حضرت جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے خشک کھجور کے اس ڈھیر کا سودا جس کے بارہ میں معیّن طور پر معلوم نہ ہو کہ کس قدر ہے معیّن مقدار کی کھجور کے ساتھ کرنے سے منع فرمایا۔
ایک اور روایت میں (سَمِعْتُ کی بجائے) سَمِعَ کے لفظ ہیں اور اسی طرح اس روایت کے آخر میں مِنَ التَّمْرِکا ذکر نہیں۔
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . نَحْوَ حَدِيثِ
مَالِكٍ
عَنْ
نَافِعٍ
.
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایادو خریدو فروخت کرنے والوں میں سے ہرایک کو اختیار ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں سوائے بیع خیار کے(جس میں بعد میں بھی اختیارقائم رہتا ہے۔)
حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاجب دو آدمی ایک دوسرے سے خریدو فروخت کریں تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو اختیار ہے جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں اور وہ اکٹھے رہیں یا ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے اور اگر ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے او ر وہ دونوں سودا طے کر لیں تو وہ سودا ہو گیااور اگر وہ اس وقت الگ ہوں جب وہ سودا طے کر چکے ہوں اور (بعد میں )ان میں سے کوئی بیع کو ترک نہ کرے تو بیع واجب ہو گئی۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایاجب دو خریدو فروخت کرنے والے کوئی سودا کریں تو ان میں سے ہر کوئی اپنے سودے کا اختیار رکھتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں یا ان کی خریدو فروخت میں اختیار کا حق رکھا گیا ہو اور جب ان کے سودا میں اختیار ہوتو وہ (سودا) واجب ہو گیا۔
ایک اور روایت میں ہے نافع کہتے ہیں کہ جب وہ (ابن عمرؓ ) کسی شخص سے خریدو فروخت کرتے اور چاہتے کہ وہ شخص اس (سودا) کو منسوخ نہ کرے تو آپؓ کھڑے ہوجاتے اور تھوڑا سا چلتے پھر اس کے پاس واپس آجاتے۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہر دوخریدو فروخت کرنے والوں میں کوئی سودا طے نہیں ہوتا یہانتک کہ وہ دونوں جدا ہو جائیں سوائے بیع خیار کے۔
حضرت حکیم بن حزامؓ سے مروی ہے نبیﷺ نے فرمایا دو خریدو فروخت کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہوجائیں۔ اگر انہوں نے سچ بولا اور خوب اچھی طرح بیان کیا تو ان دونوں کے لئے ان کے سودا میں برکت دی جائے گی اور اگر ان دونوں نے جھوٹ بولا ہو اور کچھ چھپایا تو ان دونوں کے سودے سے برکت مٹا دی جا ئے گی۔ مسلم بن حجاج کہتے ہیں کہ حضرت حکیم بن حزامؓ خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے تھے اور ایک سو بیس سال زندہ رہے تھے۔
عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کوکہتے ہوئے سنا کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ کے پاس ذکر کیا کہ اسے خریدو فروخت میں دھوکہ دیا جاتا ہے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم جس سے خریدو فروخت کرو تو کہو لَا خِلَابَۃَ (کوئی دھوکہ نہ ہو)۔ پس جب وہ سودا کرتے تو کہتے لَا خِیَابَۃَ ٭۔
ایک اور روایت میں فَکَانَ اِذَا بَایَعَ یَقُوْلُ لَا خِیَابَۃَ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کی خریدو فروخت سے منع فرمایا۔ آپؐ نے فروخت کرنے والے اور خریدار (دونوں کو) منع فرمایا۔
نے کھجورکے درخت(کا پھل) فروخت کرنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ پکنے لگے اور سٹے (کی بیع) سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ سفید ہو جائے اور یہاں تک کہ آفت سے امن میں آ جائے۔ آپؐ نے بیچنے والے اور خریدار (دونوں کو) منع فرمایا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاپھل کو فروخت نہ کرو یہانتک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے اور اس پر آفت(کا ڈر)جاتارہے۔ انہوں (حضرت ابن عمرؓ ) نے کہااس کی صلاحیت ظاہر ہوجائے (یعنی) اس کی سرخی اور اس کی زردی۔