بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے میری طرف منسوب کرکے کوئی حدیث بیان کی اور وہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹ بولنے والوں میں سے ایک ہے۔
حضرت عرباض بن ساریہؓ بیان کرتے ہیں ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ہمیں بڑا مؤثر وعظ فرمایا، جس سے دل ڈر گئے اور آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ اس پر کہا گیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے ہمیں ایسا وعظ فرمایا ہے جیسے کوئی الوداع کرنے والا وعظ کرتا ہے۔ تو ہمیں کوئی وصیت کیجئے؟ آپؐ نے فرمایا تم پر اللہ کا تقویٰ لازم ہے اور سننا اور اطاعت کرنا۔ اگرچہ وہ حبشی غلام ہی ہو اور میرے بعد تم شدید اختلاف دیکھو گے۔ تم میری سنت اور (اللہ تعالیٰ سے) ہدایت پانے والے خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑے رہنا اور اس کو خوب مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور بدعات سے اجتناب کرنا کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔
حضرت عرباض بن سَاریہؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک وعظ فرمایا جس سے آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے اور جس سے دل ڈر گئے۔ اور ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یہ تو ایک الوداع کرنے والے کی نصیحت ہے۔ آپؐ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا میں تمہیں ایک روشن راستے پر چھوڑے جارہا ہوں۔ اس کی رات (بھی) اس کے دن کی طرح ہے۔ میرے بعد اس سے کوئی بھٹک نہیں سکتا سوائے ہلاک ہونے والے کے اور تم میں سے جو شخص زندہ رہا وہ بہت اختلاف دیکھے گا۔ پس تم لازم پکڑو میری اس سنت کو جو تم پہچانتے ہو اور (اللہ تعالیٰ سے) ہدایت پانے والے خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑو اور اُس کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ تم پر اطاعت لازم ہے خواہ حبشی غلام ہی ہو کیونکہ مومن کی مثال نکیل والے اونٹ کی سی ہے جدھر اُسے لے جایا جائے وہ ادھر چل پڑتا ہے۔
حضرت عرباض بن ساریہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، چہرئہ مبارک ہماری طرف کیا اور ہمیں بہت مؤثر وعظ کیا۔
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب خطاب فرماتے تو آپؐ کی آنکھوں میں سرخی جھلکنے لگتی اور آواز بلند ہوجاتی تھی اور آپ کا جلال جوبن پر ہوتا گویا آپؐ ایک لشکر سے ڈرانے والے ہیں جو (ڈرانے والا یہ) کہہ رہا ہو کہ وہ لشکر صبح کو تم پر حملہ کرنے والا ہے یا شام کو تم پر حملہ کرنے والا ہے اور آپؐ فرماتے کہ میں اور ’’وہ گھڑی‘‘ ان دو کی طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور آپؐ اپنی دو انگلیاں شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی ملاتے اور فرماتے تھے اما بعد، سب باتوں میں بہترین اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور سب سے بہترین ہدایت محمد ﷺ کی ہدایت ہے اور سب سے بدترین امور نئی نئی باتیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے اور آپؐ فرماتے تھے جس نے کوئی مال چھوڑا وہ اس کے اہل کے لئے ہے اور جو کوئی قرض یا (بچے) جن کے ضائع ہونے کا ڈر ہو چھوڑے وہ میرے ذمہ ہیں اور میرے سپرد ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چیزیں تو صرف دو ہی ہیں کلام اور ہدایت، سب سے اچھا کلام اللہ کا کلام ہے اور سب سے اچھی ہدایت محمد ﷺ کی ہدایت ہے۔ خبردار نئی نئی باتوں سے بچو بد ترین امور ان کی نئی باتیں ہیں کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ خبردار ایسا نہ ہو کہ تم پر مدّت لمبی ہو جائے اور تمہارے دل سخت ہو جائیں۔ خبردار وہ چیز جو آنے والی ہے وہ قریب ہے اور دور وہ چیز ہے جو آنے والی نہیں ہے۔ خبردار بد بخت تو وہ ہے جو بدبخت ہوگیا اپنی ماں کے پیٹ میں اور سعادت مند وہ ہے جس نے کسی اور سے نصیحت حاصل کی۔ سنو! کسی مومن سے قتال کفر ہے اور اس کو گالی دینا فسق ہے۔ کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے۔ سنو! جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ بولنا نہ ہنسی مذاق میں درست ہے نہ سنجیدہ امور میں۔ کوئی شخص اپنے بچے سے ایسا وعدہ نہ کرے کہ پھر اسے پورا نہ کرے۔ اور جھوٹ بدی کی طرف لے جاتا ہے اور بدی آگ کی طرف۔ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ سچ بولنے والے کو کہا جائے گا کہ اس نے سچ بولا اور نیکی کی، اور جھوٹے کو کہا جائے گا کہ اُس نے جھوٹ بولا اور گناہ کیا۔ سنو! یقینا بندہ جھوٹ بولتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک کذّاب یعنی بہت جھوٹا لکھا جاتا ہے۔
حضرت عائشہؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ھُوَالَّذِیْ أَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ھُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ۔۔۔ وَمَا یَذَّکَّرُ إِلَّا أُولُو الْألْبَابِ (ترجمہ) وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری اُسی میں سے محکم آیات بھی ہیں، وہ کتاب کی ماں ہیں اور دوسری متشابہ (آیات) ہیں پس وہ لوگ جن کے دِلوں میں کجی ہے وہ فتنہ چاہتے ہوئے اور اس کی تاویل کی خاطر اُس میں سے اس کی پیروی کرتے ہیں جو باہم مشابہ ہے حالانکہ اللہ کے سوا اور اُن کے سوا جو علم میں پختہ ہیں کوئی اس کی تاویل نہیں جانتا۔ وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لے آئے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور عقلمندوں کے سوا کوئی نصیحت نہیں پکڑتا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ! جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو اس بارے میں جھگڑا کر رہے ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ نے (اس آیت میں) مراد لئے ہیں۔ پس ان سے بچو۔
حضرت ابو اُمامہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی قوم اس ہدایت کے بعد جس پر وہ قائم ہوتی ہے، گمراہ نہیں ہوتی مگر اس کو بحث کی طاقت دی جاتی ہے پھر یہ آیت پڑھی بَلْ ھُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ (ترجمہ) بلکہ وہ سخت جھگڑالو قوم ہے۔
حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ بدعتی کا روزہ قبول نہیں کرے گا نہ نماز اور نہ صدقہ اور نہ حج اور نہ عمرہ اور نہ جہاد اور نہ کوئی خرچ نہ کوئی فدیہ۔ وہ اسلام سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے بال آٹے سے نکل جاتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ بدعتی کا کوئی بھی عمل قبول کرنے سے انکار کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی بدعت چھوڑ دے۔