بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت علیؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ چار باتوںپر ایمان نہ لائے یہ کہ اللہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیںاور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور موت کے بعدجی اُٹھنے اور تقدیر پر ۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ
ام المومنین حضرت عائشہؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کوانصار کے ایک بچہ کے جنازے کے لئے بلایا گیا۔میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! قابل رشک ہے ! جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے۔ اس نے کوئی برا عمل نہیں کیا اور نہ اس عمل کو پہنچا۔آپؐ نے فرمایا اے عائشہ!یا کچھ اور ؟ یقینا اللہ نے جنت کے اہل پیدا کئے ہیں ۔اس نے ان کواس کے لئے پیدا کیا اور وہ ( اہل) اپنے باپ دادا کی پشتوں میں تھے اور جہنم کے لئے اہل پیدا کئے ہیں اور ان کو اس کے لئے پیدا کیا جب کہ وہ اپنے باپ دادا کی پشتوں میں تھے۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کے پاس قریش کے مشرکین آئے ، وہ آپ ؐسے تقدیر کے بارہ میں بحث کر تے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلَی وُجُوْہِھِمْ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ اِنَّا کُلَّ شَي ْئٍ خَلَقْنَاہُ بِقَدَرٍ ٭ (ترجمہ) جس دن وہ آگ میں اپنے چہروں کے بَل گھسیٹے جائیں گے دوزخ کامزاچکھو ۔یقینًا ہم نے ہر چیز کوایک اندازے کے مطابق پیدا کیا۔
عبداللہ بن ابی ملیکۃ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے تقدیر کے بارہ میں کچھ ذکر کیاتو حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سناآپؐ فرماتے تھے جس نے تقدیر کے بارے میں کچھ کہاقیامت کے دن سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا اور جو اس بارے میں بات نہیں کرے گا اس سے پوچھا نہیں جائے گا ۔
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کے پاس باہرتشریف لائے اور وہ تقدیر کے بارے میں بحث کررہے تھے توآپؐ کا چہرہ مبارک جلال کی وجہ سے انار جو توڑا گیا ہو کے دانوں کی طرح سُرخ ہوگیا اور حضور ؐ نے فرمایا کیا تم اس کا حکم دئیے گئے ہو۔ یاتم اس کے لئے پیدا کئے گئے ہو ۔ قرآن کے ایک حصے کو دوسرے سے ٹکرا رہے ہو ۔ اسی وجہ سے تم سے پہلے امتیں ہلاک ہوگئی تھیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عمروؓ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی جن مجالس میں حاضر نہ ہوا تھا ان سب سے بڑھ کر میں نے تمنا کی اس مجلس میں حاضر نہ ہوتا۔
حضرت ابن عمرؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہ تو عدویٰ٭ اور نہ ہی بدشگونی ہے اور نہ ھامہ ہے٭ توآپؐ کے سامنے ایک بدّو کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ کا کیا خیال ہے کہ ایک اونٹ کو خارش کی بیماری ہوتی ہے تو تمام اونٹوں کو لگا دیتاہے۔ آپؐ نے فرمایا یہی تقدیر ہے۔ تو پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟
شعبی کہتے ہیں کہ جب حضرت عدی بن حاتم ؓ کوفہ آئے تو اہل کوفہ کے کچھ عالم لوگوں کے ساتھ ہم ان کے پاس گئے اور کہا کہ آپؓ نے رسول اللہ ﷺ سے جو سنا ہے وہ ہمیں بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نبی ﷺکے پاس آیا اور حضور ؐ نے فرمایا اَے عدی بن حاتم ! اسلام قبول کر لو سلامت رہو گے۔ میں نے کہا اسلام کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور تم تمام تقدیروں پر ایمان لاؤ۔ان کی اچھی ، بری ، شیریں اور تلخ پر ۔
حضرت جابر ؓ نے بیان کیا کہ انصارؓ میں سے ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگایا رسول ؐاللہ! میری ایک باندی ہے اور میں اس سے عزل کرتا ہوں ۔ آپؐ نے فرمایا اس کو وہی ہوگا جو اس کے لئے مقدر ہے ۔وہ کچھ عرصہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ باندی حاملہ ہوگئی ہے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا جس نفس کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہی ہوکر رہتا ہے ۔