بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 74 hadith
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایادنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔
حضرت جا بر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ (مدینہ کی) ایک نواحی بستی کے بازار کے اندر جارہے تھے اور لوگ آپؐ کے پہلو میں تھے۔ آپؐ بھیڑ کے ایک کان کٹے مردہ بچے کے پاس سے گذرے۔ آپؐ نے اسے اس کے کان سے پکڑا اور فرمایا کہ تم میں سے کون اسے ایک درہم کے بدلہ لینا پسند کرے گا؟ انہوں نے عرض کیا ہم اسے کسی چیز کے بدلہ لینا پسندنہیں کریں گے اور ہم اسے کیا کریں گے؟آپؐ نے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں یہ مل جائے؟انہوں نے کہا اللہ کی قسم اگر یہ زندہ ہوتا تب بھی اس میں نقص تھا کہ اس کے کان کٹے ہوئے ہیں تو کیسے جب یہ مرا ہوا ہو۔ ۔ ۔ ؟آپؐ نے فرمایا اللہ کی قسم! دنیا اللہ کے سامنے اس سے بھی زیادہ بے حیثیت ہے جتنا یہ تمہارے نزدیک ہے۔ایک اور روایت میں (لَوْکَانَ حَیًّا فِیْہِ لِاَنَّہُ اَسَکُّ کی بجائے) فَلَوْکَانَ حَیًّا کَانَ ھَذَاالسِّکَکُ بِہِ عَیْبًاکے الفاظ ہیں۔
مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں میں نبیﷺ کے پاس آیا تو آپؐ أَلْہَاکُمُ التَّکَاثُرُ کی تلاوت فرمارہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا ابن آدم کہتا ہے میرا مال میرا مال۔ آپؐ نے فرمایا اے ابن آدم! تیرا مال تو وہی ہے جو تونے کھا یا اور ختم کردیا، پہن کر پرانا کردیا یا صدقہ کیا اور آگے بھیج دیا۔ ایک روایت میں (اَتَیْتُ النَّبِیَّﷺ کی بجائے) اِنْتَھَیْتُ اِلَی النَّبِیِّﷺ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا بندہ کہتا ہے میرا مال میرا مال حالانکہ اس کے لئے اس کے مال کی تو تین صورتیں ہیں وہ جو اس نے کھایا اور ختم کر دیاپہنااور پرانا کردیا یا اس نے دیا اور (آخرت کے لئے)ذخیرہ کرلیااور جو اس کے علاوہ ہے وہ جانے والا ہے اور وہ اسے لوگوں کے لئے چھوڑ نے والا ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا تین چیزیں مرنے والے کے ساتھ جاتی ہیں دو واپس لوٹ آتی ہیں اور ایک رہ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ اس کے اہل اس کا مال اور اس کا عمل جاتے ہیں اس کا اہل اور مال تو واپس آجاتے ہیں اور عمل باقی رہ جاتاہے۔
حضرت عمرو بن عوفؓ جو بنو عامر بن لُؤَیِّ کے حلیف تھے اور بدر میں رسول اللہﷺ کے ساتھ موجود تھے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ کو جزیہ لینے کے لئے بحرین بھیجا۔ رسول اللہﷺ نے بحرین والوں سے صلح کا معاہدہ کیا تھا اور حضرت علاء حضرمی ؓ کو ان پر امیر مقرر فرمایا تھا۔ حضرت ابو عبیدہؓ بحرین سے مال لے کر آئے۔ انصارؓ نے حضرت ابو عبیدہؓ کے آنے کا سنا تونماز فجر رسول اللہﷺ کے ساتھ(ادا کرنے کے لئے) پہنچ گئے۔ جب آپﷺ نے نماز ادا کی توآپؐ مُڑے۔ وہ ان کے سامنے ہوئے تو رسول اللہﷺ انہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا میرا خیال ہے تم نے سن لیا ہے کہ بحرین سے ابو عبیدہؓ کچھ لائے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا خوش ہوجاؤاور اس بات کی امید رکھو جو تم کوخوش کردے گی۔ اللہ کی قسم مجھے تمہارے بارہ میں غربت کا ڈر نہیں ہے ہاں مگر تمہارے بارہ میں یہ ڈر ہے کہ تم پر دنیا کشادہ کردی جائے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کردی گئی تھی اور پھر تم اس میں ایک دوسرے سے مقا بلہ کرنے لگوجیسے انہوں نے کیا تھا اور وہ تمہیں ہلاک کردے جیسے اس نے ان کو ہلاک کیا تھا۔ ایک روایت میں (وَتُُُُُُھْلِکَکُمْ کَمَا اَھْلَکَتْھُمْ کی بجائے) وَتُلْھِیَکُمْکَمَا اَلْھَتْھُمْ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب فارس اور روم تمہارے ہاتھوں فتح ہوجائیں گے تم کیسے لوگ ہوجاؤ گے؟حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ نے عرض کیا کہ ہم وہی کہیں گے جس کا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا یاکچھ اور، تم باہم مقابلہ کرو گے اور باہم حسد کرو گے پھر تم باہم قطع تعلق کرو گے اور تم باہم بغض رکھو گے یا اس جیسے اور (فرمایا) پھر تم مسکین مہاجروں کے پاس جاؤ گے پھر تم ان میں سے بعض کو بعض کی گردنوں پر سوار کردو گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اس کو دیکھے جسے اس پر مال اور شکل وصورت میں فضیلت عطا کی گئی تو چاہئے کہ وہ اسے(بھی) دیکھے جو اس سے نیچے ہے جس پر اسے فضلیت دی گئی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اس کی طرف دیکھو جو تم سے نیچے ہے اور اس کی طرف مت دیکھو جو تم سے اوپر ہے یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تم اللہ کی نعمت کی تحقیر نہ کرو۔ایک روایت میں (نِعْمَۃَ اللّٰہِکے بعد) عَلَیکُمْ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے ایک مبروص تھا ایک گنجا اور ایک نابینا۔ اللہ نے ارادہ کیا کہ ان کی آزمائش کرے۔ اس نے ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا وہ مبروص کے پاس آیا اور پوچھا کہ تجھے کیا چیز سب سے زیادہ پسند ہے؟اس نے کہا کہ خوبصورت رنگ، خوبصورت جلد اور یہ مجھ سے دور ہوجائے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے کراہت کرتے ہیں۔ فرمایا اس(فرشتہ) نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس سے وہ بیماری جاتی رہی اور اسے خوبصورت رنگ اور خوبصورت جلد عطا کی گئی۔ اس (فرشتہ)نے کہا کہ کونسا مال تجھے پسند ہے؟ اس نے کہا اونٹ یاکہا گائے۔ راوی اسحاق کو اس بارہ میں شک ہے کہ مبروص یا گنجے میں سے کسی ایک نے اونٹ کہا تھا اور دوسرے نے گائے۔ فرمایا اسے دس ماہ کی گابھن اونٹنی دی گئی اور کہا کہ اللہ تجھے اس میں برکت دے۔ فرمایا پھر وہ گنجے کے پاس آیا اور کہا تجھے سب سے زیادہ کیا اچھا لگتا ہے؟ اس نے کہا خوبصورت بال اور یہ مجھ سے دور ہوجائے جس کی وجہ سے لوگوں کو مجھ سے کراہت آتی ہے۔ فرمایا اس (فرشتہ) نے اس پر ہاتھ پھیرا اور اس سے وہ (بیماری) جاتی رہی اور اسے خوبصورت بال عطا کئے گئے۔ اس (فرشتہ)نے کہا کہ کونسا مال تجھے پسند ہے؟ اس نے کہا گائیاں چنانچہ اسے حاملہ گائے دی گئی اور کہا اللہ تجھے اس میں برکت دے۔ فرمایا وہ نابیناکے پاس آیااور کہا کہ تجھے سب سے زیادہ کیا پسند ہے؟ اس نے کہا یہ کہ اللہ مجھے میری نظر لوٹادے جس سے میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ فرمایا پھر اس نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اللہ نے اسے اس کی نظر لوٹادی۔ اس نے پوچھا کہ تجھے کون سا مال زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا بکریاں پس اسے زیادہ بچے دینے والی بکری عطا کی گئی سوان دونوں نے بھی بچے دئیے اور اس نے بھی بچے دئیے۔ فرمایا کہ اس کے لئے اونٹوں کی وادی ہوگئی اور اس کے لئے گائیوں کی وادی اور اس کے لئے بکریوں کی وادی۔ فرمایا کہ پھر وہ (فرشتہ) مبروص کے پاس اس کی (پرانی) صورت اور ہیئت میں گیا اور کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں اور سفر میں میرے سب اسباب جاتے رہے۔ پس آج اللہ اور پھر تمہارے بغیر میرا پہنچنا ممکن نہیں۔ میں تم سے اس کے نام پر سوال کرتا ہوں جس نے تمہیں خوبصورت رنگ اور خوبصورت جلد اور مال عطا کیا ہے ایک اونٹ مانگتا ہوں جو میرے سفر میں میرا کام بنادے اس نے کہاذمہ داریاں بہت ہیں۔ اس پر اس نے کہا میرا خیال ہے کہ میں تمہیں پہچانتا ہوں کیا تم مبروص نہیں تھے جس سے لوگ کراہت کرتے تھے؟(کیا تم) وہ فقیر (نہیں تھے) جسے اللہ نے عطا کیا ہے۔ اس نے کہا کہ میں تو اس مال کا نسل در نسل وارث ہوں۔ اس نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تواللہ تمہیں تمہاری پہلی حالت کی طرف لوٹادے گا۔ فرمایا وہ (فرشتہ) گنجے کے پاس اس کی (پرانی) صورت میں آیا اور اسے بھی وہی کہا جو پہلے کو کہا تھا اور اس نے وہی جواب دیا جو پہلے نے جواب دیا تھا اس پر اس نے کہا اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تجھے ویسا ہی کردے جیسے تو تھا فرمایا پھر وہ اندھے کے اس کی شکل وصورت میں آیا اور کہا کہ میں ایک مسکین شخص مسافر ہوں میرے سفر کے سب ذرائع کٹ چکے ہیں۔ آج اللہ اور پھر تمہارے بغیر میرا(منزل تک) پہنچنا ناممکن ہے۔ میں تم سے اس کے واسطہ سے جس نے تمہاری نظرتمہیں لوٹائی ہے ایک بکری مانگتا ہوں جو میرے سفر میں مجھے کفایت کر جائے۔ اس پر اس نے کہا کہ میں اندھا تھا اللہ نے مجھے میری نظر لوٹائی۔ پس جو تو چاہے لے لے اور جو تو چاہے چھوڑ دے اللہ کی قسم آج کے دن میں تجھ پر اس بارہ میں جو تونے اللہ کی خاطر لیا میں تمہیں کوئی روک ٹوک نہیں کروں گا۔ اس پر اس نے کہا کہ اپنا ما ل اپنے پاس ہی رکھو۔ (تم تینوں کی) آزمائش کی گئی تھی اللہ تجھ سے راضی ہوگیا اور تیرے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوا۔