بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 6 of 26 hadith
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا رات میں نے دیکھا جیسے ایک سونے والا دیکھتا ہے گویا ہم عُقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں۔ ہمارے پاس ابن طاب کی تازہ کھجوروں میں سے تازہ کھجوریں لائی گئیں۔ میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ ہمارے لئے دنیا میں رفعت اور آخرت میں اچھا انجام ہوگا اور ہمارا دین عمدہ اور طیّب ہے۔
حضرت سمرہ بن جندبؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو لوگوں کی طرف اپنا چہرہ مبارک کرتے اور فرماتے کیا تم میں سے کسی نے گذشتہ رات کوئی خواب دیکھا ہے۔
حضرت ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایامیں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جس میں کھجور کے درخت ہیں تو میں نے خیال کیا کہ وہ یمامہ یا ھجر ہے لیکن وہ مدینہ یثرب نکلا اور میں نے اس رؤیا میں دیکھا کہ میں نے ایک تلوار لہرائی تو اس تلوار کا اوپر کا حصہ ٹوٹ گیا ہے یہ وہ تکلیف ہے جو اُحد کے دن مسلمانوں کو اٹھانی پڑی۔ میں نے اسے پھر دوسری دفعہ لہرایا تو وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگئی یہ وہ فتح ہے اور مؤمنوں کا اکٹھے ہونا ہے جو اللہ نے عطا فرمایا اور میں نے اس خواب میں گائیں بھی دیکھیں۔ اللہ(سراسر) خیر ہے تو یہ مؤ منوں میں سے وہ لوگ ہیں جو اُحد میں (شہید ہوئے)اور خیر تو وہ خیرہے جو اللہ نے اس کے بعد عطا فرمائی اور سچائی کا بہترین بدلہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بدر کے بعد عطا فرمایا۔
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں نبیﷺ کے زمانے میں مسیلمہ کذاب مدینہ میں آیا اور کہنے لگا اگر مجھے محمد(ﷺ )اپنے بعد امیر مقرر فرمائیں تو میں ان کی پیروی کروں گا۔ وہ اپنی قوم کے بہت سے لوگوں کے ساتھ وہاں آیا تھا۔ نبیﷺ اس کے پاس گئے آپؐ کے ساتھ حضرت ثابتؓ بن قیس بن شماس تھے اور نبیﷺ کے ہاتھ میں کھجور کی شاخ کا ایک ٹکڑا تھا۔ آپؐ وہاں کھڑے ہوئے جہاں مسیلمہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ٹھہرا ہوا تھا اور فرمایا اگر تم مجھ سے یہ ٹکڑا مانگو تو میں تمہیں یہ بھی نہیں دوں گا اور اللہ تعالیٰ کا جو حکم تیرے بارہ میں ہو چکا ہے اس سے تجاوز نہ کروں گا اور اگر تو پیٹھ پھیر کر چلا جائے گا تو اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کر دے گا اور میں تجھے (اس طرح) دیکھ رہا ہوں جو مجھے خواب میں تیرے بارے میں دکھایا گیا تھا جو دکھایا گیا تھا۔ اور یہ ثابتؓ ہے وہ تجھے میری طرف سے جواب دے گا۔ پھرآپؐ اس کے پاس سے تشریف لے آئے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں میں نے نبیﷺ کے اس قول کے بارہ میں پوچھا کہ میں تجھے وہی دیکھ رہا ہوں جو مجھے تیر ے بارہ میں خواب میں دکھایا گیا ہے تو مجھے حضرت ابوہریرؓ ہ نے بتایا کہ نبیﷺ نے فرمایا میں نے سوتے ہوئے اپنے ہاتھ میں دو سونے کے کنگن دیکھے تو مجھ پر گراں گذرے تو مجھے خواب میں وحی ہوئی کہ ان پر پھونک مارو۔ میں نے ان سے دو کذاب مراد لئے جو میرے بعد خروج کریں گے۔ ان میں سے ایک تو صنعاء کا عنسی ہے اور دوسرا یمامہ کا مسیلمہ ہے۔
ہمام بن منبّہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں یہ وہ احادیثہیں جو حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے بتائیں۔ پھر انہوں نے کچھ احادیث کا ذکر کیاجن میں (سے ایک یہ)ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اس دوران کہ میں سو رہا تھا میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے ہاتھ پر سونے کے دو کنگن رکھے۔ وہ مجھ پر گراں گذرے اور انہوں نے مجھے فکرمند کر دیا۔ میری طرف وحی کی گئی کہ ان دونوں پر پھونک مار۔ میں نے ان دونوں پر پھونک ماری۔ وہ دونوں جاتے رہے۔ میں نے ان سے یہ مراد لیاکہ وہ دو کذّاب ہیں جن کے درمیان میں ہوں ایک تو صنعاء کا رہنے والا ہے اور دوسرا یمامہ کا۔