بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 26 hadith
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا رؤیاصالحہ نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ
حضرت ابو زبیرؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابرؓ بن عبداللہؓ کو کہتے ہوئے سناکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان کے لئے ممکن نہیں کہ وہ میری مشابہت اختیار کر سکے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ عنقریب مجھے بیداری میں بھی دیکھے گا یا (فرمایا)گویا کہ اس نے مجھے بیداری میں دیکھا۔ شیطان میرا تمثل اختیار نہیں کر سکتا۔
حضرت ابو قتادہؓ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے ہی دیکھا۔ بات یہ ہے کہ شیطان کے لئے ممکن نہیں کہ وہ میری صورت و شکل اختیار کر سکے اور آپؐ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی بُرا خواب دیکھے تو کسی کو شیطان کا اپنے ساتھ خواب میں کھیلنا نہ بتائے۔
حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ ؐ نے ایک بدوی سے جو آپؐ کے پاس آیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا سر کاٹا گیا ہے اور میں اس کے پیچھے جا رہا ہوں تو نبیﷺ نے اسے تنبیہ فرمائی اور فرمایا خواب میں شیطان کا اپنے ساتھ کھیلنا بیان نہ کرو۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ ایک بدوی نبیﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا یا رسولؐ اللہ!میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر کاٹ دیا گیا ہے اور وہ لڑھکتا جا رہا ہے اور میں اس کے پیچھے دوڑ رہا ہوں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے بدوی سے فرمایا شیطان جو تیرے ساتھ تیری خواب میں کھیلتا ہے اُسے لوگوں کے سامنے بیان نہ کر۔ راوی کہتے ہیں اس کے بعد میں نے نبیﷺ کو خطاب کرتے سنا۔ آپؐ نے فرمایا تم میں سے کوئی شیطان کا اپنے سے خواب میں کھیلنا بیان نہ کرے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا یا رسولؐ اللہ!میں نے خواب دیکھا ہے گویا میرا سر کاٹ دیا گیا ہے۔ راوی کہتے ہیں نبیﷺ مسکرائے اور فرمایا جب تم میں سے کسی کے ساتھ شیطان خواب میں کھیلے تو وہ اسے لوگوں میں بیان نہ کرے۔ایک اور روایت میں (إِذَا لَعِبَ الشَّیْطَانُ بِأَحَدِکُمْ کی بجائے) إِذَا لُعِبَ بِأَحَدِکُمْ کے الفاظ ہیں اور شیطان کا ذکر نہیں کیا۔
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباسؓ یا حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس آیا۔ ایک اورروایت میں ہے کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے انہیں بتایا کہ حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا یارسولؐ اللہ!میں نے رات خواب میں ایک بدلی دیکھی جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے اور میں نے دیکھا کہ اس میں سے لوگ اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کے لے رہے ہیں کوئی زیادہ اور کوئی کم اور میں نے آسمان سے زمین تک ایک رسی لٹکتی دیکھی اور میں نے آپؐ کو دیکھا کہ آپؐ نے اسے پکڑااور اوپر چڑھ گئے پھر آپؐ کے بعد ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ (بھی)اوپر چڑھ گیا پھر ایک اور شخص نے پکڑا اور وہ (بھی)اوپر چڑھ گیا پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا تو وہ اس کی وجہ سے ٹوٹ گئی۔ پھر اسے اس کے لئے جوڑ دیا گیا تو وہ بھی چڑھ گیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا یا رسولؐ اللہ!میرا باپ آپؐ پر قربان، اللہ کی قسم!آپؐ مجھے اجازت دیں کہ اس کی تعبیر کروں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایااس کی تعبیر بیان کرو۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا یہ جو بدلی ہے یہ اسلام کی بدلی ہے اور جو گھی اور شہد ٹپک رہا ہے یہ قرآن کی حلاوت اور ملائمت ہے اور جو لوگ اس میں سے ہاتھوں سے لے رہے ہیں تو وہ قرآن سے زیادہ یا کم لینے والے ہیں اور جو رسی آسمان سے زمین تک لٹک رہی ہے یہ وہ سچائی ہے جس پرآپؐ قائم ہیں اور جسے آپؐ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ آپؐ کو رفعت بخشے گا پھرآپؐ کے بعد ایک شخص اسے پکڑے گا وہ بھی اسی کے ذریعہ اوپر چڑھ جائے گا۔ پھر ایک اور شخص اسے پکڑے گا وہ بھی اسی کے ذریعہ اوپر چڑھ جائے گا پھر ایک اور شخص اسے پکڑے گا تو وہ ٹوٹ جائے گی پھر جوڑ دی جائے گی تووہ بھی اس کے ذریعہ اوپر چڑھ جائے گا۔ یا رسولؐ اللہ!میرا باپ آپؐ پر فدا ہو، فرمائیے میں نے صحیح تعبیر کی ہے یا نہیں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم نے کچھ ٹھیک بیان کیا ہے اور کچھ غلطی بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! آپؐ کواللہ کی قسم!آپؐ مجھے بتائیں کہ میں نے کہاں غلطی کی ہے؟ آپؐ نے فرمایا قسم نہ دو! ایک اور روایت میں ہے کہ نبیﷺ اُحد سے واپس تشریف لائے تو ایک شخص آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ایک اور روایت میں (إِنِّی أَرَی اللَّیْلَۃَ فِی الْمَنَامِ کی بجائے) إِنِّی رَأَیْتُ ہَذِہِ اللَّیْلَۃَ فِی الْمَنَامِ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں (فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَرَی اللَّیْلَۃَ فِی الْمَنَامِ ظُلَّۃً کی بجائے) فَقَالَ إِنِّی أَرَی اللَّیْلَۃَ ظُلَّۃٌکے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ اپنے صحابہؓ سے جو فرماتے تھے اُن میں یہ بھی ہے کہ تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہو وہ اسے بیان کرے میں اس کی تعبیر اس کے لئے کروں گا اور اس روایت میں رَ أَیْتُ ظُلَّۃً کے الفاظ ہیں۔