بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اہلِ مدینہ کیلئے ذوالحلیفہ اہلِ شام کیلئے جُحفہ اہلِ نجد کیلئے قرن المنازل اور اہلِ یمن کیلئے یلملم میقات (احرام باندھنے کے مقام) مقرر فرمائے۔ فرمایا یہ (میقات) ان (علاقوں کے لوگوں )کے لئے ہیں نیز ان کے لئے بھی جو ان مقامات پر حج یا عمرہ کی نیت سے گزریں مگر یہاں کے رہنے والے نہ ہوں اور جو اُن سے وَرے ہوں تو وہ اپنے گھر سے احرام باندھیں اور اسی طرح باقی بھی(جو اُن سے وَرے ہوں ) یہاں تک کہ اہل مکہ وہیں (مکہ) سے احرام باندھیں گے۔
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا جب اُن سے احرام باندھنے کی جگہ کے بارہ میں پوچھا گیا۔ تو انہوں نے کہا میں نے سنا ہے۔ پھر وہ رُک گئے۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا کہ(میں نے) نبیﷺ (سے سنا۔)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے مدینہ والوں کیلئے ذوالحلیفہ، شام والوں کیلئے جُحْفَہ اور نجد والوں کیلئے قرن المنازل اور یمن والوں کیلئے یلملم میقات مقرر فرمائے اور فرمایا یہ ان (علاقوں کے لوگوں ) کے لئے ہیں نیز ہر آنے والے کے لئے بھی جو حج اور عمرے کے ارادہ سے دوسری جگہوں سے ہو کر ان (مقامات) پر سے گزریں اور جو اُن سے وَرے ہوں وہ جہاں سے روانہ ہوں یہاں تک کہ کہ اہل مکہ، مکہ سے۔
سالم بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اہلِ مدینہ کے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ، اور اہلِ شام کے احرام باندھنے کی جگہ مَھْیَعَۃ اور یہ جُحفۃ (ہی) ہے۔ اور اہلِ نجد کے احرام باندھنے کی جگہ قرن ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ بیان کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اور میں نے خود آپؐ سے نہیں سنا کہ اہلِ یمن کے احرام باندھنے کی جگہ یلملم ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اہلِ مدینہ ذوالحلیفہ سے اور اہلِ شام جُحْفَۃَسے اور اہلِ نجد قرن سے احرام باندھیں اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں مجھے یہ بھی بتایا گیاہے کہ آپؐ نے فرمایا: اہلِ یمن یلملم سے احرام باندھیں۔
سالم اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اہلِ مدینہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں اور اہلِ شام جحفۃ سے احرام باندھیں اور اہلِ نجد قرن سے احرام باندھیں حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں مجھ سے ذکر کیا گیا ہے اور میں نے خودنہیں سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اور اہلِ یمن یلملم سے احرام باندھیں۔ ابوزبیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے سنا اور ان سے احرام باندھنے کی جگہ کے بارہ میں پوچھا جارہا تھا۔ راوی نے کہا میں نے سنا اور مجھے خیال ہے کہ انہوں نے اس کو نبیﷺ کی طرف منسوب فرمایا اور کہا کہ اہلِ مدینہ کے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ ہے اور ایک دوسرا راستہ جحفۃ ہے اور اہلِ عراق کے احرام باندھنے کی جگہ ذاتِ عرق ہے اور نجد والوں کے احرام باندھنے کی جگہ قرن ہے اور اہلِ یمن کے احرام باندھنے کی جگہ یلملم ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کا تلبیہ یہ تھا۔ ’’میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ سب تعریف اور نعمت تیری ہے اور بادشاہت بھی، تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘ راوی کہتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس میں مزید کہا کرتے تھے: ’’میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں اور یہ سعادت ہے اور بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے۔ میں حاضر ہوں اور رغبت اور عمل تیری طرف ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب آپؐ کی اونٹنی آپؐ کومسجد ذی الحلیفہ کے پاس لے کر سیدھی کھڑی ہوجاتی تھی تو آپؐ کہتے میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں۔ سب تعریف اور نعمت تیرے لئے ہے اور بادشاہت بھی، تیرا کوئی شریک نہیں۔ راوی کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے تھے یہ رسول اللہﷺ کا تلبیہ تھا۔ نافع کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ یہ مزید کہا کرتے تھے۔ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں۔ یہ سعادت در سعادت ہے اور بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے میں حاضر ہوں اور رغبت اور عمل بھی تیری طرف ہے۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ تلبیہ میں نے رسول اللہﷺ کی زبان مبارک سے اخذ کیا ہے۔
سالم بن عبداللہ بن عمرؓ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ کو تلبیہ کہتے سنا۔ آپؐ اپنے بالوں کو (خطمی وغیرہ سے) جمائے ہوئے تھے۔ آپؐ کہہ رہے تھے اے اللہ !میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں۔ سب تعریف اور نعمت تیرے لئے ہے اور بادشاہت بھی۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ آپؐ ان کلمات سے زیادہ نہیں کہتے تھے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماکہتے تھے کہ رسول اللہﷺ ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھتے اور پھرجب آپؐ کی اونٹنی مسجد ذوالحلیفہ کے پاس آپؐ کو لے کراچھی طرح کھڑی ہوجاتی تو ان کلمات کے ساتھ تلبیہ کہتے اور حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماکہتے تھے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے انہیں الفاظ میں تلبیہ کہا کرتے اور آپؐ یوں کہتے ’’میں حاضر ہوں اے اللہ!حاضرہوں، میں حاضرہوں۔ یہ سب سعادت در سعادت ہے اور سب بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے میں حاضر ہوں اور رغبت اور عمل تیری طرف ہے۔