بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 33 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو کہا گیا کہ اس دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوجاؤ اور کہو ہم بوجھ ہلکا کرنے کی التجا کرتے ہیں تمہاری خطائیں بخش دی جائیں گی مگر انہوں نے بات بدل دی اور وہ دروازہ میں آہستہ آہستہ اپنی پیٹھ کے بل گھسٹ کر چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے سٹہ میں دانہ!
حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ اللہ عزّ وجل نے رسول اللہﷺ پرآپؐ کی وفات سے پہلے پے در پے وحی نازل فرمائی یہانتک کہ آپؐ کی وفات ہو گئی اور سب سے زیادہ وحی اس روز ہوئی جس روز رسول اللہﷺ کی وفات ہوئی۔
حضرت طارقؓ بن شہاب بیان کرتے ہیں کہ یہودنے حضرت عمرؓ سے کہا آپ لوگ ایک آیت پڑھتے ہیں اگر وہ ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا میں خوب جانتا ہوں کہ وہ آیت کہاں اور کس دن اتری؟اور جب وہ اتری اس وقت رسول اللہﷺ کہاں تھے یہ آیت عرفہ میں اتری اور رسول اللہﷺ عرفہ میں وقوف فرما تھے۔ سفیان کہتے ہیں کہ مجھے اس بات میں شبہ ہے کہ وہ جمعہ کا دن تھا یا نہیں۔ اس آیت سے اَلْیَومَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دینَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیکُمْ نِعْمَتیمراد ہے۔
حضرت طارق بن شہابؓ بیان کرتے ہیں کہ یہودنے حضرت عمرؓ سے کہا اگر ہم گروہ یہود پر یہ آیت نازل ہوتی اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا۔ ترجمہ: آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لئے دینِ اسلام کو پسند کر لیا۔ 1اورہم وہ دن جانتے جس میں وہ نازل ہوئی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔ وہ(حضرت طارق بن شہابؓ )کہتے ہیں حضرت عمرؓ نے فرمایا مجھے اس دن کا علم ہے جب یہ آیت نازل ہوئی اور اس گھڑی کا بھی اور یہ بھی کہ رسول اللہﷺ کہاں تھے جب یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ مزدلفہ کی رات نازل ہوئی اور ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ عرفات میں تھے۔
حضرت طارق بن شہابؓ بیان کرتے ہیں کہ یہود میں سے ایک شخص حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے امیر المؤمنین! آپ لوگوں کی کتاب میں ایک آیت ہے جسے آپ لوگ پڑھتے ہیں اگر ہم گروہ یہود پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنالیتے۔ آپ نے پوچھا کونسی آیت! اس نے کہا اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیتُ لَکُمُ الاِسْلَامَ دِیْنًاترجمہ: آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لئے دینِ اسلام کو پسند کر لیا۔ ٭حضرت عمرؓ نے فرمایا مجھے وہ دن بھی خوب معلوم ہے جس دن یہ آیت نازل ہوئی اور وہ جگہ بھی جہاں یہ آیت نازل ہوئی۔ رسول اللہﷺ پر یہ آیت عرفات میں جمعہ کے دن اتری۔
ابن شہاب روایت کرتے ہیں کہ مجھے عروہ بن زبیرؓ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے اللہ کے اس ارشاد کے بارہ میں پوچھا وَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْامَا طَابَ لَکُمْ ِمنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعْ ترجمہ: اور اگر تم ڈرو کہ تم یتامی ٰکے بارہ میں انصاف نہیں کر سکو گے تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو دو دو اور تین تین اور چار چار۔ ٭ آپؓ نے فرمایا میری بہن کے بیٹے ! یہ وہ یتیم لڑکی ہے جو اپنے و لی کی نگرانی میں ہو اور اس کے مال میں شریک ہو اور اس (ولی)کو اس کا مال اور اس کی خوبصورتی پسند آئے اس لئے ولی چاہے کہ اس سے شادی کر لے بغیر اس کے کہ اس کے مہر میں انصاف سے کام لے اور اس کو اتنا ہی دے جتنا دوسرا دے گا، ان کو (اس آیت میں ) منع کردیا گیا کہ ان سے نکاح کریں سوائے اس کے کہ وہ انصاف سے کام لیں اور مہر میں (جو ایسی لڑکیوں کے لئے) بہترین طریق ہے وہاں تک پہنچیں اور ان کو حکم دیا گیا کہ ایسی لڑکیوں کے سوائے اور عورتوں سے جو ان کو پسند آئیں نکاح کریں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں پھر لوگوں نے رسول اللہﷺ سے ان کے بارہ میں اس آیت کے بعد فتویٰ پوچھا تو اللہ عزّ وجل نے یہ آیت نازل فرمائی یَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَآئِ قُلِ اللَّہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْھِنَّ وَمَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتَابِ فِی یَتَامَی النِّسَآئِ اللَّا تِیْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ۔ ترجمہ: اور وہ تجھ سے عورتوں کے بارہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ اللہ تمہیں ان کے متعلق فتو یٰ دیتا ہے اور (متوجہ کرتا ہے اس طرف)جو تم پر کتاب میں ان یتیم عورتوں کے متعلق پڑھا جا چکا ہے جن کو تم وہ نہیں دیتے جو ان کے حق میں فرض کیا گیا حالانکہ خواہش رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کرو۔ حضرت عا ئشہؓ نے فرمایا یہ جو اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے اِنَّہُ یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتَابِ۔ ۔ ۔ اس سے مراد وہ پہلی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ ِمنَ النِّسَآئِ حضرت عائشہؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا دوسری آیت وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ وہ بے رغبتی جو اس یتیم لڑکی سے ہو جو اپنے ولی کی نگرانی میں اور مال اور خوبصورتی میں کم ہومیں ایسے لوگوں کو منع کیا گیا کہ یتیم عورتوں کے مال اور خوبصورتی میں رغبت کی وجہ سے نکاح کریں، وہ انصاف کے ساتھ کام کریں اگر وہ ان سے بے رغبتی رکھتے ہوں۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ان کی اس بے رغبتی کی وجہ یہ ہو کہ وہ مال اور خوبصورتی میں کم ہیں۔
حضرت عائشہؓ نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد وَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰیکے بارہ میں فرمایا یہ اس شخص کے بارہ میں اتاری گئی جس کے پاس یتیم لڑکی ہو اور وہ اس کا ولی اور وارث ہو اور وہ لڑکی مالدار ہو اور اس کا کوئی نہ ہو جو اس کی طرف سے وکالت کرے۔ تو اسے نہیں چاہئے کہ اس کے مال کی خاطر اس سے نکاح کرے اور پھراس کے ذریعہ اسے تکلیف دے اور اس سے بدسلوکی کرے۔ پس(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا وَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لَّا تُقْسِطُوْا فِی الیَتَامَی فَانْکِحُوْامَا طَابَ لَکُمْ ِمنَ النِّسآئِ مَثْنَی وَثُلٰثَ وَ رُبٰعَ ترجمہ: اور اگر تم ڈرو کہ تم یتامیٰ کے بارہ میں انصاف نہیں کر سکو گے تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو دو دو اور تین تین اور چار چار۔ ٭اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(وہ کرو) جو میں نے تمہارے لئے جائز کیا ہے اور اس کو چھوڑ دو جس کو تم نقصان پہنچاؤ گے۔
حضرت عائشہؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد وَمَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فیِ الْکِتَابِ فِی یَتَا مَی النِّسَآئِ الّٰتِی لَا تُؤْتُوْ نَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُونَ اَنْ تَنکِحُوھُنَّ ٭کے بارہ میں فرماتی ہیں کہ یہ آیت یتیم لڑکی کے بارہ میں نازل ہوئی جو (لڑکی)کسی شخص کے پاس ہوتی۔ اور وہ اس کے مال میں شریک ہے۔ وہ اس سے(خود)شادی کرنا پسندنہیں کرتا اور یہ بھی ناپسند کرتا ہے کہ اپنے علاوہ کسی اور سے شادی کردے جو اس کے مال میں اس کا شریک ہو جائے گا۔ پس وہ اسے روکے رکھتا ہے کہ نہ اس سے شادی کرتا ہے نہ اس کی کسی اور سے شادی کرواتا ہے۔
حضرت عائشہؓ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد یَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَآئِ یُفْتِیْکُمْ فِیْھِنَّ۔ ۔ ۔ الآیۃ ٭کے بارہ میں فرماتی ہیں کہ یہ وہ یتیم لڑکی ہے جو کسی شخص کے پاس ہو اور ہوسکتا ہے کہ اس کے ساتھ مال میں بھی شریک ہو حتّٰی کہ کھجور کے درخت (کی ملکیت) میں، اس لئے وہ اس سے نکاح چاہتا ہو اور نا پسند کرتا ہو کہ اس کا نکاح کسی دوسرے سے کرائے مبادا وہ اس کے مال میں شریک ہوجائے اس لئے وہ اسے روکے رکھتا ہے۔