بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
امیر معاویہ بن ابی سفیان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاخیر طبعی بات ہے اور شر(خواہ مخواہ کی) ضد ہے ۔ اللہ جس کے لئے خیر کا ارادہ کرتا ہے، اُسے دین کا فہم عطا فرمادیتا ہے ۔
حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (دین میں) فہم و فراست رکھنے والا ایک شخص،شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہوتاہے۔
حضرت انس بن مالک ؓ نے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا علم طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور علم کو نااہل کے سامنے پیش کرنے والا سؤروں کے گلے میں ، جواہر ، موتی اور سونے کا ہار ڈالنے والے کی طرح ہے ۔
کثیر بن قیس نے بیان کیا کہ میں حضرت ابودرداء ؓ کے پاس دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ۔ آپ ؓکے پاس ایک آدمی آیا اور اُس نے کہا اے ابو درداءؓ !میں آپؓ کے پاس مدینہ - مدینۃ الرسول ﷺ -سے ایک حدیث کے لئے آیا ہوں،جس کے بارہ میں مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپؓ اسے نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ انہوں (حضرت ابو درداءؓ)نے کہاتجھے کوئی تجارت تو نہیں لائی؟ اس آدمی نے کہا نہیں ۔حضرت ابو درداء ؓ نے پوچھا کیا تجھے اس (حدیث) کے علاوہ کوئی اور وجہ تو یہاں نہیں لائی؟ اُس نے کہا نہیں۔انہوں (حضرت ابو درداء ؓ) نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ، جوکسی راستے پرچلا ،علم تلاش کرتے ہوئے اللہ اُس کے لئے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے اور یقینا فرشتے اپنے پروں کو طالب علم پر خوش ہوکربچھا دیتے ہیں اور یقینا طالب علم کی خاطر وہ جو آسمان اور زمین میں ہیں استغفار کرتے ہیں یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں بھی اور یقینا ایک عالم کی عابد پر فضیلت ویسی ہی ہے جیسی چاند کی باقی ستاروں پر۔ یقیناعلماء ہی انبیاء کے وارث ہیں ۔ یقینا انبیاء درہم و دینار کے وارث نہیں بناتے بلکہ علم کے وارث بناتے ہیں جس نے یہ (علم) لیا اُس نے بہت بڑا حصہ لیا ۔
حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کسی مسلمان سے دنیا کی تکالیف میں سے کسی تکلیف کو دُور کیا اللہ قیامت کے دن اُس کی تکالیف میں سے ایک تکلیف دور کردے گا۔ جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی ، اللہ اُس کی دنیا اور آخرت میں پردہ پوشی کرے گا ۔ جو کسی مصیبت زدہ کے لئے آسانی پیدا کرتا ہے اللہ اُس کے لئے دنیا اور آخرت میں آسانی پیدا کردے گا۔ اللہ اپنے بندے کی مددمیں ہے جب تک کہ وہ اپنے بھائی کی مددمیں رہتا ہے اور جو ایسے راستہ پر چلتا ہے جس کے ذریعہ وہ علم کی تلاش کرتا ہے تو اللہ اُس کے لئے اس کی وجہ سے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے اور کوئی قوم ایسی نہیں جو اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوتے ہیں جو اللہ کی کتاب کو پڑھتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کو پڑھاتے ہیں ، مگر فرشتے اُن کو گھیرلیتے ہیں اورسکینت ان پر نازل ہوتی ہے اور رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے ۔ اللہ اُن کا ذکر اُن سے کرتا ہے جو اس کے پاس ہیں اور جس کے عمل نے اسے پیچھے ڈال دیا اُس کا نسب اُسے آگے نہیں بڑھا سکے گا۔
زِرّ بن حُبَیشنے بیان کیا کہ میں حضرت صفوان ؓبن عسال مرادی کے پاس آیا۔ انہوں نے کہا تم کس لئے آئے ہو ؟ میں نے کہا علم کی جستجو کر رہا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کوئی نکلنے والا اپنے گھر سے علم کے حصول کے لئے نہیں نکلتا مگر فرشتے اس کے لئے اپنے پر بچھادیتے ہیں جو وہ کررہا ہے اس پرخوش ہوتے ہوئے۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے ہوئے سنا جو میری اس مسجد میں آیا اور وہ صرف نیکی کے لئے آیا کہ وہ اسے سیکھے یا ا سے سکھائے تو وہ اللہ کے راستے میں مجاہد کے مقام پرہے اور جو اس کے علاوہ کسی اور غرض سے آیا وہ اُس شخص کی طرح ہے جو کسی کے سامان پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
حضرت ابو اُمامہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا تم اس علم کوحاصل کرو قبل اس کے کہ وہ قبض کرلیاجائے اور اس کا قبض کیا جانا یہ ہے کہ وہ اُٹھا لیا جائے اورآپؐ نے درمیانی انگلی اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی اس طرح اکٹھی کی۔پھر حضور ؐ نے فرمایا عالم اور متعلم دونوں اجر میں شریک ہیں ۔باقی لوگوں میں کوئی خیر نہیں ۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ اپنے ایک حجرے سے باہر تشریف لائے اور مسجد میں داخل ہوئے تو آپؐ کے سامنے دو حلقے تھے۔ اُن میں سے ایک(حلقے والے) قرآن پڑھ رہے تھے اور اللہ سے دعا کر رہے تھے اور دوسرے علم حاصل کر رہے تھے اور علم سکھا رہے تھے ۔ نبی ﷺ نے فرمایاسب نیک کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ قرآن پڑھ رہے ہیں اور اللہ سے دعا کر رہے ہیں۔ اگر اللہ چاہے تو ان کو دے گا اور اگر چاہے تو ان کو نہ دے گا اور یہ علم سیکھ رہے ہیں اور میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ پس آپؐ ان کے ساتھ بیٹھ گئے ۔
حضرت زید بن ثابتؓ نے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اللہ اُس انسان کو سرسبز و شاداب کرے جس نے میری بات سنی اوروہ آگے پہنچائی کیونکہ بہت سے سمجھ کی بات لینے والے سمجھ دار نہیں ہوتے اور بہت سے سمجھ کی بات پہنچانے والے اُس کو پہنچانے والے ہوتے ہیں جو اس سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے۔ علی بن محمد نے اس میں کچھ اضافہ کیا ہے ، تین باتیں ایسی ہیں جن میں کسی مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا۔ عمل کا خالص اللہ کے لئے کرنا اور مسلمانوں کے ائمہ کی خیرخواہی کرنا اور اُن کی جماعت سے چمٹے رہنا ۔