بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں (حملہ آور)لوگوں سے اس وقت تک لڑائی جاری رکھوں حتّٰی کہ وہ گواہی دیں اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اورمیں اللہ کارسول ہوںاور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔
حضرت ابن عباسؓ اورحضرت ابو ہریرہ ؓ دونوں نے بیان کیا کہ ایمان بڑھتا اور کم ہوتا ہے ۔
حضرت ابو درداء ؓنے بیان کیا کہ ایمان بڑھتا ہے اور کم ( بھی) ہوتا ہے۔
حضرت معاذ بن جبل ؓ نے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ (حملہ آور)لوگوں سے لڑائی کروں ، یہاں تک کہ وہ یہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ۔
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اور حضرت جابر بن عبداللہؓ دونوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایامیری امت میں سے دو گروہ ایسے ہیں جن کا اسلام میں کچھ بھی حصہ نہیں ہے -مرجئہ اور قدریہ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اور آپؐ صاد ق و مصدوق ہیں(یعنی آپؐ سچے ہیں اور آپؐ کو سچ ہی عنایت فرمایا گیا ہے) تم میں سے ہر ایک کا تخلیقی مواد اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن جمع کیا جاتا ہے ۔ پھر اسی طرح وہ چمٹنے والا بن جاتا ہے اور پھر ا سی طرح ایک گوشت کا ٹکڑا بن جاتا ہے پھر اس کی طرف اللہ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے ۔ پس اللہ اسے کہتا ہے کہ اس کا عمل لکھ اور اس کی عمر لکھ اور اس کا رزق لکھ اور بدبخت ہے یا نیک بخت۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی اہل جنت کے عمل کرتا چلا جاتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے اور اس کے متعلق لکھا ہوا اس پرغالب آجاتا ہے اور وہ جہنمیوں والے عمل کرتا ہے اور اس میں داخل ہوجاتا ہے اور تم میں سے کوئی دوزخیوں والے عمل کرتاچلا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے اوراس (دوزخ) کے درمیان صرف ایک ہاتھ فاصلہ رہ جاتا ہے اور اس کے متعلق لکھا ہوا اس پر غالب آجاتا ہے اور وہ جنتیوں جیسے عمل کرتا ہے اور اس میں داخل ہوجاتا ہے ۔
ابن دیلمی نے بیان کیا کہ میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ خیال پیدا ہوگیا اور مجھے اندیشہ ہواکہ وہ میرے دین اورکام کو ہی بگاڑنہ دے۔ میںحضرت ابی بن کعب ؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا اے ابو منذر! میرے دل میں اس تقدیر کے بارے میں کچھ خیال پیدا ہوگیا ہے اور میں اپنے دین اورکام کے بارے میں ڈرتا ہوں ، پس مجھے کوئی ایسی بات اس بارہ میں بتائیے۔ شاید اللہ مجھے فائدہ پہنچائے۔ انہوں(حضرت ابومنذرؓ)نے کہا اگر اللہ اپنے آسمانوں والوں کو عذاب دے اوراپنی زمین والوں کو عذاب دے تو عذاب تو دے گا مگر اُن پر ظلم کرنے والا نہیں ہوگا اور اگر ان پر رحم کرے تواُن سے اس کی رحمت ان کے اعمال سے زیادہ ہوگی۔ اگر تیرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو یا احد پہاڑ کے برابروہ ہو جسے تو اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو وہ تجھ سے قبول نہ کیا جائے گا یہاں تک کہ تو تقدیر پر ایمان لائے اور تو جان لے جو تجھے پہنچا وہ تجھ سے خطا جانے والا نہیں تھا اور جو تجھے نہیں پہنچا وہ تجھے پہنچنے والا نہیں تھااوراگرتواسکے علاوہ کسی اور (عقیدے ) پر مرے تو جہنم میں داخل ہوگا اورتجھ پر کوئی حرج نہیں اگر تو میرے بھائی عبد اللہ بن مسعودؓ کے پاس جائے اور ان سے پوچھے۔ تومیں حضرت عبد اللہؓ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا انہوں نے وہی کہا جو حضرت اُبیَؓنے کہا تھا اور مجھے یہ بھی کہا تجھ پر کوئی حرج نہیں اگر تو حذیفہ ؓ کے پاس جا ئے ۔ میں حضرت حذیفہ ؓکے پاس آیا اور میں نے ان سے پوچھا۔انہوں نے بھی وہی کہاجو ان دونوں نے کہا تھااور کہاحضرت زیدبن ثابتؓ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔ پس میںحضرت زیدؓ بن ثابت کے پاس آیا اور میں نے ان سے پوچھا ؟انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر اللہ اپنے آسمانوں والوں اوراپنی زمین والوں کو عذاب دے تو وہ اُن کو عذاب دے گا مگروہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں ہوگا اور اگر وہ رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے اعمال سے زیادہ ہے۔ اگر تیرے پاس احد کے برابر سونا ہو ،یا فرمایا احدپہاڑکے برابر سونا ہو جسے تم اللہ کے راستے میں خرچ کرو تو وہ اس کوتم سے قبول نہیں کرے گا جب تک تم ساری تقدیر پر ایمان نہ لاؤ اور تم جان لو کہ جوتمہیں پہنچا وہ تم سے خطا جانے والا نہیں تھا اور جوتجھے نہیں پہنچا وہ تمہیں پہنچنے والا نہیں تھا اور اگر تو اس کے علاوہ کسی اور( عقیدے) پر مرے تو جہنم میں داخل ہوگا۔
حضرت علی ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم نبی ﷺکے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپؐ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے آپؐ نے زمین پر نشان لگایا۔ پھر آپؐ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کی جگہ جنت یا جہنم میں نہ لکھ دی گئی ہو ۔ کہا گیا یا رسولؐ اللہ! کیوں نہ ہم اسی پر بھروسہ کرلیں ۔ حضور ﷺنے فرمایاعمل کرو ، (محض) بھروسہ نہ کرو، ہرایک کے لئے وہ میسر ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے ٭۔ پھر آپؐ نے قرآن مجید کی آیات پڑھیں۔ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَی وَاتَّقَی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَی فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْیُسْرَی وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَی وَکَذَّبَ بِالْحُسْنَی فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْعُسْرَی (ترجمہ) پس وہ جس نے (راہ حق میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور بہترین نیکی کی تصدیق کی ، تو ہم اسے ضرور کشادگی عطا کریں گے اور جہاں تک اس کا تعلق ہے جس نے بخل کیا اور بے پروائی کی اور بہترین نیکی کی تکذیب کی تو ہم اسے ضرور تنگی میں ڈال دیں گے۔٭
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے زیادہ بہتر اورزیادہ محبوب ہے اور ہر ایک ( مومن ) میں بھلائی ہے۔ اس کی خواہش کر جو تمہیں نفع دے اور اللہ سے مدد مانگ اورماندہ نہ ہو۔ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو یہ نہ کہہ کہ کاش میں نے ایسا ایساکیا ہوتا بلکہ کہہ اللہ نے مقدر کیا اور جو چاہا کیا۔ کیونکہ ’’لَوْ‘‘ (کاش) شیطان کے کام کے لئے ( دروازہ) کھول دیتاہے۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا حضرت آدم اور حضرت موسٰی میں بحث ہوئی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اُن سے کہا اے آدم ؑ! آپ ؑ ہمارے باپ ہیں۔ آپ ؑ نے ہمیں محروم کردیااور اپنے گناہ کی وجہ سے ہمیںجنت سے نکلوایا۔ آدمؑ نے اُن سے کہا اے موسیٰ ؑ! اللہ نے آپ ؑ کو اپنے کلام کے لئے چن لیا اور آپ کے لئے اپنے ہاتھ سے تورات لکھی۔ کیا آپ مجھے اس بات کی وجہ سے ملامت کرتے ہیں جو اللہ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے مقدر کردی تھی۔ پس آدم ؑ موسیٰ ؑ پر غالب آگئے ۔ آدم ؑ موسیٰ ؑ پر غالب آگئے آدم ؑ موسیٰ ؑ پر غالب آگئے ۔تین دفعہ ۔