بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 78 hadith
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جنت ناپسندیدہ باتوں سے گھِری ہوئی ہے اور جہنم(نفسانی) خواہشات سے گھِری ہوئی ہے۔
حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں سوار سو سال تک چلے گا وہ اسے طے نہ کر سکے گا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے کہ ایک نہایت عمدہ دوڑ کے لئے تیار کئے گئے تیز رفتار گھوڑے کاسوار(اس کے سائے کے نیچے)سو سال چلے گا مگر اس کو طے نہ کر پائے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا اللہ عزّوجل فرماتاہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کیا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گذرا۔ اللہ کی کتاب میں اس کی تصدیق یہ ہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ۔ ۔ ۔ پس کوئی ذ ی روح نہیں جانتا کہ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے اس کی جزا کے طور پر٭ جو وہ کیا کرتے تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا اللہ عزّوجل فرماتا ہے میں نے اپنے صالح بندوں کے لئے ذخیرہ کے طور پروہ کچھ تیار کیا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی شخص کے دل میں اس کا خیال گذرا۔ اکتفا کرو اس پر جو اللہ نے تمہیں بتا دیا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ عزّوجل فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ذخیرہ کے طور پروہ کچھ تیار کیا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی شخص کے دل میں اس کا خیال گذرا۔ جواللہ نے تمہیں بتا دیا اس پر اکتفا کرو اور یہ (آیت) پڑھی فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ1۔ ۔ ۔ پس کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے؟
حضرت سہل بن سعد الساعدیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کی ایک مجلس میں حاضر تھا جس میں آپؐ نے جنت کے بارے میں بیان کیا یہاں تک کہ آپؐ نے اپنی بات پوری کی اور آپﷺ نے اپنی گفتگو کے آخر میں فرمایا اس میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی شخص کے دل میں اس کا خیال گذرا۔ پھر یہ آیت پڑھی تَتَجَافَی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ۔ ۔ ۔ ۔ ترجمہ: ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوجاتے ہیں (جبکہ) وہ اپنے رب کو خوف اور طمع کی حالت میں پکار رہے ہوتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں کوئی ذ ی روح نہیں جانتا کہ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے اس کی جزا کے طور پر جو وہ کیا کرتے تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں سوار سو سال تک چلتا رہے گا۔ ایک روایت میں مزید ہے کہ لَایَقْطَعُھَا وہ سوار اس (فاصلے)کوطے نہ کرپائے گا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جنتیوں سے فرمائے گا اے جنت والو! وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم حاضر ہیں اور یہ ہماری خوش بختی ہے اور خیر تیرے ہاتھ میں ہے۔ وہ کہے گا کیا تم راضی ہو؟ وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم کیوں نہ راضی ہوں جبکہ تونے ہمیں وہ دیا ہے جو اپنی مخلوق میں سے تو نے کسی کو نہیں دیا۔ اس پروہ فرمائے گا کیا میں تمہیں اس سے افضل چیز نہ دوں وہ کہیں گے اے ہمارے رب! اس سے افضل چیز کونسی ہے؟وہ فرمائے گا میں تم پر اپنی رضامندی نازل کرتا ہوں اور اس کے بعدمیں کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔
حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا جنت والے جنت میں بالاخانہ اس طرح دیکھیں گے جیسے تم ستارہ آسمان میں دیکھتے ہو۔ اور حضرت ابو سعید خدر یؓ اس بارے میں بیان کرتے ہیں کہ جس طرح تم روشن ستارے کو مشرقی یا مغربی افق میں دیکھتے ہو۔