بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 6 of 6 hadith
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اسم ذات اللہ کے علاوہ) اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، جو زندگی میں ان کو مدنظر رکھے گا اور ان کا مظہر بننے کی کوشش کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ یہ نام رسول اللہ ﷺ نے اس طرح گنے اللہ تعالیٰ جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بن مانگے دینے والا، بار بار رحم کرنے والا، بادشاہ، ہر قسم کے نقائص سے پاک اور منزہ، تمام آفات سے بچانے والا، امن دینے والا، ہر قسم کے بگاڑ سے محفوظ رکھنے والا، غالب، نقصان کی تلافی کرنے والا، کبریائی والا، پیدا کرنے والا، نیست سے ہست کرنے والا، صورت گری کرنے والا، ڈھانپنے اور پردہ پوشی کرنے والا، مکمل غلبہ رکھنے والا، بے دریغ عطا کرنے والا، روزی رساں، مشکل کشا، سب کچھ جاننے والا، روک لینے والا، کشادگی پیدا کرنے والا، پست کرنے والا، بالا کرنے والا، عزت دینے والا، ذلت دینے والا، سننے والا، دیکھنے والا، فیصلہ دینے والا، عدل کرنے والا، باریک بین، باخبر، حلم والا، عظمت والا، خطاء پوش، قدردان، بلند مرتبہ، بڑی شان والا، سب کا حافظ و ناصر، حساب کتاب لینے والا، جلالت شان والا، صاحب کرم، نگہبان، قبول کرنے والا، وسعت والا، حکمت والا، بڑا محبت کرنے والا، بزرگی والا، دوبارہ زندگی دینے والا، ہمہ بین، ہر کمال کا دائمی اہل، کفایت کرنے والا، صاحب قوت، صاحب قدرت، مدد گار، لائق حمد، شمار کنندہ، پہلی بار پیدا کرنے والا، دوبارہ پیدا کرنے والا، زندگی بخشنے والا، موت دینے والا، زندۂ جاوید، قائم بالذات، بے نیاز، صاحب بزرگی، یکتا، یگانہ، مستغنی، قدرت والا، صاحب اقتدار، آگے بڑھانے والا، پیچھے ہٹانے والا، پہلا، آخری، عیاں، نہاں، مالک متصرف، بلند و بالا، نیکوں کی قدر کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، انتقام لینے والا، معاف کرنے والا، نرم سلوک کرنے والا، بادشاہت کا مالک، عظمت و کرامت والا، انصاف کرنے والا، یکجا کرنے والا، بے نیاز، بے نیاز کرنے والا، روکنے والا، ضرر کا مالک، نفع دینے والا، نور ہی نور، ہدایت دینے والا، نئی سے نئی ایجاد کرنے والا، صاحب بقا، اصل مالک، راہنما، سزا دینے میں دھیما۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی اور آپؐ منبر پر تھے وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ مىں لپٹے ہوئے ہوں گے وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شرک کرتے ہىں) حضور ﷺ نے کہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں بڑی طاقتوں والا اور نقصان کی تلافی کرنے والا ہوں، میرے لئے ہی بڑائی ہے، میں بادشاہ ہوں، میں بلند شان والا ہوں۔ وہ (اللہ تعالیٰ) اپنی ذات کی مجد اور بزرگی بیان کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ان کلمات کو بار بار بڑے جوش سے دہرا رہے تھے یہاں تک کہ منبر لرزنے لگا اور ہمیں خیال ہوا کہ کہیں آپ منبر سے گر ہی نہ جائیں۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ میری تکذیب کرتا ہے حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ وہ مجھے گالیاں دیتا ہے حالانکہ اسے ایسا کرنے کا حق نہیں تھا۔ مجھے جھٹلانے سے مراد یہ ہے کہ وہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ دوبارہ ہمیں اس طرح پیدا نہیں کر سکتا جس طرح اس نے ہمیں پہلے پیدا کیا ہے اور مجھے گالی دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنا بیٹا بنایا ہے حالانکہ میری ذات صمد یعنی بے نیاز ہے اور نہ میرا کوئی بیٹا ہے اور نہ میں جنا گیا ہوں یعنی نہ میں کسی کا بیٹا ہوں اور نہ ہی کوئی میرا ہمسر ہے۔
حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے جو باتیں بیان کی ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ نے فرمایا اے میرے بندو میں نے ظلم کو اپنی ذات پر حرام کیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام کیا ہے۔ پس تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں پس مجھ سے ہدایت طلب کرو۔ اے میرے بندو تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھانا کھلاؤں پس تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا اے میرے بندو تم سب برہنہ ہو مگر جسے میں پہناؤں پس مجھ سے کپڑے مانگو میں تمہیں پہناؤں گا اے میرے بندو! تم رات دن غلطیاں کرتے ہو اور میں تمہارے سب گناہ بخشتا ہوں پس مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہیں بخش دوں گا تم ہرگز طاقت نہیں رکھتے کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور نہ ہی مجھے نفع پہنچانے کی طاقت رکھتے ہو۔ اے میرے بندو اگر تمہارے پہلے اور تمہارے پچھلے اور تمہارے انسان اور تمہارے جن تم میں سے سب سے زیادہ متقی دل رکھنے والے کی طرح ہوجائیں تو یہ میری بادشاہت میں ذرہ بھی اضافہ نہ کر سکے گا۔ اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے اور تمہارے پچھلے اور تمہارے انسان اور تمہارے جن تم میں سے سب سے زیادہ فاجر دل رکھنے والے آدمی کی طرح ہوجائیں تو یہ میری بادشاہت میں کچھ کمی نہ کر سکے گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور تمہارے پچھلے اور تمہارے انسان اور تمہارے جن ایک میدان میں کھڑے ہوں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر انسان کو اس کی طلب عطا کروں تو یہ اس میں سے کچھ بھی کمی نہ کرے گی جو میرے پاس ہے۔ سوائے اس قدر جتنا ایک سوئی کم کرتی ہے۔ جبکہ وہ سمندر میں ڈالی جائے اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں میں تمہارے اعمال (ہی) تمہارے لئے محفوظ رکھتا ہوں۔ پھر میں تمہیں وہ پورے پورے دوں گا۔ پس جو خیر پائے تو اسے چاہئے کہ وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا (کچھ) پائے تو صرف اپنے نفس کو (ہی) ملامت کرے۔
حضرت جریر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبیﷺ کی خدمت میں حاضر تھے (رات کا وقت تھا)۔ آپﷺ نے چودہویں کے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا تم اپنے پروردگار کو اسی طرح (بلا روک ٹوک) دیکھو گے جس طرح اس چودہویں کے چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اگر تم اس شرف کے حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہو تو فجر اور عصر کی نماز وقت پر پڑھنے میں کوتاہی نہ ہونے دو۔