بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت عثمان بن عفانؓ نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا_ شعبہ کی روایت میں خَیْرُکُمْ اور سفیان کی روایت میں اَفْضَلُکُمْ کے الفاظ ہیں_ تم میں سے بہتر یا افضل وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور اسے سکھایا ۔
حضرت عثمان بن عفانؓ نے بیان کیا رسول اللہ ﷺنے فرمایا تم میں سے افضل وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اوراسے سکھایا ۔
مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایاتم میں سے بہتر وہ ہیں جنہوں نے قرآن سیکھا اور سکھایا ۔راوی(عاصم) کہتے ہیں کہ انہوں (مصعب) نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے میری اس جگہ پر بٹھایا تاکہ میں( قرآن) پڑھاؤں ۔
حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ جس کے لئے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اُس کو دین کا فہم عطا کرتا ہے ۔
حضرت انس بن مالک ؓ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا اُس مؤمن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے نارنگی ٭کی طرح ہے ، جس کا ذائقہ عمدہ ہے اور خوشبوبھی عمدہ ہے اور اُس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کی طرح ہے جس کا ذائقہ اچھا ہے اور اس میں خوشبو نہیں ہے اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے خوشبوداربوٹی کی ہے ، جس کی خوشبو عمدہ ہے مگر ذائقہ کڑوا ہے اورایسے منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندرائن٭(تُمَّہ) کی ہے جس کا ذائقہ کڑوا ہے اور اُس کی کوئی خوشبو نہیں ہے۔ ٭ نارنگی سنترہ کی طرح citrus فیملی کا ایک پھل ہے ۔
حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاجس نے قرآن پڑھا اور اس کو یاد رکھا اُس کو اللہ جنت میں داخل کردے گا اور اُس کے گھر کے دس افراد جنہوں نے اپنے آپ پر دوزخ واجب کر لی ہوگی ،اُن کے حق میں اُس کو شفیع بنائے گا۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن سیکھو اور اُسے پڑھو اورسویا (بھی) کرو۔کیونکہ قرآن کی مثال اور جس نے اسے سیکھا اور اس کے ساتھ قیام کیا،٭ایک تھیلی کی ہے جو مُشک سے بھری ہوئی ہو اور اس کی خوشبو ہر جگہ پھیل رہی ہو اور جس نے قرآن سیکھا اورسو گیا ، ایسی حالت میں کہ وہ اس کے سینہ میں ہے اُس کی مثال اُس تھیلی کی ہے ، جس میں مُشک بھر کر اُس کا منہ باندھ دیا گیا ہو ۔
نافع بن عبد الحارث حضرت عمربن خطابؓ سے عسفان مقام پرملے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے انہیں مکہ کا والی مقرر کیا تھا۔ حضرت عمر ؓ نے اُن سے دریافت کیا کہ وادی والوں پر اپنا جانشین کس کو مقرر کر کے آئے ہو؟انہوں نے جواب دیامیں نے ان پرابن اَبْزَی کو جانشین مقرر کیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے دریافت فرمایا کون ابن ابز َی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک آدمی جو ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ہے ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا تو تم نے ان پر ایک آزاد کردہ غلام اپنا جانشین مقرر کردیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ وہ اللہ تعالی کی کتاب کا پڑھنے والا اور فرائض کا عالم ، قاضی ہے ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ہاں ہاں، تمہارے نبی ﷺنے فرمایا تھا کہ اللہ اس کتاب کے ذریعہ بہت سی قوموں کوبلند کر دے گا اور بعض دوسری قوموںکو اس کے ذریعہ نیچا کردے گا ۔
حضرت ابو ذرؓ نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اَے ابو ذر!یہ کہ تم صبح اللہ کی کتاب سے ایک آیت سیکھ لو ، تو یہ تمہارے لئے سو رکعت نماز پڑھنے سے بہتر ہے اوریہ کہ تم صبح کو ایک باب علم کا سیکھ لو۔ اُس پر عمل کیا جائے ، یا نہ کیاجائے ، تمہارے لئے ہزار رکعت پڑھنے سے بہتر ہے ۔