بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 171 hadith
یزید بن اصم کہتے ہیں کہ میں نے معاویہؓ بن ابی سفیان سے سنا انہوں نے نبیﷺ کی ایک حدیث بیان کی اور میں نے ان سے اس کے علاوہ ان کو اپنے منبر پر نبیﷺ کی کوئی حدیث روایت کرتے نہیں سنا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس کے بارہ میں بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے اور مسلمانوں کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے لئے لڑتا رہے گا اور وہ ان لوگوں پر جو ان کا مقابلہ کریں گے اور قیامت تک غالب رہیں گے۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا مغرب ٭کے رہنے والے ہمیشہ ہی حق پر غالب رہیں گے یہانتک کہ قیامت آجائے گی۔
عبد الرحمان بن شماسہ مہری کہتے ہیں کہ میں مسلمہ بن مخلد کے پاس تھا اور ان کے پاس حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ (بھی) تھے حضرت عبد اللہؓ نے کہا قیامت نہیں آئے گی مگر شریر مخلوق پر۔ وہ جاہلیت والوں سے بھی زیادہ بُرے ہوں گے۔ وہ اللہ سے جو بھی مانگیں گے وہ اسے ان پر لوٹا دے گا۔ وہ اسی حال میں تھے کہ حضرت عقبہؓ بن عامر آئے۔ مسلمہ نے ان سے کہا اے عقبہؓ ! سنو جو حضرت عبد اللہؓ کہہ رہے ہیں؟ حضرت عقبہؓ نے کہا وہ زیادہ جانتے ہیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ اللہ عزّوجل کے کام کے لئے اپنے دشمنوں پر غالب ہوتے ہوئے لڑتا رہے گااورجو ان کی مخالفت کرے گاوہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گایہانتک کہ ان پر قیامت آجائے گی اور وہ اسی حال میں ہوں گے۔ اس پر حضرت عبد اللہؓ نے کہا ہاں پھر اللہ تعالیٰ مشک کی خوشبو جیسی ہوا بھیجے گا جو ریشم کی طرح بدن کو لگے گی اور جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہوگا اس کی روح قبض کر لے گی۔ پھر باقی لو گوں میں بدترین لوگ رہ جائیں گے جن پر قیامت آجائے گی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم سر سبز و شاداب علاقہ میں سفر کرو تو اونٹوں کو زمین سے ان کا حصہ دو اور جب تم قحط زدہ علاقہ میں سفر کرو تو جانوروں کے لاغر ہونے سے پہلے پہلے وہاں سے نکل جاؤ۔ اور جب تم رات کو آرام کرو تو گذرگاہ سے بچو کیونکہ وہ جانوروں کے راستے اور رات کے ایذاء رساں کیڑوں کا ٹھکانہ ہے
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا سفر عذاب کا ٹکڑا ہے جو تمہیں نیند، کھانے اور پینے سے روک دیتا ہے توجب تم میں سے کوئی اپنامطلوبہ کام ختم کرلے تو جلدی اپنے اہل کے پاس آجائے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ (سفر سے واپسی پر بغیر اطلاع) رات کے وقت اپنے اہل کے پاس تشریف نہیں لے جاتے تھے۔ آپؐ ان کے پاس صبح یا شام کو تشریف لاتے۔ ایک اور روایت میں (لَایَطْرُقُ کی بجائے) لَایَدْخُلُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم ایک غزوہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ہم مدینہ آئے ہم (گھروں میں ) جانے لگے تو آپؐ نے فرمایا کچھ ٹھہر جاؤ تاکہ ہم رات کو گھر جائیں یعنی عشاء کے وقت۔ تاکہ پراگندہ بالوں والی کنگھی کرلے اور جس کا خاوند غیرموجود تھا وہ صفائی کرلے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی رات کو(واپس) آئے تو اپنے گھر والوں کے پاس بغیر اطلاع نہ جائے تاکہ جس کا خاوند غیر موجودہے وہ صفائی کرلے اور پراگندہ بالوں والی کنگھی کرلے۔
حضرت جابرؓ بن عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے منع فر مایا ہے کہ جب کوئی شخص ایک لمبا عرصہ (گھر سے) باہر رہے تو وہ (بے اطلاع) رات کو اپنے گھر والوں کے پاس آئے۔