں مگر اس کے بارہ میں ان کی شفاعت قبول ہوتی ہے۔