بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
حضرت زینب بنت حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہؓ نے حضرت زینب بنت جحشؓ سے روایت کی کہ نبیﷺ نیند سے بیدار ہوئے تو آپؐ فرما رہے تھے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ عرب کے لئے ہلاکت ہے اس شر کی وجہ سے جو قریب آگیا ہے۔ آج یاجوج اور ماجوج کی دیوار میں اتنا رخنہ پڑگیا ہے_ اور سفیان نے اپنے ہاتھ سے دس بنایا _ وہ (حضرت زینب بنت جحشؓ ) فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ موجود ہیں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں جب فسق و فجور کی کثرت ہوجائے گی۔
حضرت زینب بنت ابی سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہؓ بنت ابو سفیان نے انہیں بتایا کہ نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت زینب بنتِ جحشؓ نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اللہﷺ باہر تشریف لائے اور آپؐ سخت فکرمند تھے اور آپؐ کا چہرہ سرخ تھا اور آپؐ کہہ رہے تھے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، عرب کے لئے اس شر کی وجہ سے جو قریب آگیا ہے ہلاکت ہے۔ آج یاجوج اور ماجوج کی دیوار میں اتنا رخنہ پڑ گیا ہے اور آپؐ نے انگوٹھے اور ساتھ کی انگلی سے حلقہ بنایا۔ وہ کہتی ہیں میں نے کہا یا رسولؐ اللہ ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے جبکہ ہم میں نیک ہوں گے؟آپؐ نے فرمایا ہاں جب فسق و فجور کی کثرت ہوجائے۔
عبید اللہ بن قبطیہ کہتے ہیں کہ حارث بن ابی ربیعہ اور عبد اللہ بن صفوان ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ کے پاس گئے اور میں ان دونوں کے ساتھ تھا۔ ان دونوں نے آپؓ سے اس لشکر کے بارہ میں پوچھا جسے دھنسایا جائے گا اور یہ ابن زبیرکے زمانے کی بات ہے۔ آپؓ (حضرت ام سلمہؓ )نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا کہ ایک پناہ لینے والا بیت اللہ میں پناہ لے گا تو اس کی طرف ایک لشکر بھجوایا جائے گا۔ جب وہ میدان بیداء میں ہوں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اس شخص کا کیا ہو گا جو (اُن میں شامل ہونا) ناپسند کرتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا لیکن قیامت کے دن اسے اس کی نیت کے مطابق اٹھا یا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں میں ابو جعفر سے ملِا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپؓ (حضرت ام سلمہؓ ) فرماتی ہیں ’’بِبَیْدَائَ مِنَ الْاَرْضِ‘‘ کہ زمین کے کسی بھی میدان میں۔ اس پر ابو جعفر نے کہا ہر گز نہیں خدا کی قسم یہ مدینہ کا میدان ہے۔
امیہ بن صفوان سے روایت ہے انہوں نے اپنے داداحضرت عبد اللہ بن صفوانؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے ام المؤمنین حضرت حفصہؓ نے بتایا کہ انہوں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ لڑائی کی نیت سے ایک لشکراس گھر(خانہ کعبہ)کا قصد کرے گا یہانتک کہ وہ لوگ میدان بیداء میں ہوں گے تو ان کے درمیانے حصہ کو دھنسا دیا جائے گا اور ان کا پہلا حصہ آخری حصہ کو پکارے گا۔ پھر وہ بھی دھنسا دئیے جائیں گے۔ ان سے کوئی بھاگ جانے والا ہی باقی رہے گا جو اُن کے بارہ میں بتائے گا تو ایک شخص نے کہا میں آپ کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے حضرت حفصہؓ کی طرف غلط بات منسوب نہیں کی اور میں حضرت حفصہؓ کے بارہ میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے نبیﷺ کی طرف غلط بات منسوب نہیں کی۔
عبد اللہ بن صفوان حضرت ام المؤ منینؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اس گھر یعنی کعبہ میں ایک قوم پناہ لے گی۔ انہیں اپنے دفاع کی کوئی طاقت ہوگی نہ بڑی تعداد ہوگی اور نہ ہی تیاری ہوگی۔ ان کی طرف ایک لشکر بھجوایا جائے گا یہانتک کہ جب وہ زمین کے ایک چٹیل میدان میں ہوگا تو انہیں دھنسا دیا جائے گا۔ (راوی) یوسف کہتے ہیں اس زمانہ میں اہل شام مکہ کی طرف سفر کرتے تھے تو عبد اللہ بن صفوان نے کہا اللہ کی قسم ! وہ یہ لشکرنہیں ہے۔ایک روایت میں عبداللہ بن صفوان کے اس فقرہ میں وَاللَّہِ مَا ھُوَ بِھَذَا الْجَیْشِ میں اَلْجَیْش کا لفظ نہیں ہے۔
حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے بیان فرمایا رسول اللہﷺ اپنی نیند میں بے چین سے ہوئے۔ ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے اپنی نیند میں وہ کیا ہے جو آپؐ نہیں کیا کرتے۔ آپؐ نے فرمایا تعجب ہے کہ میری امت کے لوگ قریش کے ایک آدمی کے لئے جس نے بیت اللہ میں پناہ لے رکھی ہوگی(حملہ کا) قصد کریں گے یہانتک کہ جب وہ بیداء میں ہوں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا۔ ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! رستہ میں تو سب لوگ ہوتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ہاں اس میں ایسے بھی ہیں جوارادۃًآئے ہوں گے اور ایسے بھی ہیں جو مجبوراً آئے ہوں گے اور مسافر بھی ہوں گے_یہ سب یک دفعہ ہلاک ہو ں گے۔ وہ مختلف(مقاصد)سے نکلیں ہوں گے _اللہ انہیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔
حضرت اسامہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے مدینہ کے قلعوں میں سے ایک قلعہ کے اوپر سے جھانکا اور فرمایاکیا تم وہ دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں؟میں تمہارے گھروں میں فتنوں کوبارش کے قطروں کی طرح گرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ضرور ایسے فتنے ہوں گے جن میں بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے سے بہتر ہوگا اور ان میں کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ جو ان کے سامنے کھڑا ہوگا تو اُسے وہ پچھاڑ دیں گے اور جو ان (فتنوں کے زمانہ) میں پناہ کی جگہ پالے تو چاہئے کہ اس میں پناہ لے لے۔ راوی ابو بکر کی روایت میں یہ مزید ہے کہ نمازوں میں سے ایک نماز ایسی ہے کہ جس کی یہ نماز رہ گئی تو گویا اس کا اہل و عیال اور مال تباہ ہوگیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایاایک ایسا فتنہ ہوگا جس میں سونے والا جاگنے والے سے بہتر ہو گا اور جاگنے والا کھڑے ہوئے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہوا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ پس جو کوئی پناہ یا بچنے کی جگہ پائے تو اسے چاہئے کہ پناہ لے لے۔