بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 33 hadith
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ایک شخص کو ملے جو اپنی کچھ بکریوں کے ساتھ تھا۔ اس نے کہا السلام علیکم ان لوگوں نے اسے پکڑلیا اور اسے قتل کردیا اور وہ بکریاں لے لیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی وَلَا تَقُوُْلُوْالِمَنْ اَلْقٰی اِلَیْکُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤمِنًا ترجمہ: اور جو تم پر سلام بھیجے اس سے یہ نہ کہا کرو کہ تو مومن نہیں ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے اس کو اَلسَّلَام پڑھا ہے۔
ابو اسحاق بیان کرتے ہیں میں نے حضرت براءؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ انصارؓ جب حج کرتے تو واپس آکر گھروں میں ان کے عقب سے داخل ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انصارؓ میں سے ایک شخص آیا اور دروازہ کے رستہ (گھر میں ) داخل ہو گیا۔ اسے اس بارہ میں کہا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی وَلَیْسَ البِرُّ بِاَنْ تَاْتُوْا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُھُوْرِھَا ترجمہ: اور نیکی یہ نہیں کہ تم گھروں میں ان کے پچھواڑوں سے داخل ہو۔
حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے اسلام لانے کے درمیان اور اس بات کے درمیان کہ اللہ نے ہمیں اس آیت کے ذریعہ عتاب کیا چار سال کا عرصہ ہے۔ اَلَمْ یَاْنِِِِِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِاللَّہِ ترجمہ: کیا ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے وقت نہیں آیا کہ اللہ کے ذکر اور اس حق (کے رعب) سے جو اترا ہے ان کے دل پھٹ کر گر جائیں۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ عورت عریاں بیت اللہ کا طواف کیا کرتی تھی اور کہتی تھی کہ مجھے طواف کے لئے کپڑا کون عاریۃًدے گا جس سے وہ اپنا ستر ڈھانپے اور کہتی تھی آج اس کا کچھ حصہ یا سب کا سب ظاہر ہوجائے گا تو جو اس سے ظاہر ہوجائے گا اس کو میں جائز نہیں رکھوں گی تب یہ آیت نازل ہوئی خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عَنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ترجمہ: ہر مسجد میں اپنی زینت ساتھ لے جا یا کرو۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول اپنی باندی سے کہا کرتا تھا کہ جا اور ہمارے لئے کچھ لے کر آ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وَلَا تُکْرِھُوْا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَآئِ ترجمہ: اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ شادی کرنا چاہیں تو (روک کر مخفی) بدکاری پر مجبور نہ کرو تا کہ تم دنیوی زندگی کا فائدہ اُٹھاؤ۔ اگر کوئی ان کو بے بس کردے گا تو ان کے بے بس کئے جانے کے بعد یقینا اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول کی ایک باندی تھی جس کا نام مُسَیکہ تھا اور دوسری کانام امیمہ تھا وہ ان دونوں کو زنا پر مجبور کیا کرتا تھا ان دونوں نے نبیﷺ کے پاس اس بات کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وَلَا تُکْرِھُوا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَآئِ ترجمہ: اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ شادی کرنا چاہیں تو (روک کر مخفی) بدکاری پر مجبور نہ کرو تا کہ تم دنیوی زندگی کا فائدہ اُٹھاؤ اگر کوئی ان کو بے بس کردے گا تو ان کے بے بس کئے جانے کے بعد یقینا اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔
حضرت عبد اللہؓ خدائے عز ّوجلّ کے ارشاد اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَۃَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ ترجمہ: یہی لوگ جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کی طرف جانے کا وسیلہ ڈھونڈیں گے کہ کون ان میں سے وسیلہ بننے کا زیادہ حقدار ہے۔ 2 کے بارہ میں بیان کرتے ہیں کہ جنوں کا ایک گروہ اسلام لے آیا۔ وہ ایسے تھے جن کی عبادت کی جاتی تھی۔ وہ جو عبادت کیا کرتے تھے اپنی عبادت پر قائم رہ گئے اور جنوں میں سے ایک گروہ اسلام لے آیا تھا۔
حضرت عبد اللہؓ اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَۃَ ترجمہ: یہی لوگ جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کی طرف جانے کا وسیلہ ڈھونڈیں گے۔ ٭کے بارہ میں بیان کرتے ہیں کہ انسانوں میں سے ایک گروہ جنوّں میں سے ایک گروہ کی عبادت کیا کرتا تھا پس جنوّں میں سے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کرلیا تو انسان ان کی عبادت پر قائم رہے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَۃَ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓؓ اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَۃَترجمہ: یہی لوگ جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کی طرف جانے کا وسیلہ ڈھونڈیں گے۔ ٭ کے بارہ میں بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت عرب کے ایک گروہ کے بارہ میں نازل ہوئی جو جنوّں کے ایک گروہ کی عبادت کیا کرتا تھا اور جنّوں نے اسلام قبول کرلیا اور انسان ان کی عبادت کرتے رہے۔ وہ شعور نہیں رکھتے تھے چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَۃَ۔
حضرت سعیدبن جبیرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے کہاسورۃ التوبہ؟ انہوں نے کہاالتوبہ بلکہ یہ تو ذلیل کرنے والی ہے جب تک یہ الفاظ اترتے رہے ’’مِنھُمْ‘‘ ’’مِنھُمْ‘‘ (ان میں سے (ایسے لوگ ہیں )یہانتک کہ انہیں یقین ہوگیا کہ- ہم میں سے کوئی نہیں بچ سکاجس کا اس میں ذکر نہ ہو - وہ کہتے ہیں میں نے کہا سورۃ انفال؟ انہوں نے کہا یہ تو سورۃ بدر ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا اور الحشر؟ انہوں نے کہا کہ یہ بنو نضیر کے بارہ میں نازل ہوئی۔