عثمان شحاّم کہتے ہیں میں اور فرقدسَبَخی مسلم بن ابو بکرہ کے پاس گئے اور وہ اپنی زمینوں پر تھے۔ ہم ان کے پاس اندر گئے اور پوچھا کیا آپ نے اپنے والد کو فتنوں کے بارہ میں کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں میں نے حضرت ابو بکرہؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کچھ فتنے ہوں گے، سنو! پھر ایک(زبردست) فتنہ ہوگا جس میں بیٹھا ہوا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا اس کی طرف دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ خبردار جب وہ نازل ہو یا فرمایا واقع ہو تو جس کے اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں میں جارہے اور جس کی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں میں جارہے اور جس کی زمین ہو تو وہ اپنی زمین پر چلا جائے۔ وہ کہتے ہیں اس پر ایک شخص نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! بتائیے اگر کوئی ایسا ہو جس کے نہ اونٹ ہوں نہ بکریاں ہوں اور نہ زمین ہو؟ آپؐ نے فرمایا وہ اپنی تلوار اٹھائے اور اس کی دھارکو پتھر پر مارے (یعنی کند کرے) اگر طاقت رکھتا ہو تو بھاگ کربچ جائے۔ اے اللہ !کیا میں نے پہنچا دیا؟اے اللہ !کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ وہ کہتے ہیں اس پر ایک شخص نے کہا یا رسولؐ اللہ! فرمائیے اگر مجھے مجبور کیا جائے یہانتک کہ مجھے دوصفوں میں سے کسی ایک میں یا دوگروہوں میں سے کسی ایک میں لے جایا جائے اور کوئی شخص مجھے اپنی تلوارمارے یا تیر آئے اور مجھے مار ڈالے۔ آپؐ نے فرمایا وہ اپنا گناہ اور تیرا گناہ لے کر لوٹے گا اور وہ آگ والوں میں سے ہو جائے گا۔ایک روایت اِنِِ اسْتَطَاعَ النَّجَآ ئَتک ہے اور اس کے بعد کے الفاظ کا ذکر نہیں۔
فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَحْنَفُ قَالَ قُلْتُ أُرِيدُ نَصْرَ ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - يَعْنِي عَلِيًّا - قَالَ فَقَالَ لِي يَا أَحْنَفُ ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ میں نکلا اور میرا ارادہ اس شخص کا تھا۔ تو مجھے حضرت ابو بکرہؓ ملے۔ انہوں نے مجھ سے کہا اے احنف !کہا ں کا ارادہ ہے؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ میں رسول اللہﷺ کے چچا زاد کی مدد کرنا چاہتا ہوں _ اُن کی مراد حضرت علیؓ سے تھی _ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے کہا اے احنف! واپس چلے جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں سے ایک دوسرے کا آمنا سامنا کریں تو قاتل اور مقتول دونوں آگ میں جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہایا کہا گیا یا رسولؐ اللہ! یہ تو قاتل ہوا مگر مقتول کیوں؟آپؐ نے فرمایا اس نے بھی تو اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔
حضرت ابو بکرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جب دو مسلمانوں میں سے ایک اپنے بھائی پر اسلحہ اٹھائے تو وہ دونوں جہنم کے گِرتے کنارے پر ہیں۔ جونہی دونوں میں سے ایک اپنے ساتھی کو قتل کرے تو دونوں اس میں داخل ہوجائیں گے۔
نے فرمایا کہ قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ’’ھَرْج‘‘ بکثرت نہ ہوجائے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! ھَرْجکیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا قتل و غارت، قتل و غارت۔
حضرت ثوبانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا اللہ تعالیٰ نے میرے لئے ز مین کو سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھا۔ یقینا میری اُمت کی سلطنت وہاں تک ہو گی جو اس میں سے میرے لئے سمیٹی گئی اور مجھے دو خزانے سرخ اور سفید عطا کئے گئے اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے دعا کی کہ وہ اسے ایسے قحط سے جو پوری امت کو لپیٹ میں لے لے ہلاک نہ کرے اور ان پر سوائے ان کے اپنوں کے کوئی دشمن مسلّط نہ کرے کہ جو ان کا شیرازہ بکھیر دے اور میرے رب نے فرمایا اے محمدؐ ! جب میں کوئی فیصلہ کروں تو اسے ردنہیں کیا جاسکتا۔ میں نے تیری امت کے لئے تجھے عطا کیا کہ میں انہیں ایسے قحط سے ہلاک نہ کروں گاجو ساری امت کو اپنی لپیٹ میں لے لے اور نہ ان پراُن کے اپنوں کے سواکوئی دشمن مسلط کروں گا جو ان کا شیرازہ بکھیر دے اگرچہ وہ اُن کے خلاف زمین کے کناروں سے جمع ہو جائیں _ یا بِأَقْطَارِھَا کی جگہ بَیْنَ أَقْطَارِھَا فرمایا _ ہاں مگر اُن میں سے ہی بعض بعض کو ہلاک کریں گے اور اُن کے ہی بعض بعض کو قیدی بنائیں گے۔ایک روایت میں (قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِﷺ اِنَّ اللَّہَ زَوَی لِی الْاَرْضَ فَرَأَیْتُ مَشَارِقَھَا وَ مَغَارِبَھَا وَ اِنَّ اُمَّتِیْ سَیَبْلُغُ مُلْکُھَا مَا زُوِیَ لِیْ مِنْھَا وَأُعْطِیْتُ الْکَنْزَیْنِ الْاَحْمَرَ وَالْاَبْیَضَ کی بجائے) أَ نَّ النَّبِیَّﷺ قَالَ اِنَّ اللَّہَ زَوَی لِی الْاَرْضَ حَتَّی رَأَیْتُ مَشَارِقَھَا وَ مَغَارِبَھَا وَ أَعْطَانِی الْکَنْزَیْنِ الْاَحْمَرَ وَالْاَبْیَضکے الفاظ ہیں۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔
عامر بن سعید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہﷺ (مدینہ کے) نواحی علاقہ سے تشریف لائے اور جب بنی معاویہ کی مسجد کے قریب سے گذرے تو اس میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی۔ ہم نے بھی آپؐ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپؐ نے اپنے رب کے حضور لمبی دعا کی پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں۔ اس نے مجھے دو عطا فرمادیں اور ایک مجھے عطا نہ کی۔ میں نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ وہ میری (ساری) امت کو قحط سے ہلاک نہ کرے۔ اس نے میری دعا قبول فرمائی اور میں نے اس سے دعا کی کہ میری (ساری) امت کو ڈوبنے سے ہلاک نہ کرے۔ اس نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی اور میں نے اس سے دعا کی کہ وہ انہیں آپس میں نہ لڑنے دے۔ اس نے میری یہ دعا قبول نہ فرمائی۔ ایک روایت میں (عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِﷺ أَقْبَلَ ذَاتَ یَوْمٍ مِنَ اْلعَالِیَۃِ حَتَّی اِذَا مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِیْ مُعَاوِیَۃَکی بجائے) عَنْ اَبِیْہ أَنَّہُ أَقْبَلَ مَعَ رَسُوْلِ اللَّہِﷺ فِیْ طَائِفَۃٍ مِنْ أَصْحَابِہِ فَمَرَّبِمَسْجِدِ بَنِیْ مُعَاوِیَۃَکے الفاظ ہیں۔
وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ النَّاسِ بِكُلِّ فِتْنَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ السَّاعَةِ وَمَا بِي إِلاَّ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسَرَّ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يُحَدِّثْهُ غَيْرِي وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِ عَنِ الْفِتَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَعُدُّ الْفِتَنَ
حضرت حذیفہ بن یمانؓ کہتے ہیں اللہ کی قسم میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ ہر فتنہ کو جانتا ہوں جو میرے اور قیامت کے درمیان ہونے والا ہے اور میری کیا حیثیت ہے۔ رسول اللہﷺ نے مجھے رازدارانہ رنگ میں اس بارے میں بتایا جو میرے سوا آپؐ نے کسی کو نہیں بتایا۔ ہاں جو رسول اللہﷺ نے فتنوں کے بارہ میں بیان فرمایا مجلس میں (بھی) بیان فرمایا جس میں میں بھی موجودہوتا تھا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا _اور آپؐ فتنوں کوگِن گِن کر بتارہے تھے _ ان میں سے تین ایسے ہیں جو قریب ہے کہ کچھ نہ چھوڑیں۔ بعض فتنے ان میں سے موسمِ گرما کی آندھیوں کی طرح ہیں۔ ان میں سے کچھ چھوٹے ہیں اور ان میں سے کچھ بڑے ہیں۔ حضرت حذیفہؓ کہتے ہیں کہ ان میں سے میرے سوا یہ سب لوگ گزرگئے۔
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ہم میں کھڑے ہوئے اور اس موقع پر قیامت تک ہونے والی کوئی بات نہ چھوڑی مگر اسے بیان کردیا۔ یاد رکھا جس نے یاد رکھا اور بھلا دیاجس نے بھلا دیا۔ میرے یہ ساتھی اسے جانتے ہیں ہاں جب کوئی ایسی بات ہوتی ہے جسے میں بھول گیا ہوں تو جب میں اسے دیکھتا ہوں تو وہ مجھے یاد آجاتی ہے جیسے ایک آدمی کسی آدمی کا چہرہ اس کی عدم موجودگی میں یاد رکھتا ہے۔ پھر جب اسے دیکھتا ہے تو اسے پہچان لیتا ہے۔ ایک روایت میں وَ نَسِیَہُ مَنْ نَسِیَہُ کے بعد کے الفاظ نہیں ہیں۔