بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 116 hadith
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ حضرت زید بن ثابتؓ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہﷺ نے عریّہ (عاریتاً دئیے گئے کھجور کے درختوں ) کے بیع کرنے کی اندازًا خشک کھجور کے معاوضہ پر رخصت فرمائی۔ راوی یحییٰ کہتے ہیں عریہ یہ ہے کہ ایک شخص تازہ کھجور کا پھل خشک کھجور کے عوض اپنے گھر والوں کے کھانے کے لئے خریدے۔
حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ مزابنہ یہ ہے کہ پھل کا سودا خشک کھجور کے عوض ماپ کر ہو اور تازہ انگورکشمش اور منقّہ کے عوض ماپ کر ہو۔
حضرت زید بن ثابتؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے عرایا کے بارہ میں رخصت عطا فرمائی کہ(درخت پر لگے ہوئے)پھل کا اندازہ کرکے اس کو وزن شدہ پھل کے عوض فروخت کیا جائے۔ ایک اور روایت میں (اَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِھَا کی بجائے) أَنْ تُؤْخَذَ بِخَرْصِھَا کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے بیع عرایا کے بارہ میں (کھجور کے) اندازہ کے عوض فروخت کی رخصت فرمائی۔
بشیر بن یسار اپنے علاقہ کے بعض اصحاب رسول اللہﷺ جن میں حضرت سہل بن ابی حثمہؓ بھی شامل ہیں سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے تازہ پھل خشک کھجور کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا۔ انہوں نے کہا یہ سود ہے۔ یہی مزابنہ ہے مگر آپؐ نے عاریتًا دئیے گئے ایک یا دو کھجور کے درختوں کے بارہ میں رخصت فرمائی کہ گھر والے اس(درخت کو پھل کا) اندازہ کر کے خشک کھجور کے بدلے لے لیں اور (خود) تازہ پھل کھا ئیں۔
بشیر بن یسار رسول اللہﷺ کے اصحاب سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے بیع عریہ میں اندازہ سے خشک کھجور لینے کی رخصت عطا فرمائی۔ ایک اور روایت میں الرِّبَا کی جگہ اَلزَّبْنَ کے الفاظ ہیں (یعنی مزابنہ)۔
بنی حارثہ کے آزاد کردہ غلام بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ حضرت رافع بن خدیج ؓ اور حضرت سہلؓ بن ابی حثمہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہﷺ نے (تازہ) پھل کا تبادلہ خشک کھجور کے عوض کرنے سے منع فرمایا سوائے عرایا والوں کے۔ آپؐ نے ان کو اس کی اجازت فرمائی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے عرایا کی بیع اندازے کے مطابق کرنے کی رخصت فرمائی جب کہ وہ پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق ہو۔ (یحییٰ نے مالک سے کہا) داؤد کو شک ہے پانچ یا پانچ وسق سے کم۔ انہوں نے کہا ہاں۔
حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے مزابنہ یعنی کھجور کے پھل کا سودا خشک کھجور کے عوض ماپ کر کرنے سے منع فرمایا۔ اور انگور کی فروخت منقّہ کے عوض ماپ کر۔ اور کھیتی کا سودا گندم کے عوض ماپ کرکرنے سے بھی۔
حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ مزابنہ یہ ہے کھجور کے (تازہ)پھل کی فروخت خشک کھجورکے عوض ماپ کر کی جائے اور خشک انگور (کشمش و منقّہ) کی فروخت تازہ انگور کے عوض ماپ کر ہو اور ہر پھل کی(بیع کو)اندازہ سے کرنے سے(منع فرمایا)۔
حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے درخت پر جو پھل ہے اسے خشک کھجور کے ایک معیّن ماپ کے عوض فروخت کیا جائے۔ اس شرط پر کہ زیادہ ہوا تو میرا اور کم ہواتو بھی نقصان میرا۔